ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / امریکا اور روس شام میں جنگ بندی کے قریب پہنچ گئے

امریکا اور روس شام میں جنگ بندی کے قریب پہنچ گئے

Sat, 27 Aug 2016 15:13:55    S.O. News Service

جنگ بندی کے لیے بشارالاسد کو طاقت کا استعمال ترک کرنا ہوگا:جان کیری

نیویارک،27اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنیوا میں اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لافروف سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد جنگ زدہ علاقے حلب میں فوجی کارروائی جاری رکھنے پر مُصر ہیں۔ تاہم واشنگٹن نے ماسکو کے ساتھ مل کر جنگ بندی کا بنیادی فارمولہ طے کیا ہے جس کے چند نکات پر اتفاق رائے ابھی باقی ہے۔جان کیری اور لافروف کے درمیان دس گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے میڈیا کو بتایا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لوروف اور انھیں شام میں جنگ بندی پر آگے بڑھنے کے راستے کا واضح اندازہ ہو گیا ہے لیکن اب بھی چند تفصیلات پر کام کرنا باقی ہے۔ روسی ہم منصب کے ہمراہ جنیوا میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جان کیری نے کہا کہ بشارالاسد حلب میں طاقت کے استعمال اور فوجی کارروائی جاری رکھنے پر قائم ہیں تاہم روس اور امریکا جنگ زدہ علاقے میں جنگ بندی کے ایک ابتدائی فارمولے کی تیاری پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جنگ بندی کی بحالی اور امدادی سامان کی زیادہ بہتر رسائی کے اقدام پر زیادہ تر تکنیکی بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔اس موقع پر روسی وزیرخارجہ سیرگئی لافروف نے بھی اس بات کی تصدیق کہ کہ امریکا اور روس دونوں حلب میں جنگ بندی کے روڈ میپ کے قریب پہنچ گئے ہیں تاہم ابھی معاہدے کو حتمی شکل دینا باقی ہے۔ کیونکہ تمام مسائل حل نہیں ہوئے ہیں۔امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے شام کے لیے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا شام کے متحارب فریقین کو لڑائی روکنے، بات چیت شروع کرنے اور سیاسی انتقال اقتدار پر قائل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ شام کا مسئلہ سیاسی ہے اور اسے بات چیت ہی کے ذریعے حل ہونا چاہیے۔ حلب میں جنگ بندی کے حوالے سے روس اور امریکا کے موقف میں قربت پیدا ہوئی ہے اور شام کے تنازع میں دونوں ملک باہمی تعاون کے کسی حتمی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ حلب اسدی فوج اور اس کے حلیفوں کی مسلسل بمباری کی زد میں ہے۔ جنگ بندی کے لیے ہمیں حقیقی ویژن درکار ہے۔ جنگ سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان کی فراہمی بھی انتہائی ضروری ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ حلب میں جنگ بندی کے لیے ضمانتیں کون فراہم کرے گا تو جان کیری کا کہنا تھا کہ حلب میں جنگ بندی کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا اور نہ ہی کسی فارمولے کو نافذ کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ البتہ طرفین (امریکا، روس)موثر جنگ بندی کی ضرورت کے قائل ہیں۔ ہم خطے کو پرامن بنانے کے لیے جنگ بندی کے لیے کوششیں اور رابطے جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتیہوئے روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے کہا کہ ماسکو واشنگٹن کے ساتھ شام کے تنازع کے حل کے حوالے سے باہمی اعتماد کے فروغ کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا مسئلہ ان عسکری گروپوں کا ہے جو اتحادی فوج کے ساتھ ہیں مگر النصرہ کے زیرقبضہ علاقوں میں لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم نے شامی اپوزیشن کے ایسے گروپوں کی تفصیلات حاصل کی ہیں جو جنگ بندی کی پابندی کرنے پر تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے باہمی بات چیت کے دوران اس بات پرغورکیا ہے کہ اگر جنگ بندی کے بعد اس کی خلاف ورزی کی جائے تو اسے کیسے نمٹا جائے۔ بہر حال اس ضمن میں ماسکو اور واشنگٹن باہمی رابطے بڑھانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماسکو کو حمیمیم مرکز کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ داریا کے علاوہ کسی دوسرے علاقے میں بھی روس کی نگرانی میں جنگ بندی کی جاسکتی ہے۔لافروف نے کہا کہ حلب، منبج اور الحسکہ میں محاصرے کا شکار شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اقوام متحدہ کے امن مندوب دی میستورا کی امن مساعی کا خیر مقدم کرتا ہے اور ان کے ساتھ ہرممکن تعاون جاری رکھے گا۔


Share: