نئی دہلی، 26؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج اسکارپین لیک معاملے کوایک طرح سے نظراند از کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی زیادہ تشویش کی بات نہیں ہے لیکن کچھ فکر والے شعبے ہیں کیونکہ وزارت اس کو سب سے خراب صورت حال مان کر چل رہی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ’دی آسٹریلین‘اخبار کے ویب پورٹل پر ڈالے گئے لیک دستاویزات میں اسکار پین کے کسی اسلحہ نظام کا ذکر نہیں ہے جیسا کہ میڈیا میں خبریں آئی ہیں ۔پاریکر نے کہا کہ بحریہ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ زیادہ تر لیک ہوئے دستاویزات تشویش پیدا کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسکارپین آبدوز نے سمندری ٹیسٹ بھی مکمل نہیں کیا ہے جو یہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ پانی کے اندر کس طرح کام کرے گی۔ہندوستانی بحریہ نے اسکار پین دستاویزات لیک معاملے کو فرانس کے ڈائریکٹر جنرل آف آرماننٹ کے سامنے اٹھایا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں رپورٹ کا انتظار ہے، واقعی ویب سائٹ پر ڈالے گئے دستاویزات زیادہ تشویش والے نہیں ہے، ہم خود یہ مان رہے ہیں کہ یہ لیک ہوئے ہیں اور ہم سب احتیاط برت رہے ہیں۔پاریکر نے کہاکہ جو مجھے بتایا گیا ہے، اس کے مطابق یہ مانتے ہوئے کچھ فکر کے علاقے ہیں کہ جو لیک ہونے کا دعوی کیا گیا ہے، وہ واقعی میں لیک ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم اسے سب سے بری صورت حال مان رہے ہیں،لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس میں زیادہ تشویش والی بات نہیں ہے کیونکہ ہم صحیح تناظر میں چیزوں کو رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔