ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے ساتھ چینی فوجیوں کی جھڑپ پر اپوزیشن نے حکومت کو بنایا نشانہ

اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے ساتھ چینی فوجیوں کی جھڑپ پر اپوزیشن نے حکومت کو بنایا نشانہ

Wed, 14 Dec 2022 10:56:20    S.O. News Service

نئی دہلی، 14؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)9 دسمبر کو اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے ساتھ چینی فوجیوں کی جھڑپ میں اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔اگرچہ اس جھڑپ میں دونوں ممالک کے فوجی زخمی ہوئے ہیں اورزخمیوں میں چینی فوجیوں کی تعداد زیادہ ہے- مگر اپوزیشن نے  اس بات کو لے کر حکومت  کا گھیراو کیا کہ  جھڑپ 9 دسمبر کو ہوئی تھی، مگر یہ خبر اتنی تاخیر سے کیوں   سامنے آئی ؟  عوامی حلقوں میں بھی یہ کہا جارہا ہے کہ  آج کے زمانے میں، جہاں وہاٹس ایپ، ٹوئٹر اور فیس بُک وغیرہ جیسے سوشیل میڈیا میں  تیزی سے خبریں وائرل ہوجاتی ہیں ، مگر  اتنی بڑی جھڑپ   کی خبر تاخیر باہر نہیں آئی،  یہ اپنے آپ میں سوالیہ نشان ہے۔

 منگل کو دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر کافی ہنگامہ آرائی ہوئی، اور اپوزیشن لیڈروں نے حکومت سے وضاحت طلب کی-ا س سلسلے میں کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس کے پہلے گھنٹے میں کارروائی روک دی اور پھر سرحدی جھڑپ پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے- کانگریس صدر اور لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ حکومت کو چینی مداخلت کے بارے میں منصفانہ اور ایماندار ہونا چاہئے- ہم قومی سلامتی کے مسائل پر ملک کے ساتھ ہیں اور اس پر سیاست نہیں کرنا چاہیں گے، لیکن مودی حکومت کو اپریل 2020سے ایل اے سی کے ساتھ تمام مقامات پر چینی تجاوزات اور تعمیرات کے بارے میں ایماندار طریقہ سے ملک کے عوام کو بتانا چاہئے- اسی دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ ہندوستان کی ایک انچ زمین پر کوئی قبضہ نہیں کر سکتا- میں جوانوں کی بہادری کی تعریف کرتا ہوں، ہمارے فوجیوں نے فوری طور پر تمام دراندازوں کو بھگا دیا اورسرحد کی حفاظت کی- مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کانگریس نے راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کے ایف سی آر اے (فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ) رجسٹریشن کی منسوخی سے متعلق سوالات سے بچنے کیلئے پارلیمنٹ میں سرحدی مسئلہ اٹھایا ہے- امیت شاہ نے الزام لگایا کہ راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کو چینی سفارت خانے سے مبینہ طور پر 1.35کروڑ روپے کی گرانٹ ملی تھی، جو ایف سی آر اے قانون اور اس کے اصولوں کے مطابق نہیں تھی، اس لیے اس کی رجسٹریشن منسوخ کر دی گئی- وزیر داخلہ نے آنجہانی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی مرحوم شخصیت پر الزام لگایا کہ چین سے محبت کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت ترک کر دی گئی- میں کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک پی ایم مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت ہے، کوئی ہماری ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کر سکتا- وہیں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ایوان میں اس معاملے پر بیان دیا-

انہوں نے کہا کہ9دسمبر کوپی ایل اے کے دھڑے نے توانگ سیکٹر میں LACپر تجاوزات کرکے یکطرفہ طور پر جمود کو تبدیل کرنے کی کوشش کی-ہماری فوج نے عزم کے ساتھ چین کی اس دراندازی کا مقابلہ کیا- اس تصادُم میں ہاتھا پائی ہوئی- ہندوستانی فوج نے بہادری سے پی ایل اے کو ہماری سرزمین پر قبضہ کرنے سے روکا اور انہیں اپنی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا- وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ میں ایوان کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا کوئی فوجی نہیں مرا ہے اور نہ کوئی شدید زخمی ہوا ہے-ہندوستانی فوجی کمانڈروں کی بروقت مداخلت کی وجہ سے پی ایل اے کے دستے واپس اپنی پوزیشن پر چلے گئے- اس واقعے کے بعد علاقے کے مقامی کمانڈر نے اپنے چینی ہم منصب سے 11 دسمبر کو طے شدہ انتظامات کے تحت فلیگ میٹنگ کی اور واقعے پر تبادلہ خیال کیا- چین کی جانب سے ایسی کارروائی کی تردید کی گئی اور سرحد پر امن برقرار رکھنے کو کہا گیا- سفارتی سطح پر چینی فریق کے ساتھ بھی یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے- توانگ میں جھڑپ پر چینی فوج نے کہا کہ ہندوستانی فوجیوں نے غیر قانونی طور پر متنازعہ سرحد پار کی تھی- اس سے قبل چین کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پرتشدد جھڑپوں کی اطلاعات کے بعد ہندوستان کی سرحد پر صورتحال مستحکم ہے- چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ دونوں فریقوں نے سفارتی اور فوجی ذرائع سے سرحدی معاملات پر ہموار رابطے کو برقرار رکھا ہے- اس معاملے پر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ ملک کے وزیر اعظم سیاسی قیادت کے معاملہ میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں - یہ تصادُم 9 تاریخ کو پیش آیا، اور آپ آج پارلیمنٹ میں بتار ہے ہیں، میڈیااگر اس تصادُم پر بات نہ کرتا تو آپ خاموش رہتے، یہ سب اُن (پی ایم مودی)کی ناکامی ہے-ملک کے وزیراعظم چین کا نام لینے سے خوف کھاتے ہیں - کانگریس ایم پی ششی تھرور نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین توانگ پر نظریں جمائے ہوئے ہے اور ہمیں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے- ہر جماعت، ہر شخص اس موضوع پر ہماری فوج کے ساتھ ہے-حکام نے کہا کہ مخصوص سیکورٹی خدشات کی صورت میں لڑاکا طیاروں کی تعیناتی سمیت معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر عمل کیا جا رہا ہے- انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ اور فوج دونوں صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں -حالیہ پیشرفت سے واقف اہلکاروں نے اشارہ کیا کہ ہندوستانی فضائیہ نے علاقے میں اپنے لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے-


Share: