ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ادھیر رنجن چودھری کے قابل اعتراض ریمارکس پرلوک سبھا میں ہنگامہ آرائی

ادھیر رنجن چودھری کے قابل اعتراض ریمارکس پرلوک سبھا میں ہنگامہ آرائی

Fri, 11 Aug 2023 22:21:38    S.O. News Service

نئی دہلی،11/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کے قابل اعتراض ریمارکس کے بعد حکمراں پارٹی نے ایوان میں ہنگامہ کھڑا کر دیا اور ہاتھا پائی تک کی نوبت آگئی۔کانگریس لیڈر ادھیرنجن چودھری حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر تقریر کر رہے تھے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، روڈ ٹرانسپورٹ کے وزیر نتن گڈکری، وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن، وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر، وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل، شہری ہوا بازی اور اسٹیل کے وزیر جیوتی رادتیہ سندھیا، ریلوے، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی وشنو وغیرہ سبھی ایوان میں موجود تھے۔

کانگریس کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ کی موجودگی میں بحث کے دوران مسٹر چودھری نے کہاکہ ہم سمجھے تھے کہ نیرو مودی ملک سے بھاگ گیا ہے اور کیریبین ممالک میں مزے کر رہا ہے۔

لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ نیرو مودی کہیں نہیں گیا ہے۔ وہ ملک میں ہے اور نریندر مودی بن کر بیٹھا ہے۔مجھے صرف اتنا کہنا تھا۔یہ سن کر حکمراں جماعت میں ایک شور مچ گیا اور وزیر اعظم کے علاوہ قومی جمہوری اتحاد (ین ڈی اے) کے تمام وزراء اور اراکین پارلیمنٹ اپنی نشستوں سے اٹھ کر کانگریس لیڈر کو للکارنے لگے۔

اسی دوران بی جے پی ایم پی وریندر سنگھ مست اپنی سیٹ سے اٹھے اور جلدی سے مسٹر ادھیرنجن چودھری کی طرف بڑھے اور انہیں للکارنے لگے۔ اس پر اپوزیشن کے کئی اراکین بھی آگے بڑھے۔ دوسری طرف وزیر تجارت پیوش گوئل اور جل شکتی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، مسٹر وریندر سنگھ مست کو پکڑ کر واپس لے آئے۔

مسٹر ادھیرنجن چودھری بھی ایک بار ڈر گئے۔وزیر اعظم مودی اپنی جگہ بیٹھے سب کچھ دیکھتے رہے اور انہوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس سے قبل بھی مسٹر چودھری نے منی پور کی صورتحال پر وزیر داخلہ مسٹر شاہ کی کل کی تقریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کو بفر زون میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے بارے میں بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔اس کے بعد اسپیکر نے مرکزی وزیر جیوترادتیہ سندھیا کا نام پکارا اور مسٹر سندھیا نے اٹھ کر اپنی تقریر شروع کی۔ چند منٹوں کے بعد وزیراعظم اٹھ کر ایوان سے نکل گئے۔ پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی، وزیر داخلہ امیت شاہ بھی ان کے پیچھے چلے گئے۔

اپنی تقریر میں مسٹر سندھیا نے کانگریس اور متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 20 سال سے پارلیمنٹ میں ہیں لیکن آج جیسا منظر کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کا تصور کیا ہے۔140 کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعظم کیلئے جس طرح کے الفاظ استعمال کیے گئے، وہ کسی اور وزیر اعظم کیلئے کبھی استعمال نہیں ہوئے۔ اپوزیشن کو ملک کے عوام سے معافی مانگنی ہوگی۔

آج بھی اپوزیشن کے لوگ تحریک عدم اعتماد پر بولنے کو تیار ہیں لیکن نہ تو وہ ایوان کی سننے کو تیار ہے اور نہ ہی ملک کی سننے کو تیار ہیں۔ اگر ان کا رویہ اسی طرح چلتا رہا تو جمہوریت کے اس مندر میں ان کی کوئی نہیں سنے گا۔مسٹر سندھیا نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس 17 دن تک نہیں چلنے دیا جا رہا ہے۔ اگر وہ خاموشی کا الزام لگاتے ہیں تو انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ کانگریس کے اس وقت کے وزرائے اعظم نے 1993 ء اور 2011 کے پرتشدد واقعات پر خاموشی کیوں اختیار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا نیا نام انڈیا ایک موقع پرست گروہ ہے۔

دوسری طرف کانگریس قائدین نے آپس میں بات چیت کی اور ایوان سے باہر نکلنے کا اعلان کیا۔اور اٹھ کر چلے گئے۔ صدر نشیں راجندر اگروال نے کہا کہ اپوزیشن کا واک آؤٹ جمہوری نظام میں مناسب نہیں ہے۔ آپ تحریک عدم اعتماد لے کر آئے ہیں لیکن اس کا جواب سننے کی بجائے واک آؤٹ کر رہے ہیں۔ یہ ایوان کی توہین ہے۔ طنز کرتے ہوئے مسٹر سندھیا نے کہا کہ ملک کے لوگوں نے باہر کا راستہ دکھایا ہے اور وہ خود گھر سے باہر جا رہے ہیں۔ وہ خود اپنے عدم اعتماد کی تحریک پر یقین نہیں رکھتے۔ ملک کے عوام نے جو نتیجہ دیا ہے اسے قبول کرنا چاہیے۔


Share: