نئی دہلی، 28؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )لوک سبھا میں آج کچھ اراکین نے اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں گزشتہ دنوں چین کی پیپلز لبریشن آرمی(پی ایل اے) کے جوانوں کی طرف سے دراندازی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس سلسلے میں ایوان میں بیان دینے کامطالبہ کیا ۔پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے اراکین کے خدشات سے متعلقہ وزیر کو آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔وقفہ صفر میں اس موضوع کو اٹھاتے ہوئے کانگریس کے جیوتی رادتیہ سندھیا نے کہا کہ گذشتہ 22؍جولائی کواتراکھنڈکے چمولی ضلع میں سرحدی علاقے میں پڑنے والے باراہوتی علاقے میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی(پی ایل اے)کی دراندازی کی خبریں آئی ہیں جو داخلی سلامتی کے لیے انتہائی تشویش کا موضوع ہے۔انہوں نے کہا کہ جب ضلع کے افسر علاقے میں گئے تو چینی فوجیوں نے چلا کر کہا کہ یہ ہماری زمین ہے، واپس جاؤ۔سندھیا نے کہا کہ چین کے فوجی سرحدکے 200میٹر اندر تک گھس آئے ، چین کے ہیلی کاپٹر کو بھی علاقے میں پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا۔کانگریسی لیڈرنے الزام لگایا کہ واقعہ کے ایک ہفتے سے زیادہ گزرجانے کے بعد بھی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس معاملے میں نہ تو وزیر اعظم نے اور نہ ہی وزیر داخلہ نے اب تک کوئی بیان دیا ہے۔انہوں نے اتراکھنڈ میں چینی دراندازی کی خبروں پر حکومت سے بیان کا مطالبہ کیا۔ایوان میں کانگریس کے لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے کہا کہ حکومت کو آج ہی اس معاملے پر جواب دینا چاہیے ۔اسی موضوع کو اٹھاتے ہوئے ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے کہا کہ اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہریش راوت نے بھی چین کی پی ایل اے کی دراندازی کی تصدیق کی ہے، حالانکہ چینی جوانوں نے دونوں ممالک کی نشان زد ایک نہر کو عبور نہیں کیا۔ترنمول کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ پہلے بھی ملک کے کچھ سرحدی علاقوں میں چین کی دراندازی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں اور حکومت کو چینی دراندازی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔اس معاملے میں وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو ایوان میں بیان دینا چاہیے ۔سماج وادی پارٹی کے ملائم سنگھ یادو نے کہاکہ میں پہلے بھی آگاہ کرتا رہا ہوں کہ ہمیں حقیقی خطرہ اپنے پڑوسی پاکستان سے نہیں بلکہ چین سے ہے۔میں جب وزیر دفاع تھا تو میں نے چینی فوج کو مناسب جواب دیا تھا۔انہوں نے چین سے ہوشیار رہنے کی ضرورت بتاتے ہوئے کہا کہ وہ دھوکے باز ملک ہے اور گھات لگا کر بیٹھا ہے، لیکن ہم اسے پرزور جواب دے سکتے ہیں۔ہندوستانی فوج دنیا میں سب سے بہادر ہے۔یادو نے یہ بھی کہا کہ چین نے پاکستان سے ہاتھ ملا لیا ہے جبکہ پاکستان سے ہمیں دوستی کرنی چاہیے ۔ہمیں پاکستان کو چھوٹا بھائی مان کر رشتہ رکھنا چاہیے اور چین سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ چین نے 1962کی جنگ کے وقت بھی ہندوستان کے بڑے حصہ پر قبضہ کر لیا تھا۔انہوں نے کہاکہ لوک سبھا میں قرارداد منظور ہوئی تھی کہ جب تک چین زمین واپس نہیں کردیتا، اس سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ایس پی سربراہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور حکومت کو ایس پی سمیت دیگر پارٹیوں کے لیڈروں سے صلاح ومشورہ کرنا چاہیے اور اگر چین سے خطرہ ہے تو اسے دو گنی طاقت سے واپس کھدیڑنا چاہیے ۔بی جے پی کے ایم پی اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی بھگت سنگھ کوشیاری نے کہا کہ سرحد کی حفاظت اہم مسئلہ ہے اور معاملہ سنگین ہے۔علاقے سے ہونے کے ناطے میں نے ضلع کے حکام سے بات کی ہے۔باڑاہوتی علاقے کا دورہ کرنے کے بعد میرا بھی تجربہ ہے کہ چین کے لوگ سرحدی علاقے میں آتے ہیں اور ہمارے جوانوں کے کہنے پر واپس چلے جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں کیا صرف مرکز کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے ، ریاستی حکومت کا کوئی کام نہیں ہے۔اراکین کے خدشات پر پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ ملک کے اتحاد، سالمیت اور سرحدی سلامتی ہمارے لیے بہت اہم مسئلہ ہے۔ہندوستانی فوج بہت بہادر ہے اور ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ اراکین نے خبروں سے متعلق جس موضوع کو اٹھایا ہے، ہم متعلقہ وزراء کی توجہ اس طرف متوجہ مبذول کرائیں گے۔