ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / آگرہ: پلوامہ حملہ کے شہیدوں کے اہل خانہ کا درد:   حملے کے 354 دن بعد بھی شہید کے  اہل خانہ کو نہیں ملی  ’امداد‘ 

آگرہ: پلوامہ حملہ کے شہیدوں کے اہل خانہ کا درد:   حملے کے 354 دن بعد بھی شہید کے  اہل خانہ کو نہیں ملی  ’امداد‘ 

Mon, 03 Feb 2020 18:12:02    S.O. News Service

آگرہ /3 فروری (آئی این ایس انڈیا) جموں و کشمیر کے پلوامہ میں گزشتہ سال 14 فروری کو سی آر پی ایف کے قافلے پر دہشت گردانہ حملے میں 40 جوان شہید ہوئے تھے۔ان میں آگرہ کے رہنے والے مہارت کمار راوت بھی شامل تھے۔ شہادت کے بعد ضلع انتظامیہ، عوامی نمائندوں اور سماج  تنظیموں کی طرف سے خاندان کو ہر ممکن مدد دینے کا یقین دلایا تھا۔ اس واقعہ کو ایک سال گزرنے والے ہیں، لیکن تمام یقین دہانی کھوکھلی ثابت ہوئی ہیں۔

اہل خانہ نے کہا انہیں شہید اسمارک بنوانے کے لئے اپنی زمین دینی پڑی ہے۔ ماں  سودھا ا راوت کا کہنا ہے کہ مرکز ی اور ریاستی حکومت سے خاندان کو راحت نہیں ملی ہے، کوئی بھی مدد کرنے کے لئے نہیں آیا ہے، میں بوڑھی ہوں، لیکن  ڈی ایم نے میری بھی بات نہیں سنی۔ جانچ بھی صحیح طریقے سے نہیں کی گئی، دیوالی پر کچھ لوگ آئے تھے، جو مٹھائی دینے آئے تھے۔بیٹے کے غم میں کوشل کے والد کی بھی 11 جنوری کو موت ہو گئی۔ انہوں نے کہا عوامی نمائندوں اور ڈی ایم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ شہید کے نام پر ایک سڑک کی تعمیر اور شہید اسمارک کے لئے زمین دی جائے گی۔ لیکن 25 لاکھ کی مالی مدد کے علاوہ کوئی  مانگ پوری نہیں ہوئی ہے۔ شہید کے چچا نے کہا ایک سال سے شہید کی بیوی ضلع مجسٹریٹ دفتر کے چکر کاٹتے کاٹتے تھک گئی، لیکن زمین نہیں ملی، ہم نے خود ہی اپنی زمین دی ہے، جس پر گرام پنچایت کی طرف سے اسمارک بنوایا جا رہا ہے۔ کوشل کشور راوت کی شہادت پر کئی محکموں کے اہلکاروں نے شہید کے خاندان کی مالی مدد کا اعلان کیا تھا،لیکن یہ مدد خاندان کو نہیں ملی۔ اس مسئلے کو شہید کے اہل خانہ نے سی ایم یوگی کو خط لکھ کر آگاہ کیا تو تحقیقات شروع ہوئی۔ گزشتہ 29 جنوری کو سی ایم یوگی کے دفتر نے ٹوئٹ کرکے اطلاع دی تھی کہ تحقیقات میں ضلعی ترقیاتی افسر دیویندر پرتاپ سنگھ پیسے کے غبن کے مجرم پائے گئے اور وزیر اعلیٰ نے انہیں معطل کرنے کی ہدایت دی تھی۔


Share: