ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آسکرز میں بہترین فلم کا انعام غلط فلم کے نام

آسکرز میں بہترین فلم کا انعام غلط فلم کے نام

Tue, 28 Feb 2017 15:11:45    S.O. News Service

لاس اینجلس،27فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکی شہر لاس اینجلس میں 89ویں آسکر ایوارڈز میں فے ڈنوے نے غلطی سے 'مون لائٹ' کی جگہ لا لا لینڈ کو بہترین فلم قرار دے دیا، تاہم بعد میں ان کی غلطی کی تصحیح کر دی گئی۔تقریب میں اس اعلان کی وجہ سے غلط فہمی پھیل گئی اور لا لا لینڈ کی ٹیم ایوارڈ لینے کے لیے سٹیج پر پہنچ گئی۔ وہ اپنی تقریر کے وسط میں تھے جب غلطی کا پتہ چلا۔ڈنوے کے شریک پیش کار وارن بیٹی نے کہا کہ ان کے لفافے میں ایما سٹون، لا لا لینڈ کا کارڈ پڑا ہوا تھا۔مون لائٹ کے ہدایت کار بیری جینکنز نے کہا کہ ان کی زندگی پچھلے 20سے 30منٹ میں ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئی ہے۔

یہ فلم ایک سیاہ فام ہم جنس پرست نوجوان کے بارے میں ہے۔ اسے بہترین اختیارکردہ سکرین پلے اور بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔بہترین اداکار کا انعام کیسی ایفلیک نے مانچسٹر بائی دا سی پر جب کہ بہترین اداکارہ کا طلائی مجسمہ ایما سٹون نے لا لا لینڈ میں بہترین اداکاری پر حاصل کیا۔توقع تھی کہ لا لا لینڈ 14نامزدگیوں کے ساتھ زیادہ ایوارڈ حاصل کرے گی لیکن وہ صرف سات ایوارڈ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی۔ مون لائٹ اور ہیک سا رِج نے تین تین ایوارڈ جیتے۔

مہرشالا علی نے بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔ وہ 2014کے بعد سے یہ انعام جیتنے والے پہلے سیاہ فام اداکار ہیں۔ ان کے علاوہ بہترین معاون اداکارہ کا انعام ایک اور سیاہ فام اداکارہ وایولا ڈیوس نے جیت لیا۔ انھوں نے مداحوں میں روز نامی کردار کے روپ میں اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔پروگرام کے میزبان جمی کِمل نے پروگرام کا رنگ شروع ہی میں کہہ کر متعین کر دیا کہ مجھے لگتا ہے کہ کوئی اداکار یہاں آ کر ایسی تقریر کرے گا کہ امریکہ صدر صبح پانچ بجے باتھ روم جا کر اس کے بارے میں ٹویٹ کر دیں گے۔

ایرانی ہدایت کار اصغر فرہادی کی فلم فروشندہ نے بہترین غیرملکی فلم کا اعزاز اپنے نام کیا۔ اس سے قبل 2012میں بھی اصغر فرہادی ہی کی فلم جدائی نادر از سیمیں کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔تاہم اصغر فرہادی ڈونلڈ ٹرمپ کے سات اسلامی ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کے انتظامی فیصلے کے خلاف بطورِ احتجاج اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے۔ ان کی بجائے ان کا انعام ایرانی نژاد امریکی خلاباز انوشہ انصاری نے وصول کیا۔آسکر ایوارڈز کی تقریب میں عام طور پر صرف مرنے والے فنکاروں کا انعام دوسروں کو وصول کرنے دیا جاتا ہے لیکن اس موقعے پر اکیڈمی ایوارڈز نے اپنے قوانین میں ترمیم کی ہے۔میکسیکن اداکار گیل گارسیا نے سٹیج پر آ کر کہا: بطور ایک میکسیکن اور بطور ایک انسان میں کسی بھی ایسی دیوار کے خلاف ہوں جو ہمیں جدا کرے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ جادوئی میوزیکل لا لا لینڈ سب سے زیادہ طلائی مجسمے جیتے گی تاہم ایسا نہ ہو سکا اور 14 نامزدگیوں میں سے اسے چھ ایوارڈ ہی مل سکے۔بہترین ہدایت کار کا انعام بھی لا لا لینڈ کے ڈیمیئن چیزل نے جیتا۔ وہ آسکر ایوارڈ جیتنے والے کم عمر ترین ہدایت کار بن گئے ہیں۔انھوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم محبت کے بارے میں ہے اور میں خوش قسمت تھا کہ اسے بناتے ہوئے محبت میں گرفتار ہو گیا۔


Share: