نئی دہلی/9فروری (آئی این ایس ا نڈیا)سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں پرموشن کے لئے کوٹہ یا بکنگ کا مطالبہ کرنا بنیادی حق نہیں ہے۔ جمعہ کو جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس ہیمنت گپتا کے بنچ نے کہا کہ سرکاری سروس میں کچھ کمیونٹی کو بقدرِ ضرورت نمائندگی نہ دیئے جانے کے اعداد و شمار سامنے لائے بغیر ریاستی حکومتوں کو ایسی تجاویز پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ریاستی حکومت کی صوابدید پر منحصر ہے کہ انہیں پرموشن میں ریزرویشن دینا ہے یا نہیں؟
کورٹ نے اتراکھنڈ سرکار کی اپیل پر یہ فیصلہ سنایا۔جمعہ کو عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 16 (4) اور 16 (4-A) ریزرویشن لاگو کرنے کی تجویز ضرور دیتا ہے، لیکن یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ریاستی حکومت یہ تسلیم کرتی ہو کہ سرکاری سروس میں کچھ کمیونٹی کی کافی نمائندگی نہیں ہے۔ بنچ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ریاستی حکومت ریزرویشن دینے کے لیے مصروف عمل نہیں ہے، لیکن کسی شخص کی طرف سے اس کو لے کر دعویٰ کرنا بنیادی حقوق کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کورٹ ریاستی حکومت کو کوئی حکم جاری کر سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے 2012 میں دیا گیا فیصلہ غیر مؤثر ہو گیا، جس میں خاص کمیونٹی کو کوٹہ فراہم کرنے کے لئے ریاستی حکومت کو حکم دیا گیا تھا۔ اس وقت سینئر وکیل کپل سبل، کولن گوجالوس اور دشینت ڈیو نے دلیل دی تھی کہ سپریم کورٹ آدی باسی کے لئے آرٹیکل 16 (4) اور 16 (4-A) کے تحت خصوصی سہولت فراہم کرنا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے۔اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ پروموشن میں ریزرویشن دینے کے تئیں ڈیٹا اکٹھا کرنے کو کہا تھا۔ اس کے ذریعے یہ پتہ لگایا جانا تھا کہ سرکاری ملازمتوں میں ایس سی -ایس ٹی طبقہ کی نمائندگی ہے یا نہیں، تاکہ پرموشن میں ریزرویشن دیا جا سکے۔ اس فیصلے کو ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سال 2018 میں پانچ ججوں کی آئین بنچ نے کہا تھا کہ ’کریمی لیئر‘ کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن کا فائدہ نہیں دیا جا سکتا۔ گزشتہ سال دسمبر میں مرکزی حکومت نے 7 ججوں والے بنچ سے اس کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی۔