لکھنؤ، 26؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) آفتاب پوناوالا نامی پارسی شخص نے گذشتہ روز اپنےمعشوقہ کے 35 تکڑے کر دئے تھے، جس کو لے کر شرپسند عناصر اور مخصوص میڈیا مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ایسے میں ایک شخص نے اپنا نام راشد خان بتاکر ایک وڈیو سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا اور مسلمانوں کے خلاف ہندوں کو اکسانے کی کوشش کی تھی، وڈیو میں وہ یہ کہتا ہوا نظر آیا تھا کہ جب انسان کا دماغ خراب ہوتا ہے تو وہ غصے میں 35 کیا 36 ٹکڑے بھی کر دیتا ہے! جب ان سے پوچھا گیا کہ مارنے کاٹنے کی تربیت کہاں سے ملتی ہے، تو وہ کہتا ہے، "بس چھری اٹھاؤ اور چلا دو!” اس وڈیو کلپ کے سامنے آنے کے بعد پولس نے متعلقہ شخص کوجب گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ وہ کوئی راشد خان نہیں بلکہ وکاس کمار ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بلند شہر پولیس نے سکندر آباد کے رہنے والے وکاس کمار کو گرفتار کر لیا ہے ۔
ذرائع کے مطابق وکاس نے وڈیو میں بتایا تھا کہ کسی سے لڑائی ہو جائے تو وہ بھی ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ آفتاب پونا والا اور شردھا واکر کے معاملے پر وکاس یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ جب دونوں کی غلطی ہوگی تبھی آفتاب نے اسے قتل کیا۔ 55 سیکنڈ کی اس ویڈیو کے بعد لوگوں نے ’راشد خان‘ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا اور مسلمانوں کے خلاف بیان بازی شروع کردی۔
سکندرآباد پولس اسٹیشن کے ذریعہ جمعہ کو ملزم وکاس کی گرفتاری کے بعد بلند شہر کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شلوک کمار نے بتایا، ’’سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک ویڈیو ہمارے نوٹس میں آیا تھا، جو دہلی میں بنایا گیا تھا۔ جس میں ایک شخص جو خود کو راشد خان کہتا ہے قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس تھانہ سکندرآباد اس شخص کی تلاش میں مصروف تھی۔
ایس ایس پی شلوک کمار نے بتایا کہ کچھ کوششوں کے بعد آج اس شخص کو حراست میں لےلیا گیا ہے پولس کے مطابق اس شخص کا اصلی نام وکاس کمار ہے۔ ایس ایس پی نے کہا ’’اس کے ذریعہ کئے گئے قابل اعتراض ریمارکس کی بنیاد پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے۔ وکاس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔‘‘ وکاس ایک پیشہ ور مجرم ہے۔ اس کے خلاف ماضی میں بھی کئی مقدمات درج ہیں۔ اس کے خلاف چوری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں کل 5 مقدمات چل رہے ہیں، جن میں سے دو بلند شہر ضلع میں اور تین گوتم بدھ نگر ضلع میں رجسٹرڈ ہیں۔ شلوک کمار نے بتایا کہ اس کی تفصیلی انکوائری کی جا رہی ہے۔
بلند شہر کے ماجد غازی نے کہا کہ اس طرح کے معاملات کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچی جا رہی ہے۔ ماضی میں بھی اس طرح کی کئی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں جن میں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ کوئی شخص کسی اور برادری سے تھا یا اس نے محض مشہور ہونے کے لیے کوئی متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس طرح کی وائرل ویڈیوز کی حقیقت سامنے آتی ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
ویڈیو کو مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر بی جے پی کارکن اور لیڈر پریتی گاندھی نے شیئر کیا تھا، جہاں سے یہ وائرل ہوا تھا۔ انہوں نے ویڈیو کے کیپشن کے طور پر لکھا، "بلند شہر سے راشد خان سے ملیے، ان کو پوری طرح سے لگتا ہے کہ آفتاب کی طرف سے شردھا کے 35 ٹکڑے بالکل نارمل ہیں۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟” خیال رہے کہ آفتاب پونا والا اور شردھا واکر کیس نے ملک بھر میں سنسنی مچائی ہوئی ہے، آفتاب پر شردھا واکر کو بے دردی سے قتل کرنے اور اس کی لاش کے ٹکڑے کرنے کا الزام ہے۔