شیموگہ 26 / دسمبر (ایس او نیوز) ہندو جاگرن ویدیکے کرناٹکا جنوبی ژون کی طرف سے منعقدہ رضا کاروں کے سہ ماہی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے پرگیا سنگھ ٹھاکور نے انتہائی اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو لڑکیوں کو چلتا پھرتا ایٹم بم بنانا ہوگا ۔
معروف کنڑا روزنامہ کنڑا پربھا میں شائع رپورٹ کے مطابق بھوپال کی رکن پارلیمان پرگیا سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ ملک میں یکساں سوِل کوڈ لاگو کرنا ہی ہوگا ۔ لوجہاد کرنے والوں کو منھ توڑ جواب دینا ہوگا ۔ اپنی حفاظت کے لئے ہندووں کو اپنے گھروں میں ہتھیار رکھنے ہونگے اور اس کے لئے لائسنس بھی حاصل کرنا ہوگا ۔ مزید کہا کہ ہندو لڑکیوں کو چلتا پھرتا ایٹم بنانا ہوگا اور ان کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والوں کو موقع پر ہی جواب دینا ہوگا۔
اپنے متنازعہ اور مسلم مخالف بیانات کے لئے اکثر سرخیوں میں رہنے والی پرگیا سنگھ ٹھاکر نے کہا کہ کشمیر ہمارے ملک کا سر ہے اور کسی کو بھی اسے کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ یہ زمین ہماری ماں ہے ۔ یہاں اگر جینا ہے تو پھر بھارت ماتا کے بچے بن کر جینا ہوگا ۔ ہندووں کو نیچ اور دہشت گرد کہنے والے لوگ موجود ہیں ۔ اگر ہندو دہشت گرد ہوتے تو دوسرے مذہب والے آج باقی نہیں رہتے ۔ کچھ کانگریسی ایسا کہتے ہیں کہ اس ملک میں جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔ کانگریس کے ملیکارجن کھرگے پر طنز کرتے ہوئے پرگیا نے کہا کہ انہیں یہاں رہنے کے لئے کون اصرار کر رہا ہے ؟ اگر دیش سے باہر جانے کے لئے تیار ہوں تو چلے جانے دو ۔ میں رکن پارلیمان ہوں اور ہندووں کی حمایت میں بات کرتی ہوں اور ان کی حفاظت کے لئے جد وجہد کرتی ہوں ۔ جب تک زندہ رہوں گی سناتن دھرم کی حفاظت کے لئے تیار رہوں گی ۔
مشہور کنڑا اخبار پرجاوانی میں شائع رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں پرگیہ سنگھ ٹھاکور نے خواتین کو اس بات کا بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے بچوں کو مشنری اسکولوں میں داخل نہ کرائیں۔ پرگیہ کے مطابق وہاں پڑھنے والے بچے خود غرض ہوں گے اور ان کے والدین کو اولڈ ایج ہوم میں جانا پڑے گا۔ بھوپال کی بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیاسنگھ ٹھاکر نے مشورہ دیا کہ اس کے بجائے بچوں کو ہماری ثقافت اور روایات سکھائیں۔ اس نے آگے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ آگے کیا ہوگا۔ ہمیں اپنے دفاع میں حملہ کرنا ہوگا، آگے کہا کہ ہماری بیٹیوں کی حفاظت کے لیے سبزی کاٹنے والی چاقووں کو تیز کرکے تیار رکھنا ہوگا، ہماری لڑکیوں کو ایٹم بم کی طرح تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری بیٹیاں لو جہاد میں نہ جانے پائیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس اجلاس میں ایم ایل اے کے ایس۔ ایشورپا، ایم پی بی وائی راگھویندر، بی جے پی ضلع یونٹ کے صدر ٹی ڈی۔ میگھراج، میونسپل کارپوریشن کے میئر شیوکمار، حکمراں پارٹی لیڈر چناباسپا، قائدین ایس دتاتری، کے ای کانتیش، ڈاکٹر دھننجیا سرجی، ایس ایس جیوتی پرکاش، بنگلور کے تاجر راما منوہر شانتاویری اور دیگر بھی موجود تھے۔
(فوٹو بشکریہ: پرجاوانی)