ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن میں ہی برابری نہیں تو یونیفارم سول کوڈ کیسے مناسب: پیس پارٹی کا سوال

مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن میں ہی برابری نہیں تو یونیفارم سول کوڈ کیسے مناسب: پیس پارٹی کا سوال

Fri, 16 Dec 2022 21:27:49    S.O. News Service

پرتاپ گڑھ،16؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی)مذہبی بنیاد پر جب ریزرویشن و ترقی میں برابری نہیں  دی جارہی ہے اور مسلم و عیسائیوں کو صرف مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن سے محروم رکھا جا رہا ہے تو ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنا کیسے مناسب ہوگا، یہ سوال   پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے پوچھا ۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہوئے  ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ آئین ہند میں دلتوں کو خصوصی سہولت ریزرویشن دینے کا قانون ہے تو ایسے حالات میں دلت طبقے کے مسلمانوں و عیسائیوں کو آئین  کے خلاف ریزرویشن و دیگر سہولت سے محروم کیوں رکھا جارہا ہے، کیوں کہ وہ ہندو نہیں ہیں ،جب مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا ہے تو مذہب کی بنیاد پر یونیفارم سول کوڈکے  نفاذ کا کوئی مطلب نہں ہے۔ 

ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ بھارت میں ہندووں میں مختلف طبقے کے لوگ ہیں ،ہر طبقہ کی پوجا اور دیگررسم و رواج الگ الگ ہیں ، شادی وغیرہ کے  ہر ایک  کے اپنے نجی قانون ہیں ،اسی طرح اقلیتوں میں مسلم ،سکھ ،عیسائی ،پارسی ،جین و بودھ کے اپنے رسم رواج ہیں ،جس کے بموجب ان کا سماجک تانا بانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت یونیفارم سول کوڈکے  نفاذ کے لئے اپنے راجیہ سبھا ممبر سے راجیہ سبھا میں بل پیش کراکر مختلف طبقے کے نجی سماجک تانا بانا پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے ، جس کی ہم سخت مخالفت کرتے ہیں۔

حکومت اگر برابری لانا چاہتی ہے تو پہلے اس کو مسلم دلت و عیسائیوں کو ریزرویشن دینا ہوگا ، تاکہ برتے جانے والے امتیاز کا خاتمہ ہو سکے۔ ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ حکومت ایک جانب تو برابری اور سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس کی بات کرتی ہے ،مگر دوسری جانب ملک کے ایک خصوصی طبقے کے ساتھ تفریق برت رہی ہے۔ پیس پارٹی مطالبہ کرتی ہے کہ  حکومت، مسلم دلت اورو عیسائیوں کا ریزرویشن بحال کرے ، انہوں نے  کہا کہ ان کی پارٹی یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرتی ہے ۔


Share: