ہلیال میں دو موٹر بائکوں کی خطرناک ٹکر؛ دونوں بائک سوار کی موقع پر موت ؛ پچھلی سیٹ پر سوار ایک شخص شدید زخمی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th October 2017, 8:43 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل 12/اکتوبر (ایس او نیوز)  ضلع اُترکنڑا کے ہلیال میں پیش آئے ایک دردناک سڑک حادثہ میں دو موٹر بائک کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی، جبکہ ایک بائک کی پچھلی سیٹ پر سوار شخص شدید زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر ہبلی کے کیمس اسپتال لے جایا گیا ہے۔حادثہ  آج  جمعرات شام قریب چھ بجے پیش آیا۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق  ہلیال تعلقہ کے  دُوسگی دیہات میں دونوں بائک کافی تیزی رفتاری کے ساتھ آپس میں ٹکراگئی۔ ٹکر کی شدت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں بائک سوار ٹکر میں ہلاک ہوگئے۔ اس میں ایک بائک سوار کی شناخت  الناور کے سچن کلیانکر (21) اور دوسرے بائک سوار کی شناخت دانڈیلی کے رہنے والے  دھیرج گیری (20) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ حادثے میں جو شخص زخمی ہوا ہے، اُس کی شناخت الناور کے ونائک تولگی   (21)  کی حیثیت سے کی گئی ہے ، جسے فوری طور پر ہبلی کے کیمس اسپتال میں لے جایا گیا ہے۔

حادثے کے فوری بعد  خانہ پور ۔ تالگوپہ نیشنل ہائی وے کچھ دیر کے لئے بلاک ہوگیا، مگر بعد میں ہلیال پولس کی موقع پر آمد کے بعد دونوں بائکوں کو ہٹانے اور لاشوں کو اسپتال منتقل کرنے کے بعد ٹریفک نظام درست کرلیا گیا۔

ہلیال پولس تھانہ میں معاملہ درج کیا گیا ہے ۔

 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی اور سنگھ پریوار کے احتجاج اور تشدد کے چلتے بالاخر کرناٹک سرکار کا ہوناور کے پریش میستا کی موت کا معاملہ سی بی آئی کے حوالے کرنے کا اعلان

ریاست میں کافی بحث کا موضوع بنے ہوناور کے پریش میستا کی موت کی گتھی سلجھانے کے لئے بالاخر اب ریاستی حکومت نے   اس  معاملے کو سی بی آئی کے ذریعہ تحقیق کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ رام لنگا ریڈی  نے کہا کہ سچائی کو منظر عام پر لانے کے لئے ...

ضلع اُتر کنڑا میں وہاٹس ایپ پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے پر 28 معاملات درج

ہوناور میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعدبی جے پی اور سنگھ پریوار کی حمایت میں  اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات روانہ کئے جارہے تھے، ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعے مختلف علاقوں میں بند منائے جانے اور احتجاج کے پیغامات پھیلائے جارہے تھے، جس پر ...

ہوناور پریش میستا کی موت کا معاملہ؛ وہاٹس ایپ پراشتعال انگیز افواہیں پھیلانے کے الزام میں ہائی اسکول ٹیچر گرفتار

ہوناور فساد کے پس منظر میں سوشیل میڈیا اور خاص کر وہاٹس ایپ پر افواہیں پھیلا کر ماحول خراب کرنے کے الزام میں کاروار کے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

پریش میستا کے پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ ابھی نہیں ملی ۔ دیشپانڈے

ہوناور میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پریش میستا نامی نوجوان کی جو لاش دستیاب ہوئی تھی اور اس سے پورے ضلع میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی تھی، اس تعلق سے ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے نے کہا ہے کہ پریش کے پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔

ضلع اُتر کنڑا میں وہاٹس ایپ پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے پر 28 معاملات درج

ہوناور میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعدبی جے پی اور سنگھ پریوار کی حمایت میں  اور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات روانہ کئے جارہے تھے، ساتھ ساتھ سوشیل میڈیا کے ذریعے مختلف علاقوں میں بند منائے جانے اور احتجاج کے پیغامات پھیلائے جارہے تھے، جس پر ...

ہوناور پریش میستا کی موت کا معاملہ؛ وہاٹس ایپ پراشتعال انگیز افواہیں پھیلانے کے الزام میں ہائی اسکول ٹیچر گرفتار

ہوناور فساد کے پس منظر میں سوشیل میڈیا اور خاص کر وہاٹس ایپ پر افواہیں پھیلا کر ماحول خراب کرنے کے الزام میں کاروار کے ایک ہائی اسکول ٹیچر کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

پریش میستا کے پوسٹ مارٹم کی فائنل رپورٹ ابھی نہیں ملی ۔ دیشپانڈے

ہوناور میں فرقہ وارانہ فسادات کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پریش میستا نامی نوجوان کی جو لاش دستیاب ہوئی تھی اور اس سے پورے ضلع میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی تھی، اس تعلق سے ضلع انچارج وزیر دیشپانڈے نے کہا ہے کہ پریش کے پوسٹ مارٹم کی قطعی رپورٹ ابھی نہیں آئی ہے۔

امن کے باغ میں تشدد کا کھیل کس لئے؟ خصوصی اداریہ

ضلع شمالی کینر اکو شاعرانہ زبان میں امن کا باغ کہا گیا ہے۔یہاں تشدد کے لئے کبھی پناہ نہیں ملی ہے۔تمام انسانیت ،مذاہب اور ذات کامائیکہ کہلانے والی اس سرزمین پر یہ کیسا تشددہے۔ ایک شخص کی موت اور اس کے پیچھے افواہوں کا جال۔پولیس کی لاٹھی۔ آمد ورفت میں رکاوٹیں۔ روزانہ کی کمائی سے ...

سرسی فساد کے9 ملزمین کی ضمانت پر رہائی؛ 62کو بھیجا گیا عدالتی حراست میں

سرسی فساد کے پس منظر میں جن ملزمین کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں ایم ایل اے وشویشور ہیگڈے کاگیری سمیت  9 ملزمین کو ضمانت پر رہا کردیا گیا جبکہ 62 ملزمین کو عدالتی حراست میں دھارواڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔