اسکولی کتابوں میں 'کیو آر کوڈ' کا استعمال؛ اساتذہ اور طلباء کو مزید سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 30th October 2018, 8:34 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار30؍اکتوبر(ایس او نیوز) حکومت کی طرف سے اسکول کی نصابی کتابوں میں پہلی مرتبہ ’کیو آر کوڈ‘( quick response code)کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جس کی وجہ سے اساتذہ او رطلبہ کے لئے سیکھنا اور سکھانا مزید آسان ہوجائے گا کیونکہ کیو آر کوڈ کی وجہ سے متعلقہ مضمون کے اسباق کوموبائل پر ڈاؤن لوڈ کیا جاسکے گا۔

مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل نے ’دیکشا‘ نامی موبائل فون ایپلی کیشن تیار کیا ہے۔ اس کا استعمال کرتے ہوئے نصابی کتابوں کے کیوآر کوڈ کو اسکیان کرنا اوراستفادہ کرنا آسان ہوجائے گا۔ریاستی سرکار کی طرف سے فراہم کی جانے والی چھٹی جماعت سے دسویں جماعت تک حساب، سائنس اور انگلش کی نصابی کتابوں میں کیو آر کوڈ کا استعمال کیاجارہا ہے۔اس کی وجہ سے طلبہ، اساتذہ اور والدین پڑھائے جارہے مضامین کو ڈیجیٹل طریقے سے ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔یہ سلسلہ ریاستی تعلیم و تحقیق اور تربیت کے محکمے (ڈی ایس ای آر ٹی)کی جانب آئندہ تعلیمی سال کے ساتھ عمل میں آئے گا۔اس سہولت کی وجہ سے امتحان کے دنوں میں اسباق کو اچھی طرح سمجھنے اور یاد کرنے میں طلبہ کو ا س سے بڑی مدد ملے گی۔ابتدا میں کنڑا اور انگریزی زبان کے لئے کیو آر کوڈ سے ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت رہے گی۔ اس کے بعد آگے چل کر بقیہ زبانوں جیسے اردو، تمل، ہندی اور مراٹھی زبان میں اس کا استعمال کیا جاسکے گا۔اس کے لئے طلبہ کو پہلے کتابوں پر موجود کیو آر کوڈ اپنے موبائل فون پر اسکیان کرنا ہوگا پھر اس کے بعد’دیکشا‘ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے اس کے تعلق سے اضافی معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔ خاص بات یہ ہے کہ نصابی کتابوں سے متعلقہ مواد اس ایپ میں آڈیو اور ویڈیو کی شکل میں ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا انعقاد ؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔