کاروارمیں ایکسائز ڈپارٹمنٹ افسران نے 15کلو میٹر تک کیا اسمگلروں کاپیچھا ۔ 1.5لاکھ روپے مالیت کی شراب ضبط 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th September 2018, 11:20 AM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کاروار 13؍ستمبر (ایس او نیوز)گوا سے شراب اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنانے میں محکمہ آبکاری کے افسران کو اس وقت بڑی کامیابی جب 15کلو میٹر تک پیچھا کرنے کے بعد شراب کا اسمگلر ان کے ہاتھ لگااور1.5لاکھ روپے مالیت کی شراب ضبط کرلی گئی۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق شراب کی اسمگلنگ میں ملوث ملزم کا نام یوگیش ایس ہے جو کہ کاروار ماجالی کا رہنے والاہے۔ ایکسائز افسران کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ شراب ایک بڑ ی کھیپ گوا سے شمالی کینرا میں اسمگل کی جانے والی ہے۔ اس لئے منگل کی آدھی رات سے ہی افسران تاک لگاکر بیٹھ گئے۔ صبح 2.30کے قریب ایک کار مینگینی گاؤں سے کاروار مین روڈ کی طرف آتی ہوئی دکھائی دی۔ ڈرائیور کو کار روکنے کا اشارہ کرنے پر اس نے کار نہیں روکی تو ایکسائز افسران نے اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ کچھ کلو میٹر تک پیچھا کرنے کے بعد ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی ایک اور کار ملزم کا پیچھا کرنے میں شامل ہوگئی۔اور 15کلومیٹر تک مسلسل پیچھا کرنے کے بعد ملزم کو دبوچنے میں افسران کامیاب ہوگئے۔

محکمہ آبکاری کے ڈپٹی کمشنر ایل اے منجو ناتھ نے بتایا کہ کاروار گوا چیک پوسٹ پر شراب اسمگلنگ روکنے کے لئے سخت بندوبست کیا گیا ہے۔ اس لئے اب شراب اسمگلروں نے جنگلی علاقے سے ہوتے ہوئے کاروار میں شراب لانے کے نئے راستے ڈھونڈنکالے ہیں۔اب وہ لوگ گوا سے شراب خرید کرکچے راستے سے کاروار سے قریب جنگلی علاقے میں واقع مینگینی گاؤں میں لے آتے ہیں۔ کاروار میں بیٹھا ہوا شراب کا ایک بڑا اسمگلریہ سارا کاروبار چلا رہا ہے۔ جب شراب مینگینی گاؤں میں پہنچ جاتی ہے تو پھر وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے وہاں سے شہر میں اسمگل کروالیتا ہے۔اس پورے ریکیٹ کے تعلق سے ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو تفصیلات مل گئی ہیں اور جلد ہی مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا آغاز؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

ہوناور قومی شاہراہ پرگزرنےو الی بھاری وزنی لاریوں سے سڑک خستہ؛ میگنیز کی دھول اور ٹکڑوں سے ڈرائیوروں اور مسافروں کو خطرہ

حکومت عوام کو کئی ساری سہولیات مہیا کرتی رہتی ہے، مگر ان سہولیات سے استفادہ کرنےو الوں سے زیادہ اس کاغلط استعمال کرنے والے ہی زیادہ ہوتے ہیں، اس کی زندہ مثال  فورلین میں منتقل ہونے والی  قومی شاہراہ 66پر گزرنے والی بھاری وزنی لاریاں  ہیں۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔