ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں اخلاقی پولس گری کی واردات کے بعد کیس درج ؛ سنگھ پریوار کے کارکنان نے کیا پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج، مسلم نوجوان گرفتار

بھٹکل میں اخلاقی پولس گری کی واردات کے بعد کیس درج ؛ سنگھ پریوار کے کارکنان نے کیا پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج، مسلم نوجوان گرفتار

Thu, 18 Jun 2026 13:58:27    S O News
بھٹکل میں    اخلاقی پولس گری  کی واردات کے بعد  کیس درج ؛ سنگھ پریوار کے کارکنان نے کیا  پولیس اسٹیشن  کے باہر احتجاج، مسلم نوجوان گرفتار

بھٹکل 18 / جون (ایس او نیوز) کسی نہ کسی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی کی سرخیوں میں رہنے والے بھٹکل میں اخلاقی پولس گری کا  تازہ معاملہ  سامنے  آیا ہے جس میں ایک ہندو لڑکی کی درخواست پر اس کی پھوپھی کے گھر پہنچانے کے لئے اپنی کار میں ساتھ لے جانے والے مسلم نوجوان پر ہندو کارکنان نے حملہ کیا اور پھر متاثرہ مسلم نوجوان کی شکایت پر پولیس نے حملہ کرنے والے  کارکنان پر معاملہ درج کیا ، جس پر بدھ کی   رات   سنگھ پریوار کی تنظیموں کے کارکنان اور لیڈروں نے پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے پولس  کے حکام کو آڑے ہاتھوں لینے کی واردات پیش آئی ہے۔ جس کے بعد پولس  کے نرم برتاو کو لے کر سوالات اُٹھ کھڑے ہوگئے ہیں۔

    کیا ہے  معاملہ ؟:    سنگھ پریوار کے ہندو کارکنان کے حملہ کا  شکار ہونے والے نوجوان شاہد خان کی طرف سے درج کی گئی شکایت کے مطابق انفال سوپر مارکیٹ میں اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک ہندو لڑکی نے اس سے درخواست کی کہ اسے ماروکیری کے اپنے گھر سے شیرالی چتراپور میں واقع اپنی نانی کے گھر تک پہنچائے ۔ لڑکی کی درخواست پر جب وہ ماروکیری سے اس لڑکی کو اپنی کار میں لے کر چتراپور جانے کے لئے نکلا توساگر روڈ پر چند ہندو کارکنان نے ان کی کار کو روک کر  اس کے ساتھ مارپیٹ کی اور لڑکی کی بھی بے عزتی کی ۔ کارگیدے سکینڈ کراس کے رہائشی  شاہد کی شکایت پر  پولس نے  کمار نائک اور شریکانت نائک  سمیت تین لوگوں کے خلاف معاملہ درج کرلیا ۔ یہ معاملہ بدھ کی صبح کو پیش آیا تھا۔
    
 لڑکی نے بھی درج کروائی شکایت :     دوسری طرف ہندو لڑکی کی طرف سے  بدھ کی شام کو جوابی شکایت درج کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ شاہد نامی نوجوان نے سوپر مارکیٹ کے پیچھے واقع ہاسٹل کے قریب پہنچ کر اسے باہر بلایا اور جنسی  طور پر ہراساں کرنے کی نیت سے یہ کہتے ہوئے زبردستی اپنی کار میں بٹھا کر لے گیا کہ اسے میرے ساتھ کچھ بات چیت کرنی ہے ۔  اس شکایت پر بھی کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے کیس درج کر لیا ، جس کی تحقیقات مضافاتی پولس تھانہ کے  انسپکٹر وینکٹیش کی رہنمائی میں  جا رہی ہے ۔ 
    
پولیس اسٹیشن کا محاصرہ :        ہندو لڑکی کو اپنے ساتھ لے جانے والے مسلم نوجوان کو روکنے اور سوال کرنے پر پولیس کی طرف سے ہندو کارکنان کے خلاف کیس درج کرنے  پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی سمیت سنگھ پریوار  کے لیڈروں اور کارکنان نے بدھ کی رات کو بھٹکل ٹاون پولیس اسٹیشن کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا ۔
    
    احتجاج کی قیادت کرنے والوں میں شامل سابق بی جے پی وزیر شیوانند نائک، ہندوتوا وادی لیڈرگووندا نائک، شری کانت نائک،  کرشنا نائک اسارکیری، ایشور نائک، سبرایا دیواڈیگا، جینت نائک، شرینواس نائک وغیرہ کا کہنا تھا کہ بھٹکل میں اس طرح کے کئی واقعات ہونے کے باوجود مکمل ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ہم لوگ خاموش تھے، لیکن اب جبکہ ہندو لڑکی کو اپنی کار میں  لے جا رہے مسلم لڑکے کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا ہے تو اس ملزم کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پولیس والوں نے اسے روکنے والے ہندو کارکنان پر ہی معاملہ درج کر دیا ہے ۔ 
    
    مظاہرین کا کہنا تھا کہ دیہی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر اور پی ایس آئی موجود رہنے کے باوجود ملزم کے خلاف کیس درج نہیں کیا گیا ۔ اس کے بجائے ملزم کی شکایت پر فوراً کیس درج کر لیا گیا ۔ ہماری طرف سے معاملہ درج کر لینے میں کیوں کوتاہی کی گئی ؟  ملزم کے بجائے ہندو کارکنان پر کیس درج کرنے کے لئے پولیس پر کس کا دباو تھا ؟  
    
  احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ہندو کارکنان کے خلاف درج کیا گیا معاملہ واپس لیا جائے اور مسلم نوجوان کو فوراً گرفتار کیا جائے ۔ اس بات کی بھی تحقیقات ہو کہ کہیں یہ مسلم نوجوان اس سے قبل بھی اس طرح کے معاملوں میں شامل تو نہیں ہے ؟   مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر ان کے مطالبات کل تک پورے نہیں ہوئے تو پھر وہ 'بھٹکل چلو'  اور     'بھٹکل بند' کی آواز دیتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کریں گے ۔

شاہد خان گرفتار، ایس پی کا بھٹکل دورہ:  جمعرات کی صبح موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس نے شاہد خان کو گرفتار کر کے  کاروار جیل منتقل کر دیا ہے۔ ادھر جمعرات کی شام ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی)  دیپن ایم این نے بھٹکل کا دورہ کیا، حالات کا جائزہ لیا اور ہندو تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ مسلم رہنماؤں سے بھی ملاقات کر کے صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔

وائرل ویڈیو پر سوالات: اس دوران بدھ کی رات ہونے والے احتجاج کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں ہندوتوا رہنما گوندا نائک   مبینہ طور پر ایک پولیس انسپکٹر کے ساتھ سخت اور غیر شائستہ لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے دکھائی دے رہا ہے ۔

ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ افسران کی موجودگی میں اس نوعیت کے رویّے کے باوجود کوئی فوری کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ واقعے نے پولیس کے نرم رویّے اور قانون کی یکساں عملداری کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


Share: