ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / یو ایس پی اے سی او ایم سے ’انڈو‘ غائب، کانگریس نے مرکز کو تنقید کا بنایا نشانہ

یو ایس پی اے سی او ایم سے ’انڈو‘ غائب، کانگریس نے مرکز کو تنقید کا بنایا نشانہ

Thu, 18 Jun 2026 18:01:58    S O News

واشنگٹن، 18/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ لگاتار کچھ نہ کچھ کرتی ہی رہتی ہے۔ اسی فہرست میں کچھ نئی چیزیں شامل کی گئی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر ’ڈپارٹمنٹ آف وار‘ کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ اسی طرح ’انڈو۔پیسیفک کمانڈ‘ کی جگہ یو ایس پیسیفکٹ کمانڈ (یو ایس پی اے سی او ایم) کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے نام سے ’انڈو‘ لفظ حذف کئے جانے پر کانگریس نے مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔

کانگریس نے وزیر اعظم مودی اور مرکزی حکومت پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’پھر ایک نیا دن، اور امریکہ کی جانب سے ہندوستان کی ایک اور توہین، یہی تو ’سمجھوتہ کرنے والا وزیر اعظم‘ نریندر مودی کی دین ہے۔‘‘ امریکہ نے بدھ کے روز اپنے سب سے پرانے کمانڈ یوایس پیسیفک کمانڈ (یو ایس پی اے سی او ایم) کے نام کو بحال کر دیا۔ اس سے قبل سال 2018 میں اس کمانڈ کا نام بدل کر یو ایس انڈو-پیسیفک کمانڈ کر دیا گیا تھا لیکن اس میں سے اب ’انڈو‘ ہٹا دیا گیا ہے۔ امریکہ کے اس فیصلے کو ہندوستان کی اہمیت اور شبیہ پر بڑا حملہ مانا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس نے امریکہ کے وزیر دفاع کے  اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2018 میں ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران اس وقت کے وزیر دفاع جم میٹس نے بڑے فخر کے ساتھ اسے ’انڈو پیسیفک کمانڈ‘ نام دیا تھا اور تب انہوں نے یہ کہا تھا کہ ’’ہمیں بحر ہند، برصغیر اور یقینی طور سے ہندوستان کی بڑھتی اہمیت کو تسلیم کرنا ہی ہوگا۔ اس لیے یہ یقینی بنانا چاہتا ہوں کہ کمانڈ کا نام زمینی حقائق کی عکاسی کرے۔‘‘

کانگریس نے کہا کہ یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے ہندوستان کی ابھرتی ہوئی طاقت کو تسلیم کیا۔ میٹس نے بالی ووڈ میں ہالی ووڈ، پینگوئین سے پولر بیئر تک شراکت داری کی بھی بات کی تھی۔ یہ ’کواڈ‘ کے نظریے سے بھی بڑا قدم مانا جا رہا تھا جس میں امریکہ، ہندوستان، جاپان، آسٹریلیا شامل ہیں۔ لیکن اب 8 سال بعد اسی صدر ٹرمپ کے دور اقتدار میں ’انڈو‘ لفظ ہٹا دیا گیا ہے۔ ہندوستان کا نام ہٹانے میں یہ صاف امریکی پیغام ہے کہ امریکہ کے لیے ہماری اہمیت کم ہو گئی ہے۔

وزیر اعظم مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ یہ نام تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ نے ہمارے ملاحوں کو بے دردی سے قتل کیا، مارکو روبیو نے ہندوستان کی توہین کی، یک طرفہ ٹریڈ ڈیل ہم پر مسلط کردی گئی، ہم پر بہت زیادہ ٹیرف بھی لگائے گئے، ہندوستان مخالف امیگریشن پالیسیاں بنائیں اور اس نے دشمن ملک پاکستان کے ساتھ اپنی قربتوں میں اضافہ کیا۔

اسی طرح کانگریس نے کہا کہ ’’انڈو نام ہٹایا جانا کوئی چھوٹی بات نہیں ہے کیونکہ ارادہ تو پیغام دینا ہے۔ ورنہ کوئی اپنے اہم کمانڈ کا نام 8 سال میں 2 بار تھوڑی ہی بدلتا ہے۔ یہ نام تبدیلی ہندوستان کی توہین ہے۔ لیکن پورا ملک ایک ’سمجھوتہ کرنے والا وزیر اعظم‘ ہونے کا خمیازہ بھگت رہا ہے، جن کو انسٹاگرام ریل سے فرصت ہی نہیں ہے۔‘‘ کانگریس نے کہا کہ ’’ٹرمپ کے ساتھ اپنی میٹنگ میں وزیر اعظم مودی اس معاملے کو اٹھا پانے کی ہمت نہیں کر پائے لیکن ایک بات صاف ہے کہ امریکہ نے مودی کی کوئی بڑی نس دبائی ہوئی ہے۔‘‘


Share: