تھیرواننت پورم، 26 / جون (ایس او نیوز) ملک میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی طرف سے لگائی گئی 'ایمرجنسی' کے پچاس سال پورے ہونے پر کیرالہ یونیورسٹی کے ہال میں منعقدہ پروگرام میں 'زعفرانی جھنڈے کے ساتھ بھارت ماتا' کی تصویر آویزاں کرنے اور اس پروگرام میں کیرالہ کے گورنر راجیندرا آرلیکر کی شرکت پر کیرالہ اسٹوڈنٹس یونین (کے یو) اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
اس پروگرام کا انعقاد فکری طور پر دائیں بازو کی حامی ایک تنظیم سری پدمانابا سیوا سمیتی کی جانب سے کیا گیا تھا ۔ جس کے خلاف سیکولر اور بائیں بازو کی فکر والی طلبہ تنظیموں کی یونین کی طرف سے کیے گئے زبردست احتجاج کے دوران تقریباً دو گھنٹے تک یونیورسٹی کے سینیٹ ہاوس کیمپس میں کشیدگی اور تناو کا ماحول بنا رہا ۔
حالانکہ سینیٹ ہال میں زعفرانی جھنڈے والی بھارت ماتا کی تصویر آویزاں کیے جانے کی خبر ملنے پر کیرالہ یونیورسٹی رجسٹرار کے ایس انیل کمار نے پروگرام کے منتظمین کو تحریری اطلاع دی کہ سرکاری پروگرام میں مذہبی علامات استعمال نہ کرنے کے قانو کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے انہیں دی گئی یونیورسٹی کے ہال میں پروگرام منعقد کرنے کی اجازت منسوخ کی جاتی ہے ، لیکن منتظمین پروگرام منسوخ پر راضی نہیں ہوئے اور گورنر آرلیکر نے بھی رجسٹرار کو مطلع کیا کہ وہ اس پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں ۔
اس دوران طلبہ یونین سے وابستہ کارکنان کے علاوہ بائیں بازو کے حامی سینیٹ کے ارکان نے بڑی تعداد میں جمع ہو کر اس پروگرام کو مذہبی رنگ دینے کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی ۔ اسی احتجاج اور کشیدگی کے درمیان میں گورنر راجیندرا آرلیکر نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے ہاتھ میں بھگوا جھنڈا پکڑی ہوئی "بھارت ماتا" کی تصویر کے قدموں میں پھول نچھاور کیے ۔
گورنر نے اپنے خطاب کے دوران اس طرح کے احتجاج کے ذریعے گورنر کو ہال میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کو بھی عدم برداشت اور ایمرجنسی کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا ۔ طلبہ یونین کے کارکنان کی موجودگی اور احتجاج کے بیچ گورنر کو ایک متبادل راستے سے باہر نکالا گیا جس کے بعد ایس ایف آئی کے کارکنان نے آر ایس ایس کی جانب سے یونیورسٹیوں کو "سنگھ پریوار کے سینٹرز" میں تبدیل کرنے کی کوشش کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی ۔ ایس ایف آئی کے سیکریٹری پی ایس سنیجیو نے بتایا کہ سرکاری پروگراموں کو آر ایس ایس کے پروگرام میں تبدیل کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف ایس ایف آئی کی طرف سے سخت ترین احتجاج کیا جائے گا ۔
ادھر کیرالہ کی بائیں بازو کی حکومت نے اپنی کابینہ کی میٹنگ میں طے کیا ہے کہ سرکاری تقریب میں مذہبی علامت استعمال اور دستور کی خلاف ورزی پر اپنی ناراضی اور اختلاف رائے سے راج بھون کو سرکاری طور پر مراسلہ بھیج کر آگاہ کیا جائے ۔
کیرالہ کی یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) حکومت کے وزیر قانون پی راجیو نے بتایا کہ "عام طور پر سرکاری پروگرام میں قومی جھنڈا، قومی ترانہ اور ایسی علامات/تصویریں استعمال کی جاتی ہیں جو کہ دستور کے تحت منظور شدہ ہیں ۔ اس سے انحراف کرنا دستوری علامات کی بے حرمتی کے مترادف مانا جائے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہی بات ہم گورنر کے علم میں لانا چاہتے ہیں ۔