کورونا: جرمنی کو پیچھے چھوڑ ساتویں مقام پر پہنچا ہندوستان، 24 گھنٹے میں 230 اموات

Source: S.O. News Service | Published on 1st June 2020, 1:49 PM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

نئی دہلی،یکم جون (ایس او نیوز؍ایجنسی)  ملک میں كورونا وائرس کے نئے کیسز میں دن بہ دن ہو رہے اضافہ سے متاثرین کی کل تعداد 1.90 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے اور ہندوستان سب سے زیادہ متاثر ممالک کی فہرست میں فرانس اور جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر ساتویں مقام پر پہنچ گیا ہے۔ مرکزی صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کی جانب سے پیر کو جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8392 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس سے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 1،90،535 ہو گئی۔اس دوران مزید 230 افراد کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5394 ہو گئی۔ صحت مند ہونے کے مقابلے میں نئے کیسزکی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے فعال کیسز کی تعداد بڑھ کر 93،322 ہو گئی ہے۔

دنیا میں کورونا وائرس سے متاثر ممالک کی فہرست میں امریکہ پہلے نمبر پر ہے جہاں اس وبا سے اب تک 17،90،172 لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ 1،04،381 اموات ہو چکی ہے. اس کے بعد برازیل (5.14 لاکھ)، روس (4.5 لاکھ)، برطانیہ (2.76 لاکھ)، اسپین (2.39 لاکھ)، اٹلی (2.32) اور ہنووستان (1.90 لاکھ) ہے۔ ملک میں مہاراشٹر، تمل ناڈو، دہلی اور گجرات میں وائرس کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ان چار ریاستوں میں پانچ ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

ریاست مہاراشٹر اس وبا سے ملک میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس ریاست میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2487 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 89 افراد کی موت ہوئی ہے جس کے ساتھ ہی ریاست میں اس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد بڑھ کر 67،655 اور اس جان لیوا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 2286 ہو گئی ہے۔ اس دوران ریاست میں 1248 افراد شفایاب ہوئے ہیں جس سے صحت مند ہونے والوں کی مجموعی تعداد 29329 ہو گئی ہے۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملہ میں تامل ناڈو دوسرے نمبر پر ہے، جہاں متاثرین کی تعداد 22 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ یہاں اب تک 22،333 لوگ اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں اور 173 اموات ہوئی ہے جبکہ 12،757 افراد کو علاج کے بعد مختلف اسپتالوں سے چھٹی دی جا چکی ہے۔

کورونا وائرس سے قومی دارالحکومت کی بھی حالت کافی تشویشناک بنی ہوئی ہے اور ملک میں دہلی متاثرین کی تعداد کے معاملے میں تیسرے نمبر پر ہے۔ دہلی میں 19844 لوگ متاثر ہوئے ہیں اور 473 افراد کی جان جا چکی ہے جبکہ 8478 مریضوں کو علاج کے بعد اسپتالوں سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ كووڈ -19 سے متاثر ہونے کے معاملہ میں ملک کی مغربی ریاست گجرات چوتھے نمبر پر ہے۔ گجرات میں اب تک 16،779 لوگ اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں اور 1038 افراد نے جان گنوائی ہے۔ اس کے علاوہ 9919 لوگ اس بیماری پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

راجستھان میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اور یہاں اس کے متاثرین کی تعداد 8831 ہو گئی ہے اور 194 افراد کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 5927 لوگ مکمل طورپر ٹھیک ہوئے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں 8089 لوگ کورونا وائرس سے متاثرہوئے ہیں اور 350 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ 4842 لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں اب تک 7823 افراد کورونا وائرس کی زد میں آئے ہیں اور 213 لوگوں کی موت ہوئی ہے جبکہ 4709 افراد اس وبا سے ٹھیک ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال میں 5501 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور 317 افراد کی موت ہو چکی ہے اور اب تک 2157 لوگ ٹھیک ہوئے ہیں۔ تلنگانہ میں اب تک کورونا وائرس سے 2698 لوگ متاثر ہوئے ہیں اور 82 لوگوں نے اس کی وجہ سے جان گنوائی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں 1428 لوگ اب تک اس بیماری سے ٹھیک ہوئے ہیں۔

جنوبی ہند کی ریاست آندھرا پردیش میں 3679 اور کرناٹک میں 3221 لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ان ریاستوں میں اس سے مرنے والوں کی تعداد بالترتیب 62 اور 51 ہے۔ مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں متاثرین کی تعداد بڑھ کر 2446 ہو گئی ہے اور 28 اموات ہوئی ہے۔ پنجاب میں 45، بہار میں 21، ہریانہ میں 20، کیرالہ میں نو، اڑیسہ میں سات، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ میں پانچ پانچ، آسام اور چنڈی گڑھ میں چار چار اور چھتیس گڑھ اور میگھالیہ میں اس وبا سے ایک ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی کا انتقال

 کوہ کن کے معروف عالم دین اور جمعیۃ علما ء ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی نے سنیچر کے روز مختصر علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ موصوف قدیم دینی و علمی درسگاہ دار العلوم حسینیہ شری وردھن ضلع رائے گڑھ (مہاراشٹرا) کے مہتمم بھی تھے۔

’کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے؟ مودی جی کو بتانا چاہیے‘

 کانگریس نے کہا ہے کہ چین نے وادی گلوان میں ہندوستانی حدود میں دراندازی کی ہے اور اس کے فوجی دستے ملک کے اسٹریٹجک نقطہ نظر سے متعدد اہم علاقوں میں تعینات ہیں، اس لیے اب وزیر اعظم نریندر مودی کو یہ بتانا چاہiے کہ کیا چین کا ہندوستانی سرزمین پر قبضہ نہیں ہے۔