نیپال میں سیلاب نے مچائی تباہی، 32 افراد ہلاک 17 لاپتہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th July 2019, 12:38 PM | عالمی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

کھٹمنڈو،14؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) نیپال میں جمعرات سے ہونے والی زبردست بارش سے سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات میں اب تک کم از اکم 32افراد جاں بحق ہوئے اور 12 افراد سنگین طور پر زخمی ہوئے ہیں جب کہ 17 افراد لاپتہ ہیں۔

وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز بتایا کہ مسلسل ہونے والی موسلادھار بارش کے نتیجے میں، سیلاب اور تودے گرنے کے باعث 21 اضلاع میں عام لوگوں کی زندگی بری برح متاثر ہوئی ہے۔ ٹیلی ویژن کے فوٹیج میں کاٹھمنڈو بچاؤ ٹیم سیلاب کی زد آنے والے گھروں سے لوگوں کو ربڑ کی کشتیاں کی طرف لے جاتی نظر آرہی ہیں۔ نیپال کے پولیس ہیڈکوارٹر کے مطابق ہفتہ دوپہر تک 831 افراد کو بچایا جاچکا ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رمیش تھاپا نے کہا کہ 27،830 پولیس اہلکار ملک کے مختلف حصوں میں بچاؤ کے کام میں مصروف ہیں۔

محکمہ ہائیڈرولوجی اور محکمہ موسمیات کی سربراہ ارچنا شریشٹھ نے میڈیا کو بتایا کہ ملک بھر میں اتوار تک بھاری بارش ہونے کے امکانات ہیں۔ ادھر وزیر اعظم کھڑک پرساد شرما اولی نے سیلاب اور لینڈ سلائڈنگ میں مارے گئے لوگوں کے غم زدہ خاندانوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’آفت میں مارے گئے لوگوں کے خاندانوں کے تئیں میں تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘

ایک نظر اس پر بھی

ملائشیا:ذاکر نائک نے متنازع بیان پر معافی مانگ لی

ملائشیا میں، متنازع اسلامی مبلغ ذاکر نائک پرعوامی طور پرتقریر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پولیس کے محکمہ مواصلات کے چیف اور سینئر اسسٹنٹ کمانڈر، داتوک اسماوتی احمد نے کہا، ہاں“ تمام پولیس دستوں کو ایسے احکامات دیئے گئے ہیں اور قومی سلامتی کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس ...

کاروارمیں ریڈ الرٹ کے باوجود کوسٹل سیکیوریٹی پولیس کی انٹر سیپٹر کشتیاں نہیں اتریں سمندر میں!

ابھی دو دن پہلے ملک کی خفیہ ایجنسی نے سمندری راستے سے دہشت گردانہ حملہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد پوری ریاست کرناٹکا میں اور بالخصوص ساحلی کرناٹکا میں ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

منگلورو:ڈاکٹرمریم انجم بن گئیں خواتین سے متعلقہ کینسرکے علاج میں ایم سی ایچ ڈگری پانے والی جنوبی کینرا کی پہلی ماہر ڈاکٹر 

ڈاکٹر مریم انجم نے خواتین سے متعلقہ کینسر کے شعبے میں خصوصی مہارت والی ایم سی ایچ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ جس کے ساتھ انہیں جنوبی کینرا میں اس طرح کی مہارت پانے والی پہلی ڈاکٹر ہونے کا اعزاز ملا ہے۔