بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 12th May 2019, 6:40 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل 12/مئی (ایس او نیوز) ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور اکثر گھروں کے  کنویں سوکھ گئے ہیں۔ خلیفہ محلہ، مشما محلہ، قاضیا محلہ،  جامعہ محلہ، علوہ محلہ، غوثیہ محلہ، تکیہ محلہ سمیت اطراف کے تمام علاقوں میں  لوگ پینے کے پانی کو لے کر سخت پریشان ہیں،  یہ بات الگ ہے کہ بعض سماجی اداروں اوراسپورٹس سینٹروں کے ذریعے ان علاقوں میں اب ٹینکوں کے ذریعے پانی سپلائی کیا جارہا ہے، مگر سال در سال بھٹکل میں پینے کے پانی کی قلت میں اضافہ  کی  آخر  کیا  وجہ ہے، اُس پر ابھی تک غور نہیں کیا جارہا ہے۔

 شرابی ندی میں مٹی اور کیچڑ کےڈھیر: ایک طرف   کونار پہاڑی  سے اور دوسری طرف گلمی کے بیہلّی سے  صاف اور میٹھے پانی کا نالہ موڈ بھٹکل میں جاکر ملتا ہے، یہاں سے یہ نالہ چوتنی میں ملتا ہے  تودوسری طرف تلاند، برنداون نالہ ،  جپنّا کلّو نالہ  اور دیگر چھوٹے چھوٹے نالے اور جھیل چوتنی ندی میں ضم ہوکر شرابی ندی میں منتقل ہوجاتے ہیں  یہاں سے  شرابی ندی   کدرے بیرپا مندر، شاذلی مسجد، غوثیہ اسٹریٹ،  مُنڈلی،  دھندا کاٹو،  مشما اسٹریٹ، خلیفہ اسٹریٹ، ڈارنٹا، ڈونگرپلی اور بیلنی سے سیدھے بندر میں بحر عرب سے   جاکر ملتی ہے۔

مگر تمام علاقوں کو سیراب کرنے والی   شرابی ندی اس وقت  مٹی اور کیچڑ کے ڈھیر   سے بھرگئی   ہے جس کے نتیجے میں ندی میں پانی ہی نہیں ہے  ندی میں مٹی اس قدر سرایت کر گئی ہے کہ ندی کی سطح نہ کے برابر ہے، کدری بیرپا مندر کے قریب ندی میں مٹی  اتنی زیادہ  بھرگئی ہے کہ یہاں ندی کسی میدان میں منتقل ہونے کا نظارہ پیش کررہی ہے۔

خیال رہے کہ   ایک طرف  بندر سمندر سے  بیک واٹر کا  کھارا پانی شرابی ندی سےہوتے ہوئے   غوثیہ اسٹریٹ تک پہنچتا ہے تو  وہیں اس ندی کے دوسرے کونے سے  میٹھا پانی شرابی ندی میں آکر ملتا ہے۔ مگر  گذشتہ کچھ سالوں سے  غیر قانونی قبضہ جات سے  جھیل اور نالوں سے جس مقدار میں  پانی شرابی ندی میں آکر ملنا چاہئے تھا، وہ  سلسلہ  بند ہوگیا ہے، وہیں کونکن ریلوے کے بعد اب نیشنل ہائی وے کے تعمیراتی کاموں  سے بھی   کئی ایک نالوں کا رابطہ  منقطع ہوگیا ہے ، چھوٹے چھوٹے نالے  اور جھیل نظروں سے اوجھل ہوتے جارہے ہیں،جس کے نتیجے میں ندی میں پانی بہنا بند ہوگیا ہے اور سمجھا جارہا ہے کہ  اسی سے   پورے شہر میں پانی کی قلت پائی جارہی ہے۔

 ایک زمانے کی سب سے خوبصورت اور گہری شرابی  ندی،  جسے ڈونگر پلی، ڈارنٹا، مشما اسٹریٹ اور غوثیہ اسٹریٹ وغیرہ جگہوں پر  لوگ نہانے اور تیرنے کے لئے استعمال کرتے تھے، آج  کچروں کو پھینکنے کے لئے استعمال ہورہی ہے۔ کئی  مکانوں کا گندہ پانی   ندی میں جاکر مل رہا ہے، افسوس اس بات پر ہے کہ  ذمہ داران   دیکھ  کر اور جان کر بھی انجان نظر آرہے   ہیں۔ 

غوثیہ اسٹریٹ میں ڈیم کی تعمیر :  موڈ بھٹکل اور چوتنی سے دور دراز مقامات تک پانی کو پہنچانے اور کھیتی باڑی کے کاموں کے لئے پانی کی قلت کو دور کرنے کے لئے  سابق رکن اسمبلی منکال وئیدیا نے اپنی میعاد میں  غوثیہ اسٹریٹ میں   ڈیم کی تعمیر کے لئے قریب دو کروڑ روپئے منظور کئے تھےاوراب  ڈیم کا کام تقریبا مکمل ہوچکا ہے۔ ڈیم کی تکمیل کے بعد غوثیہ اسٹریٹ سے  موڈ بھٹکل تک میٹھے پانی کو   محفوظ کیا جائے گا۔ ظاہر ہے  متعلقہ علاقہ کے عوام ڈیم تعمیر کرواسکتے ہیں تو توقع ہے کہ اُن  علاقوں  سے گذرنے والی  ندی  میں  ڈریڈجنگ کے ذریعے صفائی کرواتے ہوئے ندی کو گہرا بھی کرسکتے ہیں ۔

مگر غوثیہ اسٹریٹ سے   بیلنی تک  ندی  کی بدحالی کو دور کرنے اور شرابی ندی کی  ڈریجنگ  کراتے ہوئے   ان علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ حل کرانے   نہ کوئی سماجی  ادارہ  دلچسپی لیتا نظر آرہا ہے اور نہ ہی   کوئی  عوامی نمائندہ یا متعلقہ محکمہ   سامنے آتا نظر  آرہا ہے۔ 

ندی کو گہرا کرنے کی ضرورت: سمجھا جارہا ہے کہ شرابی ندی میں پانی کی سطح کم ہونے اور ندی کے سوکھ جانے سے اس کا راست اثر اطراف کے علاقوں کے کنووں پر  پڑ رہا ہے۔اطلاع کے مطابق  امسال  صرف نشیبی علاقوں میں  ایک ہزار سے زائد کنویں سوکھ گئے ہیں  ۔عوام کا کہنا ہے کہ پوری شرابی ندی کو  قریب 15 فٹ کھود کر گہرا کرنے کی ضرورت ہے اور ندی میں گری ہوئی مٹی ، کیچڑ  اور کانٹے دار درختوں کو ڈریجنگ مشین کے ذریعے   نکال کرندی کو  صاف کرنے  کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو  شہر کے کنویں بھی پانی سے  بھرے رہیں گے اور آئندہ  پانی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

کیا ندی صاف ہوگی یا پھر گٹر  کے گندے نالے میں تبدیل ہوگی ؟:  شرابی ندی جن جن علاقوں سے گذرتی ہے، تقریبا تمام علاقوں میں قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے حمایت یافتہ  میونسپل کونسلرس چن کر آتے ہیں۔ خیال رہے کہ  گذشتہ انتخابات میں  بھٹکل میونسپالٹی کے 23 وارڈوں میں  17 کونسلرس تنظیم کے حمایت یافتہ تھے۔اب 29 مئی کو پھر ایک بار میونسپالٹی کے انتخابات ہونے جارہے ہیں،   عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا اس بار  سماجی ادارہ مجلس اصلاح وتنظیم اور علاقوں کے   کونسلرس    اس  مسئلہ کو  حل کرنے کی طرف توجہ دیں  گے ؟ کیا شرابی ندی کی خوبصورتی بحال کی جائے گی ؟  یا پھر ندی کو گٹر کے گندے نالے میں تبدیل کرکے اس کی سنہری تاریخ کو ہمیشہ کے لئے دفنا دیا جائے گا ؟

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں صحت کارڈ(آروگیہ کارڈ)کے لئے عوام کا ہجوم :بہت جلدتعلقہ اسپتالوں میں بھی کارڈ دستیاب ہوگا : میڈیکل آفیسر

ریاست میں جاری سیاسی ناٹک بازی کی وجہ سے کوئی بھی ترقی جات کام نہیں ہونے کے متعلق عوامی سطح پر شکایات گردش میں ہیں۔ اکثر محکمہ جات میں کام سست ہونےکا الزام لگایا جارہاہے۔ عوام اس تعلق سے کوئی سرخراب کئے بغیر اگر صحت اچھی رہی تو زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنے کی امید میں آروگیہ کارڈ ...

کاروار ایمپلائمنٹ آفس میں انٹرویوکیمپ : بی ای،بی سی اے ،بی کام سمیت ڈگری  طلبا توجہ دیں

شہر کی روزگار رجسٹریشن دفتر میں 25جولائی کی صبح 30-10سے دوپہر 30-03بجے تک منگلورو سافٹ وئیر ڈیولپنگ کمپنی اور دیاسسٹم کی جانب سے ’’انٹرویو کیمپ‘‘کا اہتمام کئے جانےکی ایمپلائمنٹ آفیسر نے پریس ریلیز کے ذریعے جانکاری دی ہے۔

اترکنڑا ضلع میں آفاقی حادثات کامقابلہ کرنے ڈرون کیمرہ سمیت مختلف تحفظاتی آلات کی خریداری : ڈی سی

اترکنڑا ضلع میں آفاقی حادثات سے نمٹنے اور نگرانی کے لئے ضلع انتظامیہ کی جانب سے جدید ٹکنالوجی سے آراستہ ضروری اشیاء خریدنے کا فیصلہ لئےجانے کی  اترکنڑا ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے بات بتائی ۔

کاروار: سی آر زیڈ قانون میں رعایت۔سیاحت کے لئے مفیدمگرماہی گیری کے لئے ہوگی نقصان دہ

ساحلی علاقوں میں سمندر ی جوار کی حد سے 200میٹر تک تعمیرات پر روک لگانے والے کوسٹل ریگولیشن زون(سی آر زیڈ) قانون میں رعایت کرتے ہوئے اب ندی کنارے سے 100میٹرکے بجائے 10میٹر تک محدود کردیا گیا ہے۔

سرسی ڈی وائی ایس پی سے کی گئی یلاپور رکن اسمبلی شیورام کوڈھونڈنکالنے کی گزارش

کانگریس اور جے ڈی ایس کے اراکین نے بغاوت کرتے ہوئے اسمبلی اجلاس سے دور رہنے اور وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کی جانب سے پیش کی گئی ’اعتماد‘ کی تحریک کے حق میں ووٹ نہ دینے کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے مخلوط حکومت گرنا یقینی ہوچلا ہے۔ 

کرناٹک : استعفیٰ دینے والوں کی فہرست میں یلاپور رکن اسمبلی ہیبار بھی شامل۔کیاوزارت کے لالچ میں چل پڑے آنند اسنوٹیکر کے راستے پر؟

ریاست کرناٹک  میں جو سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے اور اب تک کانگریس، جے ڈی ایس مخلوط حکومت کے تقریباً 13 اراکین اسمبلی اپنا استعفیٰ پیش کرچکے ہیں اس سے مخلوط حکومت پر کڑا وقت آن پڑا ہے اور قوی امکانا ت اسی بات کے دکھائی دے رہے ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے سینئر قائدین کی جان توڑ کوشش ...

بھٹکل میں 110 کے وی اسٹیشن کے قیام سے ہی بجلی کا مسئلہ حل ہونے کی توقع؛ کیا ہیسکام کو عوامی تعاون ملے گا ؟

بھٹکل میں رمضان کے آخری دنوں میں بجلی کی کٹوتی سے جو پریشانیاں ہورہی تھی، سمجھا جارہا تھا کہ  عین عید کے  دن  بعض نوجوانوں کے  احتجاج کے بعد  اُس میں کمی واقع ہوگی اور مسئلہ حل ہوجائے گا، مگر  عید الفطر کے بعد بھی  بجلی کی کٹوتی یا انکھ مچولیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور عوام ...

بھٹکل تعلقہ اسپتال میں ضروری سہولتیں تو موجود ہیں مگر خالی عہدوں پر نہیں ہورہا ہے تقرر

جدید قسم کا انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو)، ایمرجنسی علاج کا شعبہ،مریضوں کے لئے عمدہ ’اسپیشل رومس‘ کی سہولت کے ساتھ بھٹکل کے سرکاری اسپتال کو ایک نیا روپ دیا گیا ہے۔لیکن یہاں اگر کوئی چیز نہیں بدلی ہے تو یہاں پر خالی پڑی ہوئی اسامیوں کی بھرتی کا مسئلہ ہے۔ 

آر ایس ایس کی طرح کوئی مسلم تنظیم کیوں نہیں؟ از: ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

مسٹر نریندر مودی کی تاریخ ساز کامیابی پر بحث جاری ہے۔ کامیابی کا سب کو یقین تھا مگر اتنی بھاری اکثریت سے وہ دوبارہ برسر اقتدار آئیں گے اس کا شاید کسی کو اندازہ نہیں تھا۔ دنیا چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ کل ٹائم میگزین نے ٹائٹل اسٹوری مودی پر دی تھی جس کی سرخی تھی ”India’s Divider in Chief“۔

خود کا حلق سوکھ رہا ہے، مگر دوسروں کو پانی فراہم کرنے میں مصروف ہیں بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے نوجوان؛ ایسے تمام نوجوانوں کو سلام !!

ایک طرف شدت کی گرمی اور دوسری طرف رمضان کا مبارک مہینہ  ۔ حلق سوکھ رہا ہے، دوپہر ہونے تک ہاتھ پیر ڈھیلے پڑجاتے ہیں،    لیکن ان   نوجوانوں کی طرف دیکھئے، جو صبح سے لے کر شام تک مسلسل شہر کے مختلف علاقوں میں پہنچ کر گھر گھر پانی سپلائی کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں  نہ تھکن کا ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...