بنگلورو: ’میڈیکل ٹیررزم ‘ کا ٹائٹل دینے والی بی جے پی اب خاموش کیوں ہے ؟:کانگریس کا سوال

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 20th June 2021, 8:11 PM | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بنگلورو:20؍جون(ایس اؤ نیوز)بیڈ بلاکنگ دھندے کو ’’میڈیکل ٹیررزم ‘‘ کا نیا ٹائٹل دینے والی بی جےپی اب خاموش  کیوں ہے، اس سلسلے میں کوئی زبان  کیوں نہیں کھول رہا ہے، یہ سوال   ریاستی کانگریس نے بی جے پی سے کرتے ہوئے  جواب مانگا ہے۔

کانگریس پارٹی کی طرف سے     ٹویٹ  کرتےہوئے سوال کیا   گیا ہے کہ ’ بیڈبلاکنگ دھندے میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ستیش ریڈی کے قریبی کے اکاؤنٹ میں کورونا کے مریضوں کی طرف سے رقم جمع ہونےکا پتہ چلا ہے۔کانگریس نے اپنے ٹویٹ میں پوچھا ہے کہ  کیا اس معاملے میں ستیش ریڈی کے کردار کے متعلق جانچ نہیں ہوگی ؟ کیا حکومت ان کو تحفظ بخش رہی ہے ؟

خیال رہے کہ بی جے پی کے رکن پارلیمان تیجسوی سوریہ، بی جے پی کے ارکان اسمبلی روی سبرمنیا اور ستیش ریڈی نے الزام لگایا تھا کہ بی بی ایم پی حدود میں کووڈ کے متاثرین میں بیڈ تقسیم کو لےکر گھپلہ ہورہاہے۔ جب کہ بیڈ بلاکنگ معاملے کی  جانچ کرتے ہوئے سی سی بی پولس نے بومن ہلی کے بی جے پی کے رکن سمبلی ستیش ریڈی کے قریبی بابو سمیت تین لوگوں کو ملزم گردانتے ہوئے چارج شیٹ داخل کی ہے۔ جئے نگر پولس تھانے میں درج ہوئے معاملے کی انسپکٹر شری دھر پجار کی قیادت والی ٹیم نے جانچ مکمل کرنے کے بعد شہر کی پہلی اے سی ایم ایم عدالت میں 250صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل : کرناٹک میں پیر سے پہلی تا پانچویں جماعت کے کلاسوں کا ہوا آغاز؛ ریاست میں 90 فیصد اور اُترکنڑا میں 93 فیصد طلبہ کی حاضری؛ زیادہ تر والدین میں خوشی کی لہر

ریاست کرناٹک میں کووڈ لاک ڈاون کی وجہ سے  20  ماہ سے بند  پرائمری اسکولس پیر سے دوبارہ کھل گئے جس کے ساتھ ہی اکثر والدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ریاست میں    پہلے دن  90 فیصد طلبہ حاضر رہے،اسی طرح ضلع اُترکنڑا میں  طلبہ کی حاضری 93.26 فیصددرج کی گئی۔ 

منگلورو پولس فائرنگ؛ ریاستی حکومت نے پولس کو دی کلین چٹ، کہا؛ کسی بھی پولس اہلکار سے غلطی نہیں ہوئی

ریاست کی برسر اقتدار بی جے پی حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ منگلورو میں شہریت قانون (سی اے اے ،این آر سی) مخالف ترمیمی قانون کے احتجاج کو روکنے کےلئےپولس اہلکاروں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں پولس   سے  کوئی غلطی نہیں ہوئی ہے۔

کرناٹک کے بیلگام میں بلیک فنگس کی وجہ سے خاتون کی موت کے بعد شوہر نے چار بچوں کے ساتھ کرلی خودکشی

حال ہی میں کرناٹک کے بیلگاوی میں ایک خاتون کی بلیک فنگس کی وجہ سے موت واقع ہوئی تھی جس کے غم میں آج سنیچر کو اس کے شوہرجو ایک ریٹائرد فوجی ہے  نے اپنے چار بچوں کے ساتھ خودکشی کرلی۔واردات بیلگام کے  ہُوکّیری کے  قریب  بورگال دیہات میں پیش آئی۔

مرڈیشور میں سیاحوں کی بھیڑ : ساحل سمندر پر عوامی چہل پہل میں بے تحاشہ اضافہ : ٹرافک نظام متاثر

ہفتہ بھر میں مسلسل تین چار چھٹیاں ملنے سے سیاحتی مرکز مرڈیشور سیاحوں کی بھیڑ جمع ہوگئی ہے،سمندری کنارے پر عوام  چیونٹیوں کی طرح نظر آنے سے مرڈیشور اور بھی چھوٹا محسوس ہونےلگا ہے۔

مینگلور: جنوبی کینرا میں بڑھتی غیر اخلاقی پولیس گیری ۔ امسال پیش آئے تشدد کے 12 معاملے۔۔۔  وارتا بھارتی کی خصوصی رپورٹ      (ترجمہ : ڈاکٹر محمد حنیف شباب)

ضلع جنوبی کینرا میں مذہبی منافرت کی بنیاد پر چلائی جارہی غیر اخلاقی پولیس گیری کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق امسال جنوری سے ستمبر تک  کےعرصہ میں 12 ایسے معاملہ سامنے آئے ہیں جن کے بارے میں پولیس کے پاس باقاعدہ شکایت اور کیس درج ہوئے ہیں ۔ دیگر چھوٹے ...

بھٹکل: اترکنڑا ضلع سے گزرنے والی قومی شاہراہ فورلین کا تعمیراتی کام سست روی کاشکار:عوامی سطح پر تعمیراتی کام میں رشوت خوری پر بحث

کسی بھی ملک ، ریاست یا شہر کےلئے بہترین سڑکیں ترقی کی علامت میں شمار کی جاتی ہیں اور شاہراہیں اس کی شناخت ہوتی ہیں تو خاص کر فورلین، سکس لین ملک کی ترقی کی مصدقہ شناخت ہوتی ہیں۔ لیکن کیا کریں ، وہی قومی شاہراہ کی تعمیر ساحلی پٹی پر مخصوص عہدوں پر فائز افراد ، کمپنیوں کے لئے رقم ...

بھٹکل میں کووڈ کی تیسری لہر کی دہشت اور ویکسین کی قلت ۔ ویکسین سینٹرس کا چکر لگا کر عوام لوٹ رہے ہیں خالی ہاتھ

کووڈ کی دوسری لہر کچھ تھم تو گئی ہے مگر عوام کے اندر تیسری لہر کا خوف اور ویکسین نہ ملنے کی وجہ سے دہشت کا ماحول بنتا جارہا ہے۔ جبکہ حکومت کی  طرف سے  18سال سے زائد عمر کے تمام افراد کا ویکسینیشن کرنے کا بھروسہ دلایا گیا تھا ۔      لیکن فرسٹ ڈوز کی بات تو دور، فی الحال پہلا ڈوز لے ...

بھٹکل : بڑے جانوروں کی قربانی پر سرکاری پابندی کے پس منظر میں بکروں کا کاروبار زوروں پر

بقر عید کی آمد کے ساتھ بھٹکل میں بڑے پیمانے پر بڑے جانوروں کی قربانی ہمیشہ ایک معمول رہا ہے ۔ مگر امسال ریاستی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے بڑے جانور لانے اور فروخت کرنے میں جو رکاوٹیں پیدا ہورہی ہیں اس پس منظر میں بکرے کی منڈی بہت زیادہ اچھال پر آگئی ہے۔