امریکی رپورٹ کا خلاصہ؛ ہندوستان کی حکومت مسلم مخالف ! مسلم اداروں کے خلاف اقدامات؛ بی جے پی قائدین کی اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ جاری؛ شہروں کے مسلم نام بدلنے کا بھی حوالہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 23rd June 2019, 11:22 AM | ملکی خبریں | عالمی خبریں |

واشنگٹن،23؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) مذہبی آزادی سے متعلق  امریکہ کے اسٹیٹ  ڈپارٹمنٹ کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان میں ہجومی تشدد، تبدیلی مذہب کی صورتحال، اقلیتوں کے قانونی موقف اور سرکاری پالیسیوں کا احاطہ کیا گیا  ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ  ہندوستان میں سال 2018 کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد جاری رہا۔ رپورٹ  کے مطابق  ہجومی تشدد کی وجہ وہ افواہیں رہیں جس میں یہ پھیلایا گیا کہ متاثرہ شخص یا تو گائے کی تجارت کر رہا تھا یا پھر گئو کشی کر رہا تھا۔

رپورٹ کے مطابق  ہندوستانی کی مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کے طریقوں اور اداروں کو متاثر کرنے والے اقدامات کئے، اسی طرح حکومت مسلمانوں کے  تعلیمی اداروں کے اقلیتی موقف کوسپریم کورٹ میں چیلنج کررہی ہے، اقلیتی موقف کی وجہ سے ان اداروں کو اپنے نصاب اور تقررات میں آزادی اور بعض سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں مسلم  تہذیب کے حامل شہروں کے ناموں کی تبدیلی بالخصوص الہ آباد کا نام بدل کر پریاگ راج رکھنے کا حوالہ دیا گیا۔ انسانی حقوق کارکنوں کا کہنا ہے کہ  ان اقدامات کا مقصد ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کے تعاون کو مٹانا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  ملک میں فرقہ وارانہ وجوہات کی بنا پر ہلاکتوں، حملوں، فساد، تعصب، غندہ گردی اور مذہبی عقائد پر عمل کے انفرادی حقوق کو  محدود کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

عالمی مذہبی آزادی سے متعلق سال 2018 کی امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ بی جے پی کے کچھ سینئر عہدیداروں نے اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریریں کی۔مزید کہا گیا ہے کہ ’’ہندو انتہا پسند گروپوں کے ذریعہ پورے سال اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو گائے کی تجارت یا گائے کے  گوشت کو  کاٹنے کی افواہوں کے چلتے ہجومی تشدد کا شکار بنایا‘‘۔

پورٹ میں درج ہے کہ سال 2018 کے نومبر ماہ میں 18 ایسے حملہ ہوئے جن میں آٹھ افراد کی موت ہوئی۔  اتر پردیش میں 22 جون کو دو پولس اہلکار کے خلاف اس لئے کارروائی ہوئی، کیونکہ مویشی کے ایک تاجر مسلمان کی پولس حراست میں موت ہو گئی تھی۔ اس رپورٹ میں دنیا کے تمام ممالک اور خطوں میں مذہبی آزادی کے حوالے سے پوری تفصیلات درج ہیں۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پومپیو نے رپورٹ جاری کرنے کے بعد کہا کہ یہ رپورٹ پوری دنیا میں بنیادی حقوق کے بارے میں ایک سالانہ رپورٹ کارڈ کی طرح ہے جس سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ کن ممالک میں عوام کے بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور کن ممالک میں حالات بہتر ہیں۔

واضح رہے کہ سال 2011 کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں ہندوؤں کی آبادی 79.8 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی 14.2 فیصد درج ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

لبنان: تین روزہ قومی سوگ کا آغاز، عالمی امداد بھی جاری

لبنان میں جہاں ایک طرف زبردست دھماکے کی وجوہات کی تفتیش جاری ہے وہیں جمعرات سے تین روزہ قومی سوگ کا آغاز ہوگیا ہے۔ بیروت میں ہونے والے دھماکے میں 135 افراد ہلاک ہوئے تھے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کے روز ہونے والے بم دھماکے سلسلے میں حکومت نے جس تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ...

عالمی ادارہ صحت نے کہا؛ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے سے بڑھ رہے ہیں کورونا کے معاملات، نوجوان مریضوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ نوجوانوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے لے کر جولائی کے وسط تک، کرونا وائرس کا شکار ہونے والے 60 لاکھ ...

جاپانی ماہرین کا کورونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لئے سوپر کمپیوٹر کے استعمال کا اعلان

کورونا وائرس کی روکتھام کے اقدامات سے متعلق جاپان کے انچارج وزیر نیشی مورا یاسوتوشی نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت، مصنوعی ذہانت اور دیگر ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے، انفیکشنز پر قابو پانے کے نئے موثر اقدامات دریافت کرنے میں، رواں ماہ کے آخر تک کامیاب ہو جائے گی۔ جاپانی ...

بیروت میں ہوئے زبردست دھماکہ کی کیا ہے اصل کہانی ؟ 6 سال سے ایک بحری جہاز پر 2750 ٹن دھماکا خیز مواد امونیم نائٹریٹ رکھا ہوا تھا؛ اب تک 135 کی موت

بیروت،06 /اگست (آئی این ایس انڈیا)منگل چار اگست کی سہ پہر ہونے والے زور دار دھماکے کے نتیجے میں بیروت میں بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے کا مقام مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس کا شمار لبنان کے اہم ترین مقامات میں ہوتا ہے جو ریاستی خزانے میں مالی رقوم پہنچانے کا نمایاں ترین ذریعہ تھا۔ ...

امریکہ کا ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی میں توسیع پر اصرار بدستور قائم

امریکہ ابھی تک ایران پر عائد ہتھیاروں کی بین الاقوامی پابندی کی قرار داد میں توسیع کے موقف پر مصر ہے۔ یہ پابندی رواں سال اکتوبر میں اختتام پذیر ہو رہی ہے۔اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے زور دے کر کہا ہے کہ اُن کا ملک آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ...