اڈپی، 28 / اگست (ایس او نیوز) مانسون کے دوران سمندری موجوں کے ساتھ کنارے پر آ کر جمع ہونے والے کچرے کے بڑے ڈھیر کی ملپے کا ساحل سیاحوں اور علاقے کے رہائشیوں کے پریشانی کا سبب بن گیا ہے ۔
عوام کا کہنا ہے کہ یہ کوڑا اور کچرا قدرتی ساحل کے ماحول خراب کر رہا ہے ۔پلاسٹک کا فضلہ، بوتلیں، پیمپرس، جوتے، چپلیں، ناقابل استعمال کھلونے اور کھانے کے ریپرز وغیرہ ایک ڈھیر ہے جو ساحل کے تقریباً دو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے ۔
مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ساحل کی دیکھ بھال کی ذمہ داری گزشتہ سال بیچ ڈیولپمنٹ کمیٹی سے واپس لیتے ہوئے محکمہ سیاحت کو منتقل کیے جانے کے بعد سے اب تک یہاں پر صفائی کا کوئی کام نہیں کیا گیا ہے ۔ ورنہ اس سے قبل بارش کے موسم میں ساحلی کنارے پر جمع ہونے والے کچرے کو کم از کم دو سے تین بار صاف کیا جاتا تھا ۔
ادھر ادھر پڑے ہوئے کچرے کے ڈھیر نے علاقے میں بدبو پیدا کر دی ہے کیونکہ سمندر میں جوار کے وقت لہروں کےذریعے لائے گئے ملبے میں مردہ مچھلیاں بھی شامل رہتی ہیں ۔
ملپے ساحل ویک اینڈ کے دوران بڑی تعداد میں آنے والے سیاحوں نے اس علاقے میں غیر صحت مند حالات پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔
اس کے علاوہ گنیش چترتھی کے وسرجن سے قبل یہاں موجود کچرے کے ڈھیر نے بھی خدشات کو جنم دیا ہے، کیونکہ ملپے، تھوٹم، کوڈیالی، موڈوبیٹو، کوڈاور، پانڈوبیٹو، کلماڈی اور کئی مقامی بھجن مندروں کی طرف سے بٹھائی گئی گنیش کی مورتیوں کو روایتی طور پر مرکزی ساحل پر ہی ڈبویا جاتا ہے ۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جمع ہونے والا کچرا مورتی وسرجن کے عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے اس لئے انہوں نے متعلقہ محکمہ سے بغیر کسی تاخیر کے کچرا ہٹانے کی فوری کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے ۔