ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار : نایاب جنگلی جانور ' چیونٹی خورا' کے چھلکے فروخت کرنے کی کوشش - بھٹکل کا ایک شخص منگلورو میں گرفتار

کاروار : نایاب جنگلی جانور ' چیونٹی خورا' کے چھلکے فروخت کرنے کی کوشش - بھٹکل کا ایک شخص منگلورو میں گرفتار

Sat, 06 Jun 2026 17:32:54    S O News

کاروار ، 6 / جون (ایس او نیوز) نایاب جنگلی جانور 'چیونٹی خورا'  کے جسم پر رہنے والے سیپیوں جیسے سخت چھلکے [اسکیلس] فروخت کرنے کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے منگلورو میں سی آئی ڈی فاریسٹ موبائل اسکواڈ نے بھٹکل تعلقہ کے ایک شخص کو 3 کلو چھلکوں کے ساتھ گرفتار کر لیا ہے ۔
    
'چیونٹی خورا' یا پنگولین [کنڑا: چیپّے ہندی] دنیا کے نایاب ہوتے ہوئے بے ضرر جنگلی جانوروں میں شمار ہوتا ہے ۔ یہ بہت شرمیلا جانور ہوتا ہے جو صرف چیونٹیاں اور کیڑے مکوڑے کھاتا ہے ۔ اس کے جسم پر سخت قسم کے سیپیوں جیسے چھلکے ہوتے ہیں جسے وہ اپنے دفاع کے لئے استعمال کرتا ہے اور خطرہ محسوس ہونے اپنے آپ کو ایک گول گیند کی شکل میں سکیڑ لیتا ہے ۔
    
پنگولین کے گوشت اور خاص کر اس کے چھلکوں کے تعلق سے یہ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ بہت سی بیماریوں کے لئے دوا کام کرتے ہیں ۔ اسی گمان اور بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی بھاری مانگ کی وجہ سے اس کا بے تحاشہ شکار کیا جاتا ہے اور اس کے اجزا کی اسمگلنگ کی جاتی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ جنگلی جانور اب نایاب ہوتا جا رہا ہے ۔
    
موصولہ رپورٹ کے مطابق گرفتار شدہ ملزم کا نام ایشور ناگو مراٹھی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ شخص جنگلی جانوروں کے اعضاء فروخت کرنے کے مقصد منگلورو کے پی ٹی جنکشن کے قریب گاہک کی تلاش میں آیا ہوا تھا ۔ مصدقہ اطلاع ملنے پر پولیس نے چھاپہ مارا اور ملزم کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ۔ 
    
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے قبضے سے تقریباً تین کلو پنگولین کے چھلکے ضبط کیے گئے اور اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس نے یہ چھلکے کہاں سے حاصل کیے اور اس جال میں اور کتنے افراد شامل ہیں ۔  تحفظ جنگلاتی حیاتیات قانون کے تحت معاملہ درج کرنے کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ۔
    
منگلورو سی آئی ڈی فاریسٹ موبائل اسکواڈ کے سب انسپکٹر دلیپ جی آر اور ان کی ٹیم نے چھاپہ ماری اور گرفتاری کی اس کارروائی میں حصہ لیا ۔ 


Share: