ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / شیو سینا میں نئی سیاسی بغاوت، ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا؛ چھ ارکانِ پارلیمنٹ کے شندے گروپ میں جانے کی قیاس آرائیاں

شیو سینا میں نئی سیاسی بغاوت، ادھو ٹھاکرے کو بڑا جھٹکا؛ چھ ارکانِ پارلیمنٹ کے شندے گروپ میں جانے کی قیاس آرائیاں

Wed, 17 Jun 2026 19:08:52    S O News

ممبئی، 17 /جون (ایس او نیوز /ایجنسی): مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر بڑی ہلچل مچ گئی ہے اور ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا (یو بی ٹی) کو نئے سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پارٹی کے کم از کم چھ ارکانِ پارلیمنٹ الگ گروپ بنانے یا وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیو سینا میں ضم ہونے کی تیاری کر رہے ہیں، جس سے ادھو ٹھاکرے کے لیے ایک اور بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے رابطہ کیا ہے اور علیحدہ پارلیمانی گروپ کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس کارروائی کو ’’آپریشن ٹائیگر‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے، جس کے تحت ادھو ٹھاکرے کے کیمپ میں مزید توڑ پھوڑ کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب شیو سینا (یو بی ٹی) کے سینئر رہنما اروند ساونت نے لوک سبھا اسپیکر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت شیو سینا تنازع کے فیصلے تک کسی نئے دھڑے یا انضمام کو تسلیم نہ کیا جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کی اصل شناخت کا معاملہ ابھی قانونی مرحلے میں ہے۔

ادھو ٹھاکرے نے بھی صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اپنی جماعت کے تمام اراکینِ اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ مزید بغاوت کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے اور پارٹی صفوں میں اتحاد برقرار رکھا جا سکے۔

ادھر راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض اراکینِ پارلیمنٹ کو پارٹی چھوڑنے کے لیے بھاری مالی پیشکشیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ باغی اراکین کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ 2022 میں ایکناتھ شندے کی بغاوت کے نتیجے میں شیو سینا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی اور اسی کے بعد شندے گروپ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ حکومت تشکیل دی تھی۔ تازہ پیش رفت کو ادھو ٹھاکرے کی جماعت کے لیے ’’دوسری بڑی تقسیم‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے مہاراشٹر اور قومی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔


Share: