اندور ، 17/جون (ایس او نیوز /ایجنسی) اندور کے مقتول تاجر راجہ رگھوونشی کی والدہ اُما رگھوونشی نے سونم رگھوونشی کی ضمانت پر رہائی اور میڈیا کے سامنے پہلی مرتبہ آنے کے بعد اس کے رویے پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سونم پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد نہیں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ عدالتی عمل کے ذریعے ان کے بیٹے کو انصاف ضرور ملے گا۔
آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے اُما رگھوونشی نے کہا کہ سونم رگھوونشی پر قتل کا الزام بلاوجہ نہیں لگایا گیا۔ ان کے مطابق اگر سونم بے قصور ہوتی تو آج ان کا بیٹا راجہ رگھوونشی اس کے ساتھ زندہ موجود ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ حالات اور شواہد خود اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاملہ معمولی نہیں ہے۔
سونم کی جانب سے نیپال فرار ہونے کے الزامات کو مسترد کیے جانے کے سوال پر اُما رگھوونشی نے کہا کہ کئی مرتبہ عدالتی پیشیوں کا وقت آیا لیکن سونم عدالت میں حاضر نہیں ہوئی۔ ان کے بقول، انہی حالات کے بعد راجہ رگھوونشی کی جانب سے اس پر نیپال فرار ہونے کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان الزامات کے بعد ہی وہ منظر عام پر آئی۔
اُما رگھوونشی نے مزید کہا کہ سونم کو اپنے کسی عمل پر کوئی پچھتاوا محسوس نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق وہ ایک ماں سے اس کا بیٹا چھیننے کے باوجود ہنستی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اپنے شریکِ حیات کا نہ ہو سکا تو وہ کسی اور کا بھی نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ سونم کے گلے میں ایک تعویذ نما لاکٹ دیکھا گیا ہے۔ اُما رگھوونشی کے مطابق سونم کا خاندان پہلے بھی تانترکوں اور تعویذ گنڈوں پر یقین رکھتا تھا اور آج بھی اسی سوچ پر قائم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف تعویذ پہنانا مقصود تھا تو پھر سونم کے گلے میں کسی کے نام کا منگل سوتر کیوں پہنایا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سونم کے اہلِ خانہ مسلسل اس کی مدد کر رہے ہیں۔
ہائی کورٹ میں مقدمے کی کارروائی کے بارے میں اُما رگھوونشی نے کہا کہ معاملہ طویل ہوتا جا رہا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ جلد از جلد سماعت مکمل ہو، سونم کو عدالت میں پیش کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔
انہوں نے سونم کے بھائی گووند کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ابتدا میں خاندان کو یقین دلایا تھا کہ وہ انصاف کے حصول میں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا، لیکن بعد میں اپنی بہن کے حق میں سامنے آ گیا۔ اُما رگھوونشی نے کہا کہ اگر انصاف دلانا مقصود تھا تو پھر اس نے اپنا مؤقف کیوں بدلا۔ انہوں نے سونم کے جیل سے باہر ہونے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتِ حال انہیں قبول نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں راجہ رگھوونشی کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ وہ اپنی اہلیہ سونم رگھوونشی کے ساتھ سہاگ رات کے بعد سیر و تفریح کے لیے میگھالیہ گئے تھے۔ 23 مئی کو دونوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع سامنے آئی تھی، تاہم 3 جون کو ایک گہری کھائی سے راجہ رگھوونشی کی لاش برآمد ہوئی۔ سونم رگھوونشی پر اپنے شوہر کے قتل کا الزام ہے اور معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔