وجے پور 22 اگست (ایس او نیوز): کرناٹک کے وجے پور ضلع کے نڈگنڈی تعلقہ کے بلبٹی گاؤں میں ایک افسوسناک واقعے میں دو کمسن بہنیں کھلے کنویں میں گر کر جاں بحق ہوگئیں، جبکہ ان کے والد لاپتہ ہیں۔ دونوں بچیوں کی لاشیں برآمد کرلی گئی ہیں، تاہم والد سابنّا کی تلاش جاری ہے۔
متوفی بچیوں کی شناخت 15 سالہ ساکشی اور 10 سالہ رکشیتا کے طور پر ہوئی ہے۔ ساکشی نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ حادثہ جمعہ کی شام بلبٹی گاؤں میں واقع ایک باغیچے کے قریب موجود کھلے کنویں میں پیش آیا۔
سمجھا جارہا ہے کہ دونوں بچیاں حادثتی طور پر کنویں میں گری ہوں گی جبکہ بچیوں کو کنویں میں گرتا دیکھ کر ان کے والد 40 سالہ سابنّا انہیں بچانے کے لیے فوراً کنویں میں کود گئے ہوں گے۔ بتایا جارہا ہے کہ سابنّا کو تیراکی نہیں آتی تھی، جس کے باعث وہ بھی پانی میں ڈوب گئے اور تاحال لاپتہ ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی نڈگنڈی پولیس موقع پر پہنچی، جبکہ مقامی افراد نے بھی امدادی کارروائی شروع کردی۔ کنویں میں چھوٹی کشتی کے ذریعے تلاش شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران دونوں بچیوں کی لاشیں برآمد کرلی گئیں، تاہم سابنّا کا سراغ نہیں مل سکا۔
والدہ کے شبہ کے بعد تفتیش کا رخ بدلا
واقعے میں اس وقت ایک اہم پہلو سامنے آیا جب بچیوں کی والدہ لکشمی بائی نے اپنی دونوں بیٹیوں کی موت کے حالات پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس میں شکایت درج کرائی۔
ذرئع کے مطابق لکشمی بائی پوجا کے سلسلے میں دو بچوں کے ساتھ رشتہ دار کے گھر گئی ہوئی تھیں، جبکہ ساکشی، رکشیتا اور ان کے والد سابنّا باغیچے کے گھر میں موجود تھے۔ جب وہ واپس آئیں تو شوہر اور دونوں بچیاں گھر پر موجود نہیں تھے۔ تلاش کے دوران کنویں کے قریب سابنّا کے کپڑے ملے، جس کے بعد کنویں میں تلاش کی گئی اور دونوں بچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
والدہ کی شکایت کے بعد پولیس حادثاتی طور پر کنویں میں گرنے کے امکان کے ساتھ ساتھ بچیوں کی موت کے دیگر امکانات کی بھی تفتیش کر رہی ہے۔
پوسٹ مارٹم کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے
دونوں بچیوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد لاشیں اہل خانہ کے حوالے کردی گئیں۔ بعد ازاں بلبٹی گاؤں میں ان کی آخری رسومات ادا کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
دوسری جانب سابنّا کی تلاش کے لیے کنویں میں پانی نکالنے سمیت مختلف طریقوں سے کارروائی کی گئی، تاہم ان کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ پولیس اور مقامی افراد تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واقعے نے بلبٹی گاؤں میں غم کی فضا پیدا کردی ہے۔ ایک ہی خاندان کی دو کمسن بچیوں کی موت اور والد کے لاپتہ ہونے سے اہل خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔