ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / ناگیندر کے استعفے پر شیوکمار کا اپوزیشن کو جواب، ’ثبوت کے ساتھ ایوان میں بحث کریں‘

ناگیندر کے استعفے پر شیوکمار کا اپوزیشن کو جواب، ’ثبوت کے ساتھ ایوان میں بحث کریں‘

Sat, 22 Aug 2026 12:15:26    S O News

بنگلورو ، 22/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وزیر ناگیندر کے استعفے کے مطالبے پر باقاعدہ نوٹس دے کر ایوان میں بحث کریں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی نوٹس اور بحث کے کسی وزیر سے استعفیٰ طلب کرنا مناسب طریقہ نہیں ہے۔

جمعہ کو قانون ساز کونسل میں خطاب کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے اپوزیشن کے احتجاج پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بھی آئینی عہدوں پر فائز افراد پر مشتمل ہے اور اسے مناسب بحث کے بغیر اس طرح کا طرزِ عمل اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں اپوزیشن کے احتجاج پر حکومت کو کوئی اعتراض نہیں، تاہم احتجاج اور استعفے کے مطالبے کا بھی ایک آئینی اور جمہوری طریقہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب وہ پہلے پارٹی کے صدر تھے تو انہوں نے خود وزیر ناگیندر سے ملاقات کرکے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اسی تناظر میں ان کا استعفیٰ لیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت نے معاملے کی تحقیقات کرائی تھیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر اپوزیشن یہ واضح کرے کہ وزیر ناگیندر سے کس بنیاد پر استعفیٰ مانگا جا رہا ہے اور اس کے پاس کیا شواہد یا معلومات ہیں تو اس پر ایوان میں تفصیلی بحث کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن سے سوال کیا کہ مرکزی تفتیشی بیورو، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے کیا معلومات سامنے آئی ہیں، یہ بھی ایوان کے ذریعے عوام کے سامنے لائی جائیں۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ اپوزیشن کو پہلے یہ بتانا چاہیے کہ وزیر ناگیندر نے آخر کس وجہ سے استعفیٰ دینا ہے اور تحقیقات میں اب تک کیا سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن باقاعدہ نوٹس دے تو حکومت اس معاملے پر پورا دن بحث کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن انہیں موقع دے تو وہ ایوان میں تفصیل سے وضاحت کریں گے کہ ناگیندر کو دوبارہ کابینہ میں کیوں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وضاحت کے باوجود اپوزیشن مطمئن نہ ہو تو وہ اپنا احتجاج جاری رکھ سکتی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپوزیشن کے الزامات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی بحث کے کسی کو بدعنوان قرار دینا، رقم کی منتقلی کے الزامات لگانا اور حکومت کو بدعنوان قرار دینا مناسب نہیں ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ باقاعدہ نوٹس دے اور دو دن تک اسی معاملے پر تفصیلی بحث کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اپوزیشن کے تمام سوالات، شکوک و شبہات اور اعتراضات کا جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے اپوزیشن ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مرکزی اور ریاستی وزراء کے خلاف ماضی میں درج مقدمات اور ان کی تحقیقات کی تفصیلات اور متعلقہ رہنماؤں کے نام ایوان میں بیان کیے جائیں تو شاید اپوزیشن کو یہ بات ناگوار گزرے۔

وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ جمہوری نظام میں الزامات کے بجائے بحث، شواہد اور حقائق کی بنیاد پر معاملات کو ایوان میں اٹھایا جانا چاہیے۔


Share: