علی گڑھ ،22/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)علی گڑھ میونسپل کارپوریشن نے جمعرات۲۰؍ اگست کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی۳؍ اعشاریہ ۸؍ ایکڑ سے زائد پرائمری زمین پر باڑ لگا دی، جس سے اس جائیداد کی ملکیت پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جس کی مالیت تقریباً۵۰۰؍ کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔میونسپل عہدیداروں نے اس جگہ پر ایک بورڈ بھی نصب کر دیا، جس کے بعد وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی قیادت میں اے ایم یو کی ایک ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔خاتون نے میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام کو ’’غیر ضروری اور ناقابل قبول قدم‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یونیورسٹی اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔انہوں نے کہا، ’’یہ محض زمین کے اس ٹکڑے پر زبردستی قبضہ ہے جو قانونی طور پر ملک کے ایک تاریخی اعلیٰ تعلیمی مرکز سے تعلق رکھتی ہے، اور ہمارے پاس ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط تمام قانونی دستاویزات ہیں جو ہماری ملکیت کو ثابت کرتی ہیں۔‘‘وائس چانسلر نے یہ بھی سوال کیا کہ میونسپل کارپوریشن نے یونیورسٹی کو کوئی نوٹس دیے بغیر یہ کارروائی کیوں کی۔انہوں نے کہا، ’’یہاں تک کہ ان معاملات میں جہاں زمین پر غیر قانونی قبضہ کیا جا رہا ہے، حکام کو کارروائی کرنے سے پہلے قابض کو نوٹس جاری کرنا چاہیے۔‘‘
اے ایم یو کا کہنا ہے کہ زمین۱۹۲۵ء سے یونیورسٹی کی ملکیت ہےجمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں اے ایم یو نے کہا کہ یہ زمین۱۳؍ جون۱۹۲۵ء کو لینڈ ایکوزیشن ایکٹ۱۸۹۴ء کے تحت حاصل کی گئی تھی۔ اسے بعد ازاں۱۹؍ نومبر۱۹۴۰ء کو گورنر آف یونائیٹڈ پراونسز نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لیے مختص کر دیا۔اے ایم یو نے کہا کہ اس کے پاس آرکائیو ریکارڈز، ریونیو دستاویزات اور دیگر قانونی شواہد موجود ہیں جو اس جائیدادپر اس کے حق کو ثابت کرتے ہیں۔یونیورسٹی نے یہ بھی کہا کہ یہ مرکزی حکومت کے تحت ایک خود مختار تعلیمی ادارہ ہے اور اس لیے اس کی جائیدادیں مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔اے ایم یو نے الزام لگایا کہ اس کے ریونیو ریکارڈز کو۱۹۹۲ء میں کسی مجاز اتھارٹی کے حکم یا منظوری کے بغیر ’’چپکے سے ترامیم‘‘ کا نشانہ بنایا گیا۔یونیورسٹی نے کہا کہ اسے ۲۰۰۳ءمیں مبینہ ترامیم کا علم ہوا اور اس کے بعد سے وہ ریکارڈ کی اصلاح کے لیے کوشاں ہے۔ یونیورسٹی نے کہا کہ خاص طور پر تشویشناک بات یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن اس زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ ملکیت کا تنازع اسی اتھارٹی کے سامنے زیر التواء ہے۔اے ایم یو نے ۶؍جنوری۲۰۲۲ء کی ایک مشترکہ پیمائش رپورٹ کا بھی حوالہ دیا، جو تحصیلدار، کانونگو اورلیکھپال نے۳؍ جنوری۲۰۲۲ء کو کی گئی پیمائش کے بعد تیار کی تھی۔یونیورسٹی کے مطابق، رپورٹ میں متنازع جائیداد کو اے ایم یو رائیڈنگ فیلڈ سے تعلق رکھنے والا درج کیا گیا تھا۔یونیورسٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کارپوریشن فوری طور پر اپنی کارروائی روکے اور ملکیت کے تنازع کا قانون کے مطابق فیصلہ ہونے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھے۔
اے ایم یو کے پراکٹر نوید خان نے مکتوب میڈیا کو بتایا کہ ملکیت کا تنازع۲۰۲۳ء سے مقامی ایس ڈی ایم کے سامنے زیر التواء ہے اور یونیورسٹی اپنی دستاویزات جمع کرا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ سینئر ضلعی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے اور وہ پرامن حل کی امید رکھتے ہیں۔دریں اثنا، میونسپل کارپوریشن کی کارروائی کے بعد اے ایم یو ٹیچرز ایسوسی ایشن (اے ایم یو ٹی اے) کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔اے ایم یو ٹی اے کے صدر طفیل احمد نے کہا کہ یونیورسٹی کے اسٹیک ہولڈرز اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سمیت سینئر حکام سے رجوع کریں گے۔انہوں نے کہا، ’’اگر ضرورت پڑی تو ہم اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے۔’’ تاہم میونسپل کارپوریشن نے اے ایم یو کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔میونسپل کمشنر پریم پرکاش مینا نے کہا کہ سول باڈی کے پاس ریکارڈز ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زمین گزشتہ۴۰؍ سال سے ان کی ملکیت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سول باڈی جلد ہی اس زمین پر اہم شہری منصوبوں کی تعمیر شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔دریں اثنا، ضلع انتظامیہ نے اشارہ دیا ہے کہ تنازع کا فیصلہ دونوں فریقوں کو سننے کے بعد کیا جائے گا۔
چونکہ میونسپل کارپوریشن اور اے ایم یو دونوں ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں اور یہ معاملہ ضلع انتظامیہ کے سامنے زیر التواء ہے، یونیورسٹی کے رائیڈنگ فیلڈ کا تنازع اب ایک اور قانونی اور انتظامی جنگ کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ابھی کے لیے، ضلع انتظامیہ کے مطابق، متنازع زمین پر اے ایم یو کا قبضہ برقرار رہے گا۔علی گڑھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، اویناش کمار نے کہا کہ دونوں فریقوں کو نوٹس جاری کیے جائیں گے اور سماعت کے بعد ملکیت کا تعین کیا جائے گا۔انہوں نے کہا،"اے ایم سی واقعے کے بعد اے ایم یو کے وائس چانسلر نے کچھ دعوے کیے ہیں۔ یہ دستاویزات، آرکائیو کی جانچ اور ریکارڈ کی تصدیق کا معاملہ ہے۔ کوئی بھی فیصلہ یا نتیجہ اس کے بعد نکالا جائے گا۔‘‘