اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران بیرونِ ملک مقیم کرناٹکی ووٹروں، خصوصاً خلیجی ممالک میں روزگار کے لیے مقیم افراد کے لیے انتخابی فہرست میں اپنی موجودگی اور شناخت ثابت کرنے کا مسئلہ اہم سوال بن گیا ہے۔ ایک طرف کیرالہ میں بیرونِ ملک مقیم ووٹروں کی تصدیق کے لیے ویڈیو کال یا WhatsApp کال جیسے ذرائع استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے، وہیں تلنگانہ میں بیرونِ ملک مقیم ووٹروں کے لئے ان کے بالغ خاندانی فرد کو Enumeration Form مکمل کرکے جمع کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔
اس کے برعکس کرناٹک میں دستیاب موجودہ ہدایات میں کیرالہ یا تلنگانہ کی طرز پر بیرونِ ملک مقیم ووٹروں کے لئے ویڈیو کال کے ذریعے سماعت کرنے یا ان کی جگہ اس کے بالغ خاندانی فرد کو SIR کی کارروائی میں دستاویزات پیش کرنے کی کسی طرح کی سہولت فراہم نہیں کی گئی ہے۔ اس صورتحال سے خلیجی ممالک میں مقیم کنڑیگاس کو سخت پریشان ہیں۔
کرناٹک میں 43.81 لاکھ ووٹروں کو نوٹس:
کرناٹک میں SIR کے دوران 43,81,006 ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ یہ نوٹس ایسے معاملات میں جاری کیے جارہے ہیں جہاں انتخابی ریکارڈ میں منطقی تضاد پایا گیا ہے یا ووٹر کا نام 2002 کے سابقہ انتخابی ریکارڈ سے میپ نہیں ہوسکا۔
موجودہ شیڈول کے مطابق دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک ہے، جبکہ نوٹس جاری کرنے اور دعووں و اعتراضات کے تصفیے کا مرحلہ 24 اگست سے 22 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ حتمی ووٹر فہرست 27 اکتوبر 2026 کو شائع کی جائے گی۔
یعنی بیرونِ ملک مقیم کسی ووٹر کو SIR نوٹس موصول ہوا ہے تو اس کے پاس اپنی اہلیت اور شناخت کے ثبوت پیش کرنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر کارروائی کرنا ضروری ہے۔
بھٹکل میں مسئلہ زیادہ حساس:

ساحلی کرناٹکا کے بھٹکل میں یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بھٹکل سے تعلق رکھنے والے تقریباً 10 ہزار افراد خلیجی ممالک میں روزگار سے وابستہ ہیں۔
دوسری جانب بھٹکل میں13,681 ووٹروں کو 2002 کے سابقہ انتخابی ریکارڈ سے میپنگ نہ ہونے کی وجہ سے نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔
اگر ان نوٹس میں بیرونِ ملک مقیم ووٹر بھی شامل ہیں تو ان کے لیے مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ دبئی، ابوظبی، دمام، ریاض، جدہ، دوحہ، کویت، مسقط یا منامہ میں ملازمت کرنے والا شخص صرف انتخابی سماعت میں شرکت کے لیے ہندوستان آئے تو اسے فضائی سفر کے اخراجات، ملازمت سے چھٹی اور دیگر عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے بھٹکل جیسے خلیجی ہجرت کے بڑے مراکز میں بیرونِ ملک مقیم ووٹروں کے لیے متبادل طریقۂ کار کی ضرورت زیادہ شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

کیرالہ میں 21.5 لاکھ سے زیادہ ملیالی بیرونِ ملک مقیم
کیرالہ میں 21.5 لاکھ سے زیادہ ملیالی افراد بیرونِ ملک مقیم ہیں، جن میں بڑی تعداد خلیجی ممالک میں رہتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم ووٹروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر کیرالہ کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے ان کی سہولت کے لیے الگ Overseas Voters انتظامات بھی موجود ہیں۔
اس کے علاوہ بیرونِ ملک ووٹروں کی تصدیق کے لیے WhatsApp یا ویڈیو کال جیسے ذرائع استعمال کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے، تاکہ ووٹر کی شناخت اور تفصیلات کی تصدیق کے لیے اس کی ذاتی موجودگی لازمی نہ ہو۔
تلنگانہ میں اہل خانہ کے ذریعے کارروائی:
تلنگانہ نے بیرونِ ملک مقیم ووٹروں کے لیے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق بیرونِ ملک یا اپنی رہائش گاہ سے دور موجود اہل ووٹر کا Enumeration Form اس کے بالغ خاندانی فرد کے ذریعے جمع کرایا جاسکتا ہے۔ خاندانی فرد غیر حاضر ووٹر کی تفصیلات فارم میں درج کرکے اس کی جانب سے دستخط بھی کرسکتا ہے اور فارم BLO کے حوالے کرسکتا ہے۔
تلنگانہ کے انتخابی رہنما اصولوں میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ووٹر کا خاندانی فرد اس کی جانب سے فارم مکمل کرسکتا ہے، جبکہ ووٹر خود بھی آن لائن فارم جمع کراسکتا ہے۔
یہ انتظام اس لحاظ سے اہم ہے کہ بیرونِ ملک ملازمت کرنے والے شخص کو صرف SIR کے ابتدائی عمل کے لیے ہندوستان آنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
تلنگانہ میں بھی بڑی خلیجی آبادی
تلنگانہ سے تقریباً 15 لاکھ افراد کے خلیجی ممالک یا دیگر ECR ممالک میں مقیم ہونے کا تخمینہ مختلف رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔
یعنی کیرالہ اور تلنگانہ دونوں ہی ایسی ریاستیں ہیں جہاں بیرونِ ملک، خصوصاً خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں شہری مقیم ہیں، اور SIR کے دوران ان کے لیے عملی سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
کرناٹک کے تقریباً آٹھ لاکھ خلیجی باشندے:
کرناٹک بھی خلیجی ہجرت کے معاملے میں پیچھے نہیں ہے۔ تقریباً آٹھ لاکھ کنڑیگاس خلیجی خطے میں مقیم ہیں۔
ساحلی کرناٹکا کے دکشن کنڑا، اڈپی اور اتر کنڑا اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگ کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک میں روزگار حاصل کررہے ہیں۔ بھٹکل بھی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں خلیجی ہجرت مقامی معیشت اور سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔
سوال صرف سہولت کا نہیں، انتخابی حق کا بھی ہے:
SIR کا بنیادی مقصد انتخابی فہرست کو درست اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ ایسے میں بیرونِ ملک مقیم کسی اہل ووٹر کو محض اس وجہ سے اپنے حقِ رائے دہی کے تحفظ میں دشواری پیش نہیں آنی چاہیے کہ وہ روزگار کے سلسلے میں ملک سے باہر ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق ہندوستانی شہری جو روزگار، تعلیم یا دیگر وجوہ سے بیرونِ ملک مقیم ہیں اور کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل نہیں کرچکے، مقررہ شرائط پوری کرنے کی صورت میں Overseas Elector/NRI Voter کے طور پر رجسٹر ہوسکتے ہیں۔
اسی لیے کرناٹک میں بھی کم از کم ویڈیو کال کے ذریعے شناخت کی تصدیق، آن لائن سماعت، یا بیرونِ ملک مقیم ووٹر کے بالغ خاندانی فرد کو ERO/AERO کے سامنے مطلوبہ دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے کر متبادل طریقوں پر غور کیا جاسکتا ہے
اس طرح انتخابی فہرست کی تصدیق کا مقصد بھی برقرار رہ سکتا ہے اور بیرونِ ملک ملازمت کرنے والے اہل ووٹروں کو غیرضروری سفری مشکلات سے بھی بچایا جاسکتا ہے۔
22 اکتوبر کی ڈیڈ لائن سے پہلے فیصلہ ضروری:
کرناٹک میں نوٹس اور دعووں و اعتراضات کے تصفیے کا مرحلہ 22 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، جبکہ حتمی ووٹر فہرست 27 اکتوبر کو شائع ہونی ہے۔
ایسے میں بیرونِ ملک مقیم کرناٹکی ووٹروں کے لیے کسی متبادل طریقۂ کار کا فیصلہ جتنا جلد ہو، اتنا ہی بہتر ہوگا۔
بھٹکل کے معاملے میں یہ ضرورت مزید نمایاں ہوجاتی ہے، جہاں تقریباً 10 ہزار افراد خلیجی ممالک میں روزگار سے وابستہ ہیں اور تقریباً 13 ہزار ووٹروں کو No Mapping کی بنیاد پر نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔
کیرالہ میں ویڈیو کال کے ذریعے تصدیق کی راہ، تلنگانہ میں بالغ خاندانی فرد کے ذریعے کارروائی کی اجازت اور کرناٹک میں بیرونِ ملک مقیم شہریوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے اب سوال یہ ہے کہ کیا کرناٹک کے انتخابی حکام بھی خلیجی ممالک سمیت بیرونِ ملک مقیم کرناٹکی ووٹروں کے لیے کوئی ایسا آسان اور قابلِ عمل طریقہ اختیار کریں گے جس سے انہیں صرف SIR کی کارروائی میں شرکت کے لیے ہندوستان واپس نہ آنا پڑے؟