ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بہار ایس آئی آر: ووٹر لسٹ سے خارج کئی ووٹر گھروں پر موجود، سی پی آئی-ایم ایل کی سروے رپورٹ

بہار ایس آئی آر: ووٹر لسٹ سے خارج کئی ووٹر گھروں پر موجود، سی پی آئی-ایم ایل کی سروے رپورٹ

Tue, 29 Sep 2026 16:48:45    S O News

نئی دہلی ، 29/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) تیجسوی یادو اور ممتا بنرجی سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد تیار کی گئی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر کرائے گئے انتخابات کو منسوخ کرنے کے مطالبے کے درمیان سی پی آئی-ایم ایل (مالے) نے ’بہار ووٹر سروے 2026‘ رپورٹ جاری کر کے انتخابی نتائج پر ایس آئی آر کے اثرات کو لے کر نئے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ مالے نے بہار کی 2 اسمبلی نشستوں اگیاؤں اور زیرہ دیئی کے 10-10 بوتھوں کا مئی-جون 2026 میں گھر گھر سروے کیا اور اخذ کیا کہ ایس آئی آر کے دوران جن ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے، ان میں سے بڑی تعداد میں ووٹر اپنے گھروں پر موجود ہیں۔

سروے کے مطابق بھوجپور علاقے کی اگیاؤں اسمبلی (محفوظ) میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 2.73 لاکھ ہے۔ ایس آئی آر کے دوران اسمبلی کی سطح پر 20,551 نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے تھے۔ مالے نے ایس آئی آر کے دوران کیے گئے ڈیلیشن کی جانچ کے لیے 4 بوتھوں کا سروے کیا۔ اس دوران 735 لوگوں کا سروے کیا گیا اور ان میں 77 (10.4 فیصد) لوگ ایسے ملے، جو اپنے گھر پر موجود تھے۔ سروے کے مطابق پوری اسمبلی پر ایس آئی آر ڈیلیشن کا تخمینی اثر 2,137 ووٹوں کا ہے۔

اسی طرح پارٹی نے پری-ایس آئی آر ڈیلیشن اور پری-ایس آئی آر ایڈیشن کی جانچ کے لیے بھی 3-3 بوتھوں کا سروے کیا۔ ایس آئی آر سے پہلے اگیاؤں اسمبلی میں 5,565 نام حذف کیے گئے تھے، لیکن 3 بوتھوں کے 204 ووٹرز کے سروے میں پارٹی نے پایا کہ 46 (22.5 فیصد) ووٹر اپنے گھر پر موجود ہیں۔ اسی طرح ایس آئی آر سے پہلے اگیاؤں میں 10,611 ووٹرز ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے تھے۔ اس کے لیے 3 بوتھوں پر 209 ووٹرز کا سروے کیا گیا اور 29 ووٹر (13.9 فیصد) سروے ٹیم کو نہیں ملے۔

ان دونوں پیمانوں کے لیے مالے نے جنوری 2024 سے جون 2025 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنایا، جبکہ ایس آئی آر کے دوران ہوئے ڈیلیشن کے لیے ایس آئی آر کے بعد کی ووٹر لسٹ کو منتخب کیا گیا۔ سی پی آئی-ایم ایل کے این سائی بالاجی بتاتے ہیں کہ ’’سروے 2 مراحل میں کیا گیا، پہلے مرحلہ میں ہم نے ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے لوگوں کا سروے کیا، اور دوسرے مرحلہ میں اس بات کی جانچ کی گئی کہ مذکورہ ووٹر کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوا یا نہیں۔ پہلا مرحلہ مئی-جون 2026 میں مکمل ہوا، جبکہ دوسرا مرحلہ ستمبر 2026 میں ہوا۔ ہم نے سروے ایس آئی آر مکمل ہونے کے بعد کیا ہے۔‘‘

اگیاؤں میں 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار مہیش پاسوان نے سی پی آئی-ایم ایل کے امیدوار شیو پرکاش رنجن کو 95 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ مہیش پاسوان کو 69,412 ووٹ ملے تھے، جبکہ مالے کے شیو پرکاش رنجن نے 69,317 ووٹ حاصل کیے۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں سی پی آئی-ایم ایل کے منوج منزل نے اس نشست پر 63.09 فیصد ووٹ حاصل کر کے جے ڈی یو کے پربھوناتھ پرساد کو 48,550 ووٹوں سے شکست دی تھی۔

اگیاؤں کی طرح زیرہ دیئی اسمبلی میں بھی سروے کے نتائج حیران کن ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران اسمبلی وار مجموعی ووٹرز کی فہرست سے 19,067 نام حذف کیے گئے تھے۔ اس کی جانچ کے لیے مالے نے 4 بوتھوں پر 665 ووٹرز کا سروے کیا اور پایا کہ 122 (18.3 فیصد) ووٹر اپنے گھر پر موجود ہیں۔ سروے کے مطابق پوری اسمبلی پر اس کا تخمینی اثر 3,489 ووٹوں کا ہے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں زیرہ دیئی نشست پر مالے کے امیدوار امرجیت کشواہا کا مقابلہ جے ڈی یو کے بھیشم پرتاپ سنگھ سے تھا، انتخابی نتائج میں جے ڈی یو نے 2,626 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ 2020 میں اسی نشست پر امرجیت کشواہا نے 25,510 ووٹوں سے بڑی جیت حاصل کی تھی۔

زیرہ دیئی میں پری-ایس آئی آر ڈیلیشن اور پری-ایس آئی آر ایڈیشن سروے کے اعداد و شمار بھی کافی اہم ہیں۔ ایس آئی آر سے پہلے اسمبلی وار ڈیلیشن کی تعداد 3,156 تھی، اور 189 ووٹرز کے سروے میں 15 افراد (7.9 فیصد) اپنے گھر پر ملے۔ اسمبلی کی سطح پر اس کا تخمینی اثر 249 ووٹوں کا ہے۔ اسی طرح اسمبلی وار پری-ایس آئی آر ایڈیشن کی تعداد 8,876 تھی اور 231 ووٹرز کے سروے میں 48 افراد (20.8 فیصد) گھر پر نہیں ملے۔ رپورٹ کے مطابق اسمبلی کی سطح پر اس کا تخمینی اثر 1,846 ووٹوں کا ہے۔

سی پی آئی-ایم ایل جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ ’’ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن آف انڈیا کا دعویٰ تھا کہ وہ صاف ستھری ووٹر لسٹ بنانا چاہتا ہے، لیکن ایس آئی آر کے بعد کی ووٹر لسٹ میں کہیں زیادہ دھاندلی ہے۔ ہم نے پایا کہ ایس آئی آر کے دوران کیے گئے ڈیلیشن بیشتر غلط ہیں۔‘‘

سی پی آئی-ایم ایل کی جانب سے جاری اس سروے رپورٹ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ 26 ستمبر 2026 کو الیکشن کمیشن نے پریس نوٹ جاری کر کے کہا کہ ’’بہار و بنگال سمیت 20 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو گیا ہے، لیکن ایس آئی آر کے دوران اگر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو پایا ہے، چاہے وہ پہلی بار کا ووٹر ہی کیوں نہ ہو، وہ متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسر کے پاس اپنا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ ضلع الیکشن افسر، الیکٹورل رجسٹریشن افسر اور چیف الیکٹورل افسر کی جانب سے اس سلسلے میں خصوصی مہم چلائی جائے گی۔‘‘

ایس آئی آر کے عمل کو لے کر الیکشن کمشنروں کے درمیان اختلافات اور 2 الیکشن کمشنروں (ایس ایس سندھو اور وویک جوشی) کی جانب سے 10 ماہ میں 14 مرتبہ اعتراضات اور اختلاف رائے درج کرائے جانے سے متعلق ’دی انڈین ایکسپریس‘ کے انکشاف نے اپوزیشن کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ 23 ستمبر 2026 کو ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ ’’عوامی بیداری کی ضرورت ہے۔ گیانیش کمار کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور جن ریاستوں میں ناقص ووٹر لسٹوں کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے ہیں، وہاں دوبارہ انتخابات کرائے جانے چاہئیں۔‘‘ اسی دن تیجسوی یادو نے بھی بہار اور بنگال میں نئے سرے سے انتخابات کرائے جانے کا مطالبہ کیا۔

26 ستمبر 2026 کو ایک خصوصی پریس کانفرنس میں سی پی آئی-ایم ایل نے صرف 2 اسمبلی حلقوں کے 10-10 بوتھوں پر کیے گئے سروے کی رپورٹ جاری کی۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ نے کہا کہ ’’یکم اکتوبر 2026 کو پٹنہ میں تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی اور ووٹرز کو بلا کر عوامی سماعت کی جائے گی۔ اس کی بنیاد پر پارٹی بہار میں نئی تحریک شروع کرے گی۔‘‘


Share: