ترواننت پورم، 26 ستمبر (ایس او نیوز): کیرالا کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن نے یہ حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے 2016 میں انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار کے طور پر پٹھانمتھیٹا سے انتخاب لڑنے کی پیشکش کی تھی۔
تھامسن کے مطابق یہ پیشکش اس وقت کی گئی جب دونوں ایک فلائٹ کے ذریعے دہلی جا رہے تھے۔ اس وقت تھامسن کیرالا کے چیف سیکریٹری کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گیانیش کمار نے ان سے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا اور 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر پٹھانمتھیٹا سے مقابلہ کرنے کی تجویز دی۔ تھامسن کے مطابق کمار نے کہا تھا کہ انتخابات جیتنے کے بعد وہ مرکزی وزیر بن سکتے ہیں۔
تھامسن نے کہا کہ انہوں نے اس پیشکش کو فوراً مسترد کردیا کیونکہ وہ انتخابات لڑنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یہ پیشکش حیران کن لگی اور ان کے مطابق ایسی پیشکش گیانیش کمار کی جانب سے نہیں آنی چاہیے تھی۔
تھامسن کے مطابق گیانیش کمار نے دورانِ پرواز وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی تھی اور بی جے پی کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑنے کے بارے میں ان سے براہِ راست دریافت کیا۔ تھامسن نے بتایا کہ کمار نے انہیں اس معاملے پر قائل کرنے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے پیشکش قبول نہیں کی۔
تھامسن، جو 2016 میں کیرالا کے چیف سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، نے یہ بھی کہا کہ اس سے قبل بھی گیانیش کمار نے انہیں سیاست میں آنے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی، مگر انہوں نے اسے مسترد کردیا تھا۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر لسٹوں کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کو لے کر گیانیش کمار پر اپوزیشن کی سخت تنقید جاری ہے اور انہیں نہ صرف استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے بلکہ انہیں گرفتار کرنے اور ان کے ذریعے کرائے گئے انتخابات کو رد کرنے کا بھی مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔
جیجی تھامسن کے اس انکشاف کے بعد سی پی آئی کے کیرالا ریاستی سکریٹری بنوئے وشوم نے کہا کہ اس سے گیانیش کمار کی مبینہ بی جے پی سے وابستگی سامنے آگئی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کمار نے چیف سیکریٹری رہتے ہوئے تھامسن کو بی جے پی میں شامل ہونے پر وزیر بنانے کی بھی پیشکش کی تھی، جو حیرت انگیز ہے۔ وشوم نے کہا کہ اگر گیانیش کمار کو آئین کا ذرا بھی احترام ہے تو انہیں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے خود استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمار کی تقرری ان کے بقول وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے لیے کیے گئے مبینہ کاموں کا انعام تھی۔
راہول گاندھی نے تھامسن کے ذریعے سامنے آنے والے انکشاف پر ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ گیانیش کمار، جو اس وقت آئی اے ایس افسر تھے، بی جے پی کے لیے لوگوں کو شامل کرنے کے کام میں استعمال کیے گئے، اور بعد میں نریندر مودی اور امیت شاہ نے انہیں ’’امپائر‘‘ بنا کر ہندوستان کے انتخابات کی ’’میچ فکسنگ‘‘ کی ذمہ داری سونپ دی۔
اُدھر تھامسن کا بیان سامنے آنے کے بعد ٹی کے رام مینا نے بھی گیانیش کمار سے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ مینا اور گیانیش کمار دونوں 1988 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔