ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نیٹ پیپر لیک معاملہ: منگلورو میں ایس ایف آئی اور ڈی وائی ایف آئی کا احتجاج، مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

نیٹ پیپر لیک معاملہ: منگلورو میں ایس ایف آئی اور ڈی وائی ایف آئی کا احتجاج، مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

Sat, 25 Jul 2026 12:30:49    S O News
نیٹ پیپر لیک معاملہ: منگلورو میں ایس ایف آئی اور ڈی وائی ایف آئی کا احتجاج، مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

منگلورو، 25 جولائی (ایس او نیوز): نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری ملک گیر طلبہ تحریک کی حمایت میں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) اور ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (DYFI) نے جمعہ کو منگلورو میں مشترکہ احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مبینہ نیٹ (NEET) سوالیہ پرچہ لیک معاملے پر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے قومی سطح کے داخلہ امتحانات میں شفافیت، جوابدہی اور جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈی وائی ایف آئی ضلع دکشن کنڑا کے سکریٹری سنتوش بجل نے کہا کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف شروع ہونے والی طلبہ تحریک اب ملک گیر شکل اختیار کر چکی ہے اور یہ صرف طلبہ کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی تشویش کا موضوع بن گئی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ احتجاج کے بڑھتے ہوئے دائرے نے مرکزی حکومت کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے، تاہم حکومت اب تک اس بحران کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سنتوش باجل نے الزام عائد کیا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے قیام کے بعد سے مختلف قومی امتحانات میں 89 مرتبہ سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جو ادارے کی ساکھ اور کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ادارے کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں، اس لیے این ٹی اے کو تحلیل کرکے ایک شفاف، قابل اعتماد اور جوابدہ امتحانی نظام قائم کیا جانا چاہیے۔

IMG-20260725-WA0022

انہوں نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ اپنے مستقبل کے تحفظ اور منصفانہ امتحانی نظام کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں، اس لیے ان پر طاقت کا استعمال جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ انہوں نے عوام، سماجی تنظیموں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کی حمایت کریں تاکہ ملک کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

ڈی وائی ایف آئی ضلع صدر بی کے امتیاز نے اپنے خطاب میں الزام لگایا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی تعلیمی پالیسیوں نے ملک کے تعلیمی نظام کو کمزور کیا ہے۔ ان کے مطابق داخلہ امتحانات میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں اور سوالیہ پرچوں کے افشا نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جبکہ حکومت اس مسئلے کی سنگینی کے مطابق جوابدہی طے کرنے میں ناکام رہی ہے۔

احتجاجی مظاہرے سے معروف ماہر تعلیم اور سماجی کارکن پروفیسر نریندر نائک، یشونتھ مارولی، ایس ایف آئی کے ضلعی رہنما ونائک اور منوج وامنجور نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ امتحانات کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے شفافیت، غیر جانبداری اور مؤثر نگرانی ناگزیر ہے، اور حکومت کو طلبہ کے خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اصلاحات نافذ کرنی چاہئیں۔

مظاہرے میں ڈی وائی ایف آئی کے ضلعی رہنما نتھن کٹار اور نوین کونچاڈی، پروفیسر نریندر نائک، ایڈوکیٹ دنیش ہیگڑے اولیپاڈی، چرن شیٹی، ایس ایف آئی ضلع سکریٹری ونوش رمانا، محمد اجلان، سندیش، الماس، سنیل کمار بجل، یوگیش جپّناموگرو، بالاکرشنا شیٹی، مہابالا دیپلیمار، طیب بنگرے، نوشاد بنگرے، اسنتا ڈی سوزا، پرمیلا شکتی نگر، یوگیتا اولال سمیت طلبہ، نوجوانوں، مزدور تنظیموں اور مختلف سماجی اداروں کے متعدد نمائندوں نے شرکت کی۔

مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک قومی سطح کے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی نہیں بنایا جاتا اور طلبہ کے خدشات کا مؤثر ازالہ نہیں ہوتا، اس وقت تک ملک بھر میں جمہوری انداز میں احتجاج اور بیداری مہم جاری رکھی جائے گی۔


Share: