پال گھر ، 25/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)یہاں موسلادھار بارش سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے اور لوگوں کو شدید دشوایوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔کئی علاقے زیر آب آگئے۔ دہانو اور تلاسری سب سے زیادہ متاثرہوئے۔۲۰۰؍گاؤں کا رابطہ بھی منقطع ہوگیا تھا۔
حکام کے مطابق جمعہ کی صبح امدادی کارروائی بند کرنے سے قبل امدادی ٹیموں نے رات بھر کی کارروائیوں کے دوران سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے۲۴۴؍ افراد کو بچایا ۔ انہوں نے ۲؍ افراد کی موت کی اطلاع بھی دی۔حکام نے ضلع کے تمام اسکولوں اور تعلیمی اداروں کو بھی احتیاطی اقدام کے طور پر جمعہ کو بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔ یہ بھی بتایا کہ کئی علاقوں میں سیلاب کا پانی کم ہونے لگا۔ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل کے سربراہ وویکانند کدم نے کہا کہ بچاؤ اور راحتی کارروائیوں میں ضلع انتظامیہ اور نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ۲؍ ٹیمیں شامل رہیں ۔ راحتی کارروائیاں جمعہ کی صبح تقریباً ۵؍ بند کی گئیں۔
حکام کے مطابق رات گئے آپریشن کے دوران۲۴۴؍ افراد کو زیرآب علاقوںسے بچا لیا گیا۔ ان میں پال گھر قصبے کے۱۲۴؍افراد ، تلاسری کی ایک فیکٹری میں پھنسے ۶۵؍مزدور اور گنڈالے علاقے کے ایک فارم ہاؤس میں پھنسے ۲۵؍افراد شامل ہیں۔حکام نے پہلے بتایا تھا کہ جمعرات کو سیلاب زدہ علاقوں سے۸۹۱؍ افراد کو بچایا گیا۔ وویکانند کدم نے کہا کہ جمعرات کو دہانو میں ایک اور لاش برآمد ہونے کے بعد مرنے والوں کی تعداد میں ۲؍ ہوگئی ہے۔ مہلوک جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سیلابی پانی میں بہہ گیا ہے، کی شناخت ہونا باقی ہے۔ اس سے قبل نالے سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی تھی۔
امدادی ٹیم کے ایک رکن نے اس سیلاب کو گزشتہ ایک دہائی میں ضلع کا بدترین تجربہ قرار دیا۔ شدید بارش کی وجہ سے ضلع بھر میں متعدد ہنگامی حالات پیدا ہوئے، مقامی باشندوں نے بچاؤ کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ جمعرات کو ایک واقعے میں ۴؍ مسافر بال بال بچ گئے جب ان کی کار وسئی مغرب میں سن سٹی گھاس روڈ پر پانی سے بھرے گڑھے میں گر گئی۔ مقامی لوگوں نے چاروں مسافروں کو جزوی طور پر ڈوبی ہوئی کار سے بچا لیا۔ایک اور واقعہ میں سائیوان میں سیلاب کے پانی میں پھنسی ایس ٹی بس کے اندر ۴ ؍مسافروں سمیت ۶؍افراد تھے، مقامی افراد نے رسیوں کا استعمال کرتے ہوئے سب کو بحفاظت بس سے نکالا۔سیلاب کا پانی کم ہونے کے بعد سڑکوں اور پلوں پر ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی ہے جو سیلاب سے عارضی طور پر متاثر ہوئے تھے۔ضلع کلکٹر اندو رانی جاکھڑ نے کہا کہ صورتحال کی نگرانی جاری ہے اور متاثرین کی مدد کیلئے کارروائیاں کی جائیں گی۔