نئی دہلی ، 25/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر طلبا و نوجوانوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ہمارے طلبا کی جیت ہے، جو ہندوستان کے مستقبل ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ملک کے تعلیمی نظام کی کبھی دنیا میں تعریف ہوتی تھی، لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اس پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس نے دیمک بن کر تعلیمی نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے۔‘‘
اپنے بیان میں راہل گاندھی نے وزیر تعلیم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان بدعنوانی، نااہلیت اور تعلیمی نظام کی تباہی کے سمبل تھے۔ اچھا ہوا کہ یہ سمبل ہٹ گیا۔ لیکن تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے حکومت کو سخت قدم اٹھانے ہوں گے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’طلبا کے 2 مزید مطلابات ہیں، جنھیں ہمیں بھولنا نہیں ہے۔ پہلا، طلبا سے بربریت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی۔ دوسرا، نریندر مودی سبھی طلبا سے معافی مانگیں۔‘‘
اس موقع پر راہل گاندھی نے سبھی طلبا کا اس جنگ میں ہمت و حوصلہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے شکریہ بھی ادا کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سبھی طلبا کو دل سے شکریہ، میری طرف سے طلبا کو جو بھی حمایت چاہیے، اس کے لیے میں تیار ہوں۔‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’کانگریس پارٹی کا خیال تھا کہ اس احتجاج کی دل و جان سے حمایت کی جائے، اور ہم نے ایسا ہی کیا ہے۔ ہم ہندوستان کے طلبا کے تحفظ اور ہندوستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ ماضی (نریندر مودی اور آر ایس ایس) اور ہندوستان کے مستقبل کے درمیان جنگ ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہندوستان کا مستقبل ماضی کو شکست دے گا۔‘‘
گزشتہ دنوں مظاہرین طلبا پر پولیس کے ذریعہ کی گئی بربریت کے لیے راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے طلبا پر کیے گئے تشدد کے لیے امت شاہ کو براہ راست ذمہ دار مانتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے طلبا پر فائرنگ کی اجازت دی، مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی اور ان کے خلاف پیلیٹ گنوں کے استعمال کی بھی اجازت دی۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ہم اپنی سیکورٹی فورسز کی جانب سے ہندوستان کے مستقبل پر گولیاں چلائے جانے کو قبول نہیں کرتے۔ یہ پارلیمنٹ میں ایک بڑا مسئلہ بننے والا ہے۔‘‘
اس پریس کانفرنس میں راہل گاندھی نے ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کے بارے میں بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ ضروری دے دیا ہے، لیکن کانگریس کی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم جاری رہے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہمارا ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام جاری رہے گا۔ ہمارے طویل مدتی ایشوز ہیں، ہم انھیں اٹھاتے رہیں گے۔‘‘
طلبا کے احتجاج سے متعلق اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’اس احتجاج کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی نظام (روزگار پیدا کرنے کا نظام، تعلیمی نظام، ہمارے ادارے اور میڈیا) تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ نظام کام کرنا بند کر چکے ہیں۔ اس کے نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اس وقت ایک سنگین معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اور ایسے وقت میں ضروری ہے کہ یہ نظام کام کریں۔ حکومت کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔ اسے سننا چاہیے کہ ہندوستان کی عوام کیا کہہ رہی ہے۔‘‘ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ ہندوستانی طلبا کی جانب سے ایک انتباہ ہے اور اپوزیشن کی جانب سے بھی ایک انتباہ ہے کہ آپ ہندوستان کو اسی طرح نہیں چلا سکتے جس طرح اب تک چلاتے رہے ہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ زور دے کر کہتے ہیں کہ ’’یہ ملک آپ کا نہیں ہے۔ یہ ہندوستان کی عوام کا ہے۔ یہ ہندوستان کے آئین کا ہے۔ یہ ادارے بھی آپ کے نہیں ہیں۔ اگر آپ اسی راستے پر چلتے رہے تو آج جو کچھ ہوا ہے، وہ اس سے 10 گنا بڑے پیمانے پر سامنے آئے گا۔‘‘