ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دھرمیندرا پردھان کے استعفے کے مطالبہ میں شدت، امت شاہ کی طویل ملاقات سے سیاسی قیاس آرائیاں تیز؛ بالآخر حکومت نے اپنایا مذاکرات کا راستہ

دھرمیندرا پردھان کے استعفے کے مطالبہ میں شدت، امت شاہ کی طویل ملاقات سے سیاسی قیاس آرائیاں تیز؛ بالآخر حکومت نے اپنایا مذاکرات کا راستہ

Mon, 20 Jul 2026 22:54:57    S O News
دھرمیندرا پردھان کے استعفے کے مطالبہ میں شدت، امت شاہ کی طویل ملاقات سے سیاسی قیاس آرائیاں تیز؛ بالآخر حکومت نے اپنایا مذاکرات کا راستہ

نئی دہلی، 20 جولائی (ایس او نیوز): مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندرا پردھان کے استعفے کے مطالبے پر جاری ملک گیر احتجاج کے درمیان پیر کو سیاسی سرگرمیوں میں اچانک تیزی آگئی۔ پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں دھرمیندرا پردھان سے کئی گھنٹوں تک ملاقات کی، جس کے بعد ان کے ممکنہ استعفے اور حکومت کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ گئیں۔ تاہم حکومت نے اس ملاقات کی تفصیلات یا کسی فیصلے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں ہزاروں طلبہ، نوجوان اور سماجی کارکن "چلو پارلیمنٹ" مارچ کے لیے دہلی کی سڑکوں پر نکلے۔ پولیس نے متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ، آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد کو حراست میں بھی لیا گیا۔ احتجاج کے پیش نظر دارالحکومت میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور کئی میٹرو اسٹیشن عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔

احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ دھرمیندرا پردھان کو مبینہ امتحانی بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام کی ناکامی کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہیے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے، امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات کی جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

سیاسی بحران کے درمیان حکومت نے پہلی مرتبہ باضابطہ مذاکرات کا اشارہ دیتے ہوئے بی جے پی کے قومی صدر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا کو احتجاجی نمائندوں سے ملاقات کے لیے آگے کیا۔ جنتر منتر پر ہونے والی ملاقات کے بعد احتجاجی نمائندوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنے پر آمادہ ہوئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مطالبات کی منظوری تک تحریک جاری رہے گی۔

ادھر تحریک کی نمایاں آواز سونم وانگچک، جو گزشتہ دنوں بھوک ہڑتال کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے تھے، نے بھی حکومت کے سامنے اپنی شرائط برقرار رکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو تعلیمی نظام کی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے متاثرہ طلبہ کو انصاف فراہم کرنا ہوگا اور اس معاملے پر اعلیٰ سطح پر سنجیدہ سیاسی مذاکرات کیے جائیں۔

مانسون اجلاس کے آغاز کے ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر لی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دھرمیندرا پردھان کے استعفے، امتحانی بے ضابطگیوں اور احتجاجی مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کا معاملہ شدت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔

دریں اثنا، مختلف میڈیا اداروں میں دھرمیندرا پردھان کے ممکنہ استعفے سے متعلق قیاس آرائیاں ضرور جاری ہیں، تاہم پیر کی شب تک نہ حکومت اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ان کے استعفے یا انہیں ہٹائے جانے کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان یا تصدیق سامنے آئی ہے۔


Share: