بھٹکل 30 / اگست (ایس او نیوز) پڑوسی تعلقہ ہوناور کے گیرو سوپّا آبی ذخیرے سے چھوڑا گیا پانی گنڈبال اور بھاسکیری ندیوں کی سطح بڑھانے کا سبب بن گیا ہے اور ان ندیوں سے ابلنے والا پانی آس پاس کے رہائشی علاقوں میں گھسنے کے بعد ندی کنارے بسنے والے خاندانوں کو ضلع انتظامیہ کی طرف سے قائم کیے گئے راحت مراکز میں منتقل کیا گیا ہے۔
گیرو سوپّا آبی ذخیرے سے چھوڑا گیا یہ پانی ندیوں سے ابلتا ہوا شراوتی ندی کنارے پر موجود مکانات، کھیتوں، باغات وغیرہ میں گھس گیا ۔ اس کی وجہ سے اوپنی، ہیرانگڈی، چکن کوڈ، اڈگونجی، جلولّی،کھروا، ہڈین بال، ہوساکولی وغیرہ کے کئی علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہوگئی ۔
تفصیلات کے مطابق ہوناور تعلقہ کے پندرہ مقامات پر اسکولوں اور آنگن واڑی میں راحت مراکز قائم کیے گئے ہیں اور ندی کنارے بسنے والے 129 خاندانوں پر مشتمل 368 افراد کو ان مراکز میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ 374 افراد اپنے رشتے داروں کے گھروں میں منتقل ہوئے ہیں ۔ تعلقہ انتظامیہ اور متعلقہ گرام پنچایت کے ذمہ داران راحت مراکز میں منتقل کیے گئے افراد کی دیکھ بھال خصوصی توجہ کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔
تحصیلدار پروین کرانڈے نے سیلاب زدہ علاقوں اور راحت مراکز کا دورہ کرتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ مقامی افراد سے سیلاب آنے کی صورت میں احتیاطی تدابیر اور اقدامات کے تعلق سے بات چیت کی ہے ۔ پتہ چلا ہے کہ سرکاری افسران اور پنچایت کے ذمہ داران کے علاوہ لائنس کلب کی طرف سے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے روزمرہ کی ضروری اشیاء کی کٹس تقسیم کیے گئے ہیں ۔