پٹنہ ، 17/جون (ایس او نیوز /ایجنسی)بہار میں گزشتہ سال ہوئے اسمبلی انتخابات میں کئی سیاسی پارٹیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ ان پارٹیوں نے الیکشن لڑنے کے نام پر کافی چندہ بھی حاصل کیا تھا۔ لوگوں نے اپنی اپنی پسند کی پارٹیوں کو چندے سے نوازا تھا۔ ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر تمام سیاسی پارٹیوں کو281.32 کروڑ روپئے کا چندہ ملا تھا اور193.47 کروڑ خرچ کئے گئے۔ اس چندہ کا بڑا حصہ لیڈروں کی انتخٓابی مہم پر خرچ ہوا۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے۔
حال ہی میں اے ڈی آر کی رپورٹ میں 5 قومی پارٹیوں اور 5 علاقائی پارٹیوں کی جانب سے داخل خرچ کی تفصیلات کا جائزہ لیا گیا۔ قومی پارٹیوں میں بی جے پی، کانگریس، عام آدمی پارٹی (اے اے پی)، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی ایم)، جبکہ علاقائی پارٹیوں میں راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو)، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، اے آئی ایم آئی ایم اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق 10 پارٹیوں نے مل کر چندہ کے طور پر 281.323 کروڑ روپئے حاصل کئے جبکہ ان کا مجموعی خرچ 193.466 کروڑ روپئے رہا۔ اس طرح جمع کئے گئے فنڈ اور بتائے گئے خرچ کے درمیان تقریباً 88 کروڑ روپئے کا فرق سامنے آیا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے انتخابی مہم پر سب سے زیادہ خرچ کیا۔ پارٹی نے مہم کے لئے 100.429 کروڑ روپئے خرچ کئے جو کل اخراجات کا 36.68 فیصد ہے۔ پارٹیوں نے لیڈروں کے دورے پر79.539 کروڑ روپئے خرچ کئے، جبکہ امیدواروں کو ایک مشت رقم کے طور پر 62.07 کروڑ روپئے تقسیم کئے گئے۔
اے ڈی آر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور دیگر ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ورچوئل مہم چلانے پر 130.74 کروڑ روپئے خرچ ہوئے۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق پارٹیوں نے امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ شائع کرنے پر 3.886 کروڑ روپئے خرچ کیے۔ دیگر اخراجات میں 14.804 کروڑ روپے خرچ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی خرچ کا 29.05 فیصد حصہ سفر پر خرچ کیا گیا، جو انتخابی مہم کے بعد انتخابی خرچ کا دوسرا سب سے بڑا حصہ بن گیا۔
قابل ذکر ہے کہ بہار اسمبلی انتخابات میں 161 سیاسی پارٹیوں نے حصہ لیا تھا جن میں 6 قومی پارٹیاں، 10 علاقائی پارٹیاں اور 145 رجسٹرڈ غیر منظور شدہ سیاسی پارٹیاں شامل تھیں۔ حالانکہ یہ جائزہ صرف ان 10 اہم پارٹیوں تک ہی محدود تھا جن کے خرچ کی تفصیلات دستیاب تھیں۔ رپورٹ کے مطابق جن پارٹیوں کا جائزہ لیا گیا ان میں بی یس پی واحد ایسی پارٹی تھی جس نے انتخابات کے دوران اپنے مرکزی آفس یا ریاستی یونٹ کی سطح پر جمع کئے گئے کسی بھی فنڈ کی معلومات فراہم نہیں کی۔