نئی دہلی ، 8/ اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس نے الیکشن کمیشن اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ سابق مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد اب وزیر اعظم کی باری ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ یعنی سی بی ایس ای اور قومی اہلیتی و داخلہ امتحان یعنی نیٹ کے سوالنامے افشا ہونے سمیت دیگر معاملات کے باعث دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر سے متعلق بے ضابطگیوں کے معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی باری ہے۔
جے رام رمیش نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سائبر سکیورٹی محقق نے 8 جولائی 2026 کو الیکشن کمیشن کو اس کے ای سی آئی نیٹ ایپ میں موجود متعدد خامیوں کے بارے میں اطلاع دی تھی، لیکن محقق کی جانب سے اٹھائے گئے کئی خدشات میں سے صرف ایک پر 6 اکتوبر کو توجہ دی گئی، جب الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا سامنا تھا۔
رپورٹ کے مطابق مذکورہ محقق نے جولائی میں الیکشن کمیشن اور ملک کی سائبر سکیورٹی ایجنسی سی ای آر ٹی اِن کو ووٹر خدمات کی ویب سائٹ اور ای سی آئی نیٹ ایپ میں موجود خامیوں سے آگاہ کیا تھا۔
جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ ای سی آئی نیٹ کو اس طرح تیار کیا گیا تھا کہ ووٹر فہرست میں ووٹروں کے نام حذف کرنے اور نئے نام شامل کرنے کے عمل کو نئی دہلی میں واقع بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی دفتر سے مرکزی طور پر چلایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ سکیورٹی محقق وہی نوجوان طالب علم ہے جس نے چند ماہ قبل سی بی ایس ای کے اطلاعاتی ٹیکنالوجی نظام کی خامیوں کو مکمل طور پر سامنے لایا تھا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اس انکشاف نے دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ ’’وزیر پردھان‘‘ کے سیاسی مستقبل پر بھی اثر ڈالا تھا۔ انہوں نے اسی تناظر میں کہا کہ اب الیکشن کمیشن کے معاملے میں ’’وزیر اعظم کی باری‘‘ ہے۔
جے رام رمیش کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ای سی آئی نیٹ، انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایس آئی آر کے ذریعے ووٹر فہرستوں میں تبدیلی کو لے کر سیاسی تنازع جاری ہے۔ ای سی آئی نیٹ الیکشن کمیشن کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے ووٹر خدمات، انتخابی معلومات، انتخابی افسران کے لیے مختلف طریقہ کار اور دیگر انتخابی خدمات کو ایک مربوط نظام کے تحت چلایا جاتا ہے۔ کانگریس مسلسل الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور ووٹر فہرستوں میں نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے عمل پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔