ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کاکروچ پارٹی کا دیپک بالیان کی حراست کا الزام، دیپکے نے کہا؛ پارٹی ہر حال میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر کرے گی احتجاج

کاکروچ پارٹی کا دیپک بالیان کی حراست کا الزام، دیپکے نے کہا؛ پارٹی ہر حال میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر کرے گی احتجاج

Thu, 08 Oct 2026 23:33:51    S O News
کاکروچ پارٹی کا دیپک بالیان کی حراست کا الزام، دیپکے نے کہا؛ پارٹی ہر حال میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر کرے گی احتجاج

نئی دہلی، 8 اکتوبر (ایس او نیوز): چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف 10 اکتوبر کو دہلی کے جینتَر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے ایک اہم رہنما دیپک بالیان کو راجستھان پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے اور ان کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی  کے بانی اور قومی کنوینر ابھیجیت دیپکے نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام عائد کیا کہ راجستھان پولیس نے پارٹی کے ترجمان دیپک بالیان کو حراست میں لے لیا ہے اور ان کے بھائی کے ساتھ بھی مبینہ طور پر تشدد کیا گیا ہے۔اس تعلق سے دیپکے نے  متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ پولس بھلے کچھ بھی کرے لیکن  ان کی پارٹی ہر حال میں 10 اکتوبر کو جنتر  منتر پہنچے گی اور گرفتاری یا حتیٰ کہ گولی مارے جانے کا خطرہ بھی انہیں احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹاسکے گی۔

دیپکے نے الزام لگایا کہ راجستھان پولیس نے دیپک بالیان اور ان کے بھائی پر ’بے رحمی سے حملہ‘ کیا، جبکہ ان کے بھائی کے سر پر شدید چوٹ آئی ہے۔  CJP کے شریک کنوینر آشوتوش رنکا نے بھی ایکس پر لکھا ہے کہ بالیان کو راجستھان پولیس ان کے گھر سے زبردستی اٹھا کر پولیس اسٹیشن لے گئی۔

دیپک بالیان راجستھان کے الور ضلع کے کٹھومر تحصیل کے مانکھیڑا گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور کسان خاندان سے آتے ہیں۔ CJP کی جانب سے اگست میں اعلان کردہ قومی تنظیمی ڈھانچے میں انہیں نارتھ زون کا انچارج اور تنظیم کا شریک انچارج مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اس سے قبل تقریباً سات سے آٹھ برس تک کسان تنظیموں کے ساتھ کام کرچکے ہیں اور کسانوں و دیہی مسائل سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب CJP نے 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر بڑا احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کررہی ہے اور ووٹر لسٹوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی (SIR) میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر حکومت اور الیکشن کمیشن پر سوال اٹھا رہی ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے جمعرات کو بھی واضح کیا کہ گرفتاری یا حراست کا سامنا کرنا پڑے تب بھی احتجاج کیا جائے گا۔

دہلی میں مجوزہ احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات بھی سخت کردیئے گئے ہیں۔ ایک پولیس افسر کے مطابق 20 ہزار سے زیادہ پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو دہلی میں تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جنتَر منتر پر احتجاج کی فی الحال اجازت نہیں دی گئی ہے  جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے کے لئے پولس کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی،پولس کو صرف انفارم کرنا ہوتا ہے اور ہم پولس کو احتجاج کے تعلق سے انفارم کرچکے ہیں۔

دریں اثنا، دہلی پولیس نے احتجاج میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت کے امکان کے پیش نظر مزید 500 خاتون اہلکار تعینات کرنے کی تیاری کی ہے۔ پولیس نے شہر کی سرحدوں پر بھی نگرانی بڑھانے اور طلبہ کو احتجاج میں شرکت سے روکنے کے لیے ہاسٹل، پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں اور رہائشی فلاحی انجمنوں سے رابطہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔


Share: