بنگلورو، 8 اکتوبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے خلاف جمعرات کو بنگلورو کے فریڈم پارک میں زبردست احتجاج کیا گیا، جس میں اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج، معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی اور کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے سمیت مختلف سماجی، طلبہ اور شہری تنظیموں کے کارکن شریک ہوئے۔ مظاہرین نے SIR کو منسوخ کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کو روایتی ریلی کے بجائے ’عوامی عدالت‘ (People’s Tribunal) کی شکل دی گئی، جس میں کرناٹک کے مختلف علاقوں سے SIR سے متاثر ہونے کی شکایت کرنے والے شہریوں کو اپنی شکایات اور مسائل پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ منتظمین کے مطابق ووٹر لسٹ سے نام مبینہ طور پر غلط طور پر حذف کیے جانے، تصدیق کے عمل میں مشکلات اور دیگر بے ضابطگیوں سے متعلق دستاویزات اور شواہد بھی عوام کے سامنے پیش کیے گئے۔ SIR مخالف اتحاد اور شہریوں کی ووٹ واچ کمیٹی (Nagarika Mata Kavalu Samiti) سے وابستہ رہنماؤں نے اس پروگرام کو شہریوں کے انتخابی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک عوامی سماعت قرار دیا۔ ان کا الزام ہے کہ SIR کے عمل سے غریبوں، مزدوروں، دلتوں، اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کے ووٹ کے حق پر اثر پڑ رہا ہے۔
پروگرام میں فلم ایکٹر پرکاش راج اور معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کی شرکت سے احتجاج کو خاصی عوامی توجہ حاصل ہوئی، جبکہ بڑی تعداد میں خواتین اور طلبہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے۔ مظاہرین نے SIR واپس لینے اور گیانیش کمار کے عہدے سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ دھرو راٹھی نے الیکشن کمیشن کے بارے میں شفافیت اور جواب دہی کی کمی پر سوال اٹھائے۔ پرکاش راج نے SIR کو محض ووٹ حذف ہونے کا معاملہ قرار دینے کے بجائے شہریوں کے حقوق اور وقار سے متعلق مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

فریڈم پارک میں مظاہرین نے ’SIR رد کرو‘، ’گیانیش کمار گدی چھوڑو‘ اور ’ووٹ چوری‘ جیسے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران ایسے پوسٹر بھی دکھائی دیے جن پر “Error 404 – Name Not Found”، “Don’t erase us, hear us” اور “Grand Theft Democracy” جیسے نعرے درج تھے۔
احتجاج کے پیش نظر صبح ہی سے فریڈم پارک میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی تھی۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں قومی پرچم اور کرناٹک کے پرچم بھی تھے اور بعض گروپوں نے ’عوام مخالف SIR ختم کرو‘ کے نعرے لگائے۔ DYFI، عام آدمی پارٹی اور ینگ ڈیموکریٹس کے نمائندے بھی احتجاج میں موجود تھے۔
آج کے پروگرام کا دوسرا اہم حصہ ’چپل احتجاج‘ (Chappal Protest) تھا۔ CJP کے مطابق یہ احتجاج دہلی میں CEC گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے خواتین صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کے خلاف یکجہتی کے اظہار کے لیے منعقد کیا گیا۔ CJP کے شریک کنوینر اشوتوش رنکا نے پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ فریڈم پارک میں SIR پر People’s Tribunal کے بعد خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے چپل احتجاج کیا جائے گا۔
مظاہرین اور منتظمین کے اہم مطالبات میں SIR کو منسوخ کرنا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ شامل رہا۔ CJP کے علاوہ مختلف شہری اور سماجی تنظیموں نے بھی SIR کے دوران مبینہ طور پر ووٹرز کے نام حذف کیے جانے پر اعتراضات اٹھائے۔
CJP نے اس کے ساتھ جنوری 2025 کی ووٹر لسٹ بحال کرنے، SIR کو روکنے، مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات اور الیکشن کمیشن کی تقرریوں سے متعلق 2023 کے قانون کو واپس لینے جیسے مطالبات بھی رکھے ہیں۔
منتظمین نے کرناٹک کے مختلف اضلاع سے SIR سے متاثر ہونے والے شہریوں کی شکایات اور ان کے معاملوں کی تفصیلات جمع کی تھیں۔ پرکاش راج نے بھی گزشتہ تقریباً 15 دنوں کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں کا دورہ کرکے SIR سے متعلق معلومات جمع کی تھیں، جنہیں People’s Tribunal کے سامنے رکھنے کی بات کہی گئی تھی۔ منتظمین نے SIR سے متاثرہ افراد اور سماجی کارکنوں سے ان کے مسائل اور دستاویزات فراہم کرنے کی اپیل بھی کی تھی تاکہ انہیں People’s Tribunal میں پیش کیا جاسکے۔
احتجاج کے پیش نظر فریڈم پارک میں پولیس کی جانب سے سخت سکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بنگلورو کا احتجاج CJP کی جاری مہم کا حصہ ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اگر CEC گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے تو 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ’Jantar Mantar 2.0‘ کے نام سے بڑا احتجاج کیا جائے گا۔