ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بنگلورو میں ایس آئی آر کی مخالفت میں منعقدہ احتجاج میں دیپکے نے مودی کو قرار دیا جمہوریت کا قاتل

بنگلورو میں ایس آئی آر کی مخالفت میں منعقدہ احتجاج میں دیپکے نے مودی کو قرار دیا جمہوریت کا قاتل

Thu, 08 Oct 2026 19:17:26    S O News
بنگلورو میں ایس آئی آر کی مخالفت میں منعقدہ احتجاج میں دیپکے نے مودی کو قرار دیا جمہوریت کا قاتل

بنگلورو، 8 /اکتوبر (ایس او نیوز) بنگلورو کے فریڈم پارک میں SIR کے خلاف منعقدہ احتجاج میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے، یوٹیوبر دھرو راٹھی اور اداکار و سماجی کارکن پرکاش راج نے خطاب کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں، ووٹ کے حق اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کو ’’عوامی عدالت‘‘ کے طور پر منظم کیا گیا تھا، جہاں SIR سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرنے والے افراد نے اپنے مسائل پیش کیے۔

ابھیجیت دیپکے نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی پر ’’ووٹ چوری‘‘ اور ’’جمہوریت کے قتل‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں ’’جمہوریت کا قاتل‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن نے گیانیش کمار کی قیادت میں مودی اور امیت شاہ کی ہدایت پر ایسے لوگوں کے ووٹ حذف کیے جو حکومت کی حمایت نہیں کرتے۔ دیپکے نے کہا کہ معاملہ صرف گیانیش کمار کے استعفے کا نہیں بلکہ SIR کو ہی ختم کرنے کی جدوجہد کا ہے۔

دیپکے نے ’’ون نیشن، ون الیکشن‘‘ کے نعرے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کا اصل مقصد ’’ون نیشن، ون پارٹی‘‘ قائم کرنا ہے۔ انہوں نے اس سوچ کا موازنہ ایڈولف ہٹلر سے کیا اور کہا کہ ہندوستان کو آمریت میں تبدیل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ انہوں نے مہاتما گاندھی، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور جواہر لال نہرو کو ہندوستان کی بنیاد سے وابستہ تین اہم شخصیات قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے ان کے نظریات کی حفاظت ضروری ہے۔

دیپکے نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان ووٹوں کا فرق تقریباً دو فیصد تھا، جبکہ بی جے پی 400 پار کا نعرہ دینے کے باوجود 240 نشستیں جیت سکی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کے بعد مخالف رائے رکھنے والے ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کرنے کا عمل شروع ہوا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک بھر میں تقریباً 13 کروڑ اور کرناٹک میں تقریباً ایک کروڑ ووٹ حذف کیے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار دیپکے کے خطاب میں پیش کیے گئے دعوے ہیں۔

انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ ملک اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب ووٹ کا حق محفوظ رہے۔ CJP کے نام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخالفین انہیں ’’کاکروچ‘‘ کہتے ہیں، لیکن احتجاج کرنے والے اسی طرح ثابت قدم رہیں گے اور جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ خطاب کے آخر میں انہوں نے گیانیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگلا وکٹ‘‘ ان کا ہوگا اور حد بندی کے ذریعے جنوبی ہندوستان کی پارلیمانی نمائندگی کم کیے جانے کی مخالفت کا بھی اعلان کیا۔

دھرو راٹھی  نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ وہ ’’حکومت تبدیل کرانے‘‘ کے لیے بنگلورو نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے ان دعووں کی بھی تردید کی کہ انہیں ایلون مسک یا جارج سوروس نے احتجاج میں شرکت کے لیے فنڈ کیا ہے اور کہا کہ وہ اپنے خرچ پر یہاں آئے ہیں۔

راٹھی نے خاص طور پر بی جے پی کے ووٹروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص بی جے پی، کانگریس یا کسی بھی دوسری جماعت کو ووٹ دیتا ہو، انتخابی فہرستوں اور ووٹ کے حق کا مسئلہ ہر شہری سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو ووٹوں کی مبینہ چوری پر یقین نہیں ہے تو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، وزیر اعظم مودی یا امیت شاہ ان کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیں۔

راٹھی نے مغربی بنگال، بہار، اترپردیش اور گوا کی مثالیں پیش کرتے ہوئے انتخابی فہرستوں میں نام حذف اور شامل کیے جانے کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق مغربی بنگال میں تقریباً 70 ہزار ووٹروں کے نام انتخابات سے قبل فہرست سے ہٹائے گئے لیکن نتائج کے بعد دوبارہ شامل ہوگئے۔ انہوں نے بہار میں تقریباً 65 لاکھ نام حذف کیے جانے اور اترپردیش میں تقریباً 14 لاکھ نام اچانک شامل کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا۔ گوا کے ایک معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض ووٹروں کے نام شامل کرنے میں سافٹ ویئر کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

ان مثالوں کی بنیاد پر راٹھی نے الیکشن کمیشن پر ’’صفر شفافیت اور صفر جواب دہی‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کی سول سوسائٹی تنظیموں نے ضلع بہ ضلع جاکر مبینہ طور پر ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے افراد سے ملاقات کی اور احتجاج میں ان کے مسائل پیش کیے۔

راٹھی نے کہا کہ یہ کسی سیاسی جماعت کا احتجاج نہیں بلکہ عام شہری کے طور پر ان کی بات ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے تو سیاسی وابستگی سے قطع نظر سب کو اس مسئلے پر آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا اور مظاہرین کے ساتھ ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘ کا نعرہ لگایا۔

پرکاش راج نے SIR کو محض انتخابی فہرست سے نام حذف کرنے کا عمل ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے شہریوں کے وقار اور ووٹ کے حق سے متعلق مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے SIR کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج صرف گیانیش کمار کے استعفے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ خود SIR کو ختم کرنا ضروری ہے۔

پرکاش راج نے الزام عائد کیا کہ قبائلی، غریب، مسلمان اور دیگر اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں اور کہا کہ لوگوں کو فہرست سے نکالنا ان کے حقوق اور وقار پر حملہ ہے۔ انہوں نے گیانیش کمار پر وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے اشارے پر کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج پرامن طریقے سے جاری رہنا چاہیے اور اس وقت تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی جب تک SIR واپس نہیں لیا جاتا اور شہریوں کے ووٹ اور وقار کے حقوق بحال نہیں ہوتے۔

تینوں مقررین کے خطابات میں اختلافِ انداز کے باوجود مشترکہ طور پر انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، ووٹ کے حق اور گیانیش کمار کے استعفے کا مسئلہ نمایاں رہا۔ احتجاج میں ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘، ’’گرینڈ تھیفٹ ڈیموکریسی‘‘ اور ’’Gyanesh, it's done bro‘‘ جیسے نعرے اور پوسٹر بھی دیکھے گئے۔


Share: