ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو: سڑک حادثے میں خاتون کی درد ناک موت کے بعد بھڑکا عوام کا غصہ - نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

منگلورو: سڑک حادثے میں خاتون کی درد ناک موت کے بعد بھڑکا عوام کا غصہ - نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

Thu, 11 Sep 2025 17:43:00    S O News

منگلورو،  11/ ستمبر (ایس او نیوز) شہر کے ننتھور علاقے میں تین دن پہلے سڑک حادثے میں ایک خاتون کی ٹرک کے نیچے کچلے جانے سے ہوئی درد ناک موت کے بعد نیشنل ہائی وے 66 کی خستہ حالت اور جگہ جگہ پڑے ہوئے گڈھوں کی مرمت نہ کرنے پر نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی آف انڈیا کے افسران کے خلاف عوام کے اندر غصہ بھڑکنے لگا ہے ۔ 
    
ایکشن کمیٹی کا مطالبہ :سورتکل کی ٹول گیٹ مخالف ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضمن میں این ایچ اے آئی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے ۔ اس کے علاوہ مہلوک خاتون مادھوی (44 سال) کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔ مذکورہ کمیٹی کے کنوینر منیر کاٹیپلا کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے افسران اور انجینئرس سڑک پر بنے ہوئے ان گڈھوں سے واقع ہونے والی اموات کے لئے براہ راست ذمہ دار ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سڑک کے گڈھے اور ان کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات گزشتہ ایک دہائی سے روز کا معمول بن گئے ہیں ۔ ایکشن کمیٹی نے اس معاملے پر احتجاج اور ریلی کے ذریعے مسلسل آواز اٹھائی ہے اور سڑک کی مرمت کا مطالبہ کیا ہے ۔
    
منیر نے بتایا کہ سڑک کے گڈھوں کی وجہ سے اس سے قبل فروری میں اشرف نامی موٹر سائیکل سوار کی موت واقع ہو چکی ہے اور اس وقت بھی ننتھور جنکشن کے قریب زبردست احتجاجی مظاہرا کیا جا چکا ہے ۔ مگر این ایچ اے آئی کے افسران اور مقامی عوامی نمائندوں کی غفلت کی وجہ سے اس حالت میں کوئی سدھار نہیں ہو رہا ہے ۔

سابق سٹی میئر نے کی تنقید : شہر کے سابق کانگریسی کارپوریٹراور میئر ششی دھر ہیگڑے نے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے تحفظ اور ان کے لئے درپیش خطرات کے تعلق سے میونسپل کارپوریشن کی جانب سے بار بار یاد دلانے اور تنبیہ کے باوجود سڑکوں اور شاہراہ کی مرمت کے سلسلے میں کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔  حالت یہ ہے کہ مئی کے مہینے میں مرمت کا کام کیا جاتا ہے اور جون کی بارش میں وہ سب اکھڑ کر یا بہہ کر چلا جاتا ہے۔ 
    
سابق کارپوریٹر نے دی وارننگ :سابق کارپوریٹر ونئے راج نے این ایچ اے آئی کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شاہراہ کی خستہ اور ناقابل بیان خراب حالت کے باوجود ٹھیکیدار برابر ٹول وصولی کے ذریعے بھاری رقمیں اکٹھا کر رہے ہیں مگر شاہراہ کی مرمت اور دیکھ بھال پر پیسے خرچ نہیں کر رہے ہیں ۔ اراکین اسمبلی، ارکان پارلیمان اور دیگر منتخب عوامی نمائندے آواز نہیں اٹھا رہے ہیں ۔ اس سے بھی بری صورتحال یہ ہے کہ بعض دفعہ حادثوں کا شکار ہونے والوں کو اس وجہ سے انشورنس نہیں ملتا ہے کہ پولیس کی طرف سے موٹر سواروں پر بے پروائی سے گاڑیاں چلانے کے مقدمات درج کیے جاتے ہیں ۔

ونئے راج نے افسران کو پندرہ دنوں کے اندر سڑک کی مرمت کا کام شروع کرنے کی مہلت دیتے ہوئے کہا اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر کانگریس پارٹی کی جانب سے احتجاج شروع کرنے کے علاوہ متعلقہ محکمہ جات کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر غور کیا جائے گا۔

پروجیکٹ ڈائریکٹر کو بھیجا گیا مراسلہ: سورتکل – ننتھور کے علاقے میں قومی شاہراہ  66 کی خستہ حالت اور اس کی وجہ سے سڑک حادثوں میں ہو رہی اموات کے تعلق سے ایک ذمہ دار شہری نے منگلورو میں نیشنل ہائی ویز اتھاریٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے دفتر کو ایک ای میل لکھا تھا، جس میں شدید طور پر تباہ شدہ شاہراہ کی مرمت پر زور دیا گیا تھا۔
    
این ایچ اے آئی کا غیر ذمہ دارانہ جواب : تاہم اس مراسلے کا جو جواب موصول ہوا ہے اس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ سڑک کی مرمت کا کام حکام کی غفلت کی وجہ سے نہیں رکا ہے بلکہ عوام کے اس مطالبے کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے سڑک کی دیکھ بھال کے لیے فنڈ فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا سورتکل ٹول گیٹ بند کیا گیا ہے۔ 
    
افسران نے اپنے جواب میں بتایا کہ قومی شاہراہ کی درست حالت برقرار رکھنے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے۔ سورتکل ٹول گیٹ اس علاقےمیں سڑک کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم مسلسل عوامی دباؤ کی وجہ سے ٹول گیٹ کو بند کردیا گیا جس کے نتیجے میں سڑک کی دیکھ بھال کے لیے فنڈز کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

مرمت شروع کرنے کا تیقن :حالانکہ افسران نے واضح کیا ہے کہ اب مستقل مرمت کے لیے فنڈز مختص کر دیے گئے ہیں اور بارشیں ختم ہونے کے بعد مرمت کا کام شروع کیا جائے گا۔

افسران نے یہ بھی بتایا ہے کہ فی الحال این ایم پی ٹی، کے آئی او سی ایل اور کلور جیسے علاقوں میں مرمت کا کام جاری ہے۔ 
    
اس کے باوجود این ایچ اے آئی کے افسران کی اس وضاحت کے بعد کہ سڑک کی مرمت میں تاخیر کا سبب صرف ٹول گیٹ بند ہونا جو بتایا ہے، ایسے غیر ذمہ دارانہ جواب اور اس لہجے نے عوامی جذبات کو مزید مشتعل کیا ہے ۔ اس قسم کے جواب نے شہریوں میں افسران کے احتساب کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دیا ہے ۔

عوام نے اٹھائے سوال :دکشن کنڑا اور منگلورو سٹی کے عوام نے نیشنل ہائی وے 66 کی اس بدترین اور خستہ صورت حال کے سلسلے میں ٹھیکیدار کے علاوہ سرکاری محکمہ جات اور افسران کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔ ضلع ڈپٹی کمشنر، محکمہ پولیس، این ایچ اے آئی اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو دئے گئے میمورنڈم میں خاص طور پر یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ ہائی وے ٹول اور روڈ ٹیکس سے وصول ہونے والے ریوینیو اور سڑکوں کی مرمت و بحالی کے لئے خرچ والی رقم ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتی ہے ۔ 
    
سڑکوں کی خستہ حالت - حادثات میں اضافہ : میمورنڈم میں یہ بات بھی اجاگر کی گئی ہے کہ نیشنل ہائی وے کے علاوہ شہر کے اندر اور اطراف میں گڈھوں، تنگ گھماو اور اکھڑی ہوئی سطح کے ساتھ  سڑکوں کی حالت انتہائی خراب اور بدحالی کے منظر پیش کرتی ہے ۔ نیشنل ہائی وے 66 پر گزشتہ دو برسوں کے دوران 250 سے زائد بڑے حادثات ہوئے ہیں اور گزشتہ چند مہینوں میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ 
    
میمورنڈم میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسی بدترین اور غیر محفوظ سڑکیں منگلورو شہر کی ترقی، جدید ترین علاج و معالجہ، تعلیم و ٹیکنالوجی مرکز اور سیلیکون بیچ پروگرام کے لئے ضروری انفرااسٹرکچر کے منافی ہیں۔  

سڑکوں کی فوری مرمت کا مطالبہ :  میمورنڈم میں حادثات پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر تمام سڑکوں کی مرمت اور ان کی مناسب دیکھ بھال کے سلسلے میں ضروری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ امکانی حادثات والے علاقوں میں سڑک کناے سائن بورڈ اور نشاندہی کرنے والی علامات کو نمایاں طور پر لگانے کی بھی مانگ کی گئی ہے ۔ بے پروائی برتنے والے ٹھیکیداروں اور افسران کے خلاف کارروائی کے علاوہ ٹریفک قوانین سے سختی کے ساتھ لاگو کرنے، سڑکوں کی حالت درست اور معیاری ہونے تک جرمانہ وصولی پر روک لگانے جیسے مطالبات بھی کیے گئے ہیں ۔ 


Share: