ناگپور، 23 جنوری (ایس او نیوز): عوامی جلسوں اور پروگراموں میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات، سخت تنقید اور ہندو–مسلم تقسیم کے ذریعے سیاسی فائدہ اٹھانے والی جماعتیں جب اقتدار کے قریب پہنچتی ہیں تو تمام دعوے اور نظریاتی اختلافات دم توڑ دیتے ہیں۔ سیاست کی اسی منافقت کی تازہ مثال مہاراشٹر کے امراوتی ضلع کے اچل پور سے سامنے آئی ہے، جہاں ایک دوسرے کی سخت مخالف سمجھی جانے والی جماعتوں نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ کر لیا ہے۔
عوامی سطح پر اگرچہ بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے کے خلاف شدید لب و لہجہ اختیار کرتی رہی ہیں، اور اسدالدین اویسی کی قیادت والی اے آئی ایم آئی ایم نہ صرف بی جے پی بلکہ بعض کانگریسی پالیسیوں پر بھی کھل کر تنقید کرتی رہی ہے، تاہم حیرت انگیز طور پر انہی جماعتوں نے اچل پور میونسپل کونسل میں مختلف اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کو بلا مقابلہ منتخب کرنے کے لیے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا لیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ منعقدہ اچل پور میونسپل انتخابات میں 41 نشستوں میں سے کانگریس نے 15 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی کو 9 اور اے آئی ایم آئی ایم کو 3 نشستیں ملی تھیں۔ اس کے علاوہ 10 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے، جبکہ پرہار جن شکتی پارٹی اور این سی پی نے دو، دو نشستیں جیتی تھیں۔
رپورٹوں کے مطابق اب کانگریس، بی جے پی اور اے ائی ایم ائی ایم اتحاد کے نتیجے میں اے آئی ایم آئی ایم کے ایک کونسلر کو بلا مقابلہ تعلیم اور کھیل کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ واٹر سپلائی کمیٹی کی صدارت کانگریس کے ایک رکن کو دی گئی، جب کہ بی جے پی کے ایک کونسلر کو خواتین اور بچوں کی بہبود کمیٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، اچل پور کے بی جے پی رکن اسمبلی پروین تیاڈے نے اس اتحاد پر ابتدا میں ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی سمجھوتے کو حتمی شکل دیتے وقت انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران انہیں صرف وارڈ نمبر ایک کی انتخابی ذمہ داری دی گئی تھی۔
پروین تیاڈے نے کہا کہ وہ ہندوتوا نظریے پر یقین رکھنے والے ایم ایل اے ہیں اور پارٹی بھی اسی نظریے کی پیروی کرتی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرتی ہے تو انہیں اسے قبول کرنا ہوگا۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل اکولا ضلع کے آکوٹ میونسپل کونسل میں بھی بی جے پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے درمیان اتحاد قائم ہوا تھا، تاہم وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس کے اعتراض کے بعد اس سمجھوتے کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح امبرناتھ میونسپل کونسل میں شیو سینا کو اقتدار سے دور رکھنے کے مقصد سے بی جے پی اور کانگریس کے اتحاد کا معاملہ بھی حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں میں خاصی بحث کا باعث بنا تھا۔