چنئی ، 14/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی )تمل ناڈو میں مچھلی پکڑنے پر عائد 61 روزہ پابندی اتوار (14 جون) کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ہزاروں ماہی گیر دوبارہ مچھلی پکڑنے کا کام شروع کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 15 اپریل سے 14 جون تک مچھلی پکڑنے پر پابندی عائد کی تھی۔ حکومت کا مقصد مچھلیوں کی افزائش کے سب سے اہم دور میں ان کی نسل کو محفوظ رکھنا اور سمندری وسائل کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا تھا۔
2 ماہ کے وقفے کے دوران ماہی گیر اپنی کشتیوں کی مرمت، انجنوں کی درستگی اور مچھلی پکڑنے کے آلات کو ٹھیک کرنے میں مصروف رہے۔ حکومت کی جانب سے عائد پابندی 14 جون کی نصف شب کو ختم ہو جائے گی، جس کے بعد تمل ناڈو کے مختلف ماہی گیری کی بندرگاہوں پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ماہی گیر سمندر میں روانگی سے قبل آخری تیاریوں میں مصروف ہیں۔
بندرگاہ کے افسران اور محکمہ ماہی پروری کی جانب سے بھی کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امکان ہے کہ 15 ہزار سے زیادہ مشینی کشتیوں کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد ماہی گیر سمندر کا رخ کریں گے۔ اس میں چنئی کا کاسیمیڈو، تروولور، چنگل پٹو، ولّوپورم، کڈلور، تنجاور، ترووارور، ناگ پٹنم، مئیلا دوتھورائی، پڈوچیری، کاری کال، پڈوککوٹئی، رام ناتھ پورم، تھوتھوکوڈی، ترو نیل ویلی اور کنیا کماری کے ساحلی علاقے شامل ہیں۔
پابندی ختم ہونے کے بعد مچھلی کے تاجروں، نیلامی کرنے والوں، ٹرانسپورٹرز اور سی فوڈ پروسیسنگ سے وابستہ ملازمین کو بھی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی امید ہے۔ ماہرین کا طویل عرصے سے یہ ماننا ہے کہ مچھلی پکڑنے پر سالانہ پابندی خلیجِ بنگال میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور مچھلیوں کی پائیدار پیداوار کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔