چنئی، 9 جون (ایس او نیوز): تمل ناڈو کی بڑی دراوڑی جماعت ڈی ایم کے (DMK) نے کانگریس کی قیادت والے INDIA اتحاد سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کرنے کے بعد قومی سطح پر بی جے پی مخالف ایک نئے سیاسی محاذ کی تشکیل کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مجوزہ محاذ میں ایسی علاقائی جماعتوں کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جو ایک طرف بی جے پی کی مخالف ہیں اور دوسری طرف کانگریس کے ساتھ بھی اختلافات رکھتی ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈی ایم کے نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اب INDIA اتحاد کا حصہ نہیں رہی اور 8 جون کو نئی دہلی میں منعقدہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا۔ پارٹی نے کانگریس پر "سیاسی بے وفائی" کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس نے ڈی ایم کے اتحاد سے علیحدگی اختیار کرکے وجے کی جماعت ٹی وی کے (TVK) کی حمایت کی، جس سے پارٹی کارکنوں کے جذبات شدید متاثر ہوئے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات کے بعد کانگریس نے اداکار اور سیاست دان وجے کی قیادت والی ٹی وی کے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کیا، جسے ڈی ایم کے قیادت نے اپنے دیرینہ اتحادی کی جانب سے دھوکہ قرار دیا۔ اسی تنازعے کے بعد دونوں جماعتوں کے تعلقات میں نمایاں کشیدگی پیدا ہوئی اور ڈی ایم کے نے پہلے INDIA اتحاد کے اجلاس سے دوری اختیار کی اور پھر اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔
نئے محاذ کی تیاری
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایم کے قیادت گزشتہ کئی ماہ سے ایک متبادل قومی پلیٹ فارم کی تیاری پر غور کررہی تھی۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ تمل ناڈو انتخابات سے پہلے ہی یہ اندازہ لگایا جارہا تھا کہ انتخابات کے بعد کانگریس اور ڈی ایم کے کے راستے جدا ہوسکتے ہیں، اسی لیے پارٹی نے قومی سطح پر متبادل سیاسی روابط استوار کرنا شروع کردیئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ڈی ایم کے اس سلسلے میں متعدد علاقائی جماعتوں سے رابطے میں ہے، جن میں مغربی بنگال کی ترنمول کانگریس (TMC)، بہار کی راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور عام آدمی پارٹی (AAP) شامل ہیں۔ ڈی ایم کے کا ماننا ہے کہ ان جماعتوں کے کانگریس کے ساتھ اپنے اپنے صوبوں میں اختلافات موجود ہیں جبکہ وہ بی جے پی کی بھی مخالف ہیں، اس لیے مستقبل میں ایک وسیع علاقائی اتحاد کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ جماعتیں قومی سطح پر مختلف ایشوز پر الگ الگ انداز میں بی جے پی کی مخالفت جاری رکھیں گی، تاہم اگر سیاسی حالات سازگار رہے تو مستقبل میں علاقائی جماعتوں کا ایک نیا مشترکہ پلیٹ فارم وجود میں آسکتا ہے۔
ایلانگوون کا اشارہ
ڈی ایم کے کے ترجمان ٹی کے ایس ایلانگوون نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ مستقبل میں ایک "مضبوط، سیکولر اور بی جے پی مخالف اتحاد" وجود میں آسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی دیگر اپوزیشن جماعتوں کے فیصلوں پر نظر رکھے گی اور جہاں مشترکہ موقف ہوگا وہاں تعاون پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اس بیان کو سیاسی مبصرین ایک نئے قومی اتحاد کے امکان کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
INDIA اتحاد کے لیے دھچکا
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈی ایم کے کا INDIA اتحاد سے الگ ہونا اپوزیشن اتحاد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ جنوبی ہند میں ڈی ایم کے کو اپوزیشن کی ایک اہم قوت سمجھا جاتا رہا ہے۔ 8 جون کو نئی دہلی میں منعقدہ INDIA اتحاد کے اجلاس میں بھی ڈی ایم کے کی عدم شرکت موضوعِ بحث رہی۔ متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے اتحاد کے اندر بڑھتے اختلافات پر تشویش ظاہر کی اور کانگریس سے علاقائی جماعتوں کے ساتھ زیادہ لچکدار رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے اجلاس میں اتحاد برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، تاہم ڈی ایم کے کی علیحدگی نے یہ سوال ضرور کھڑا کردیا ہے کہ آیا INDIA اتحاد مستقبل میں ایک مضبوط قومی متبادل کے طور پر برقرار رہ سکے گا یا علاقائی جماعتیں الگ راستہ اختیار کریں گی۔
سیاسی اہمیت
مبصرین کے مطابق اگر ڈی ایم کے واقعی ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل اور دیگر علاقائی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو بھارتی سیاست میں ایک نئے "تیسرے محاذ" (Third Front) کے قیام کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، جو نہ صرف بی جے پی بلکہ کانگریس کی قومی سیاست کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم فی الحال یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی کامیابی کا انحصار مختلف علاقائی جماعتوں کی سیاسی ترجیحات اور باہمی تعلقات پر ہوگا۔