کاروار، 19 ستمبر (ایس او نیوز) ریاستی وزیر تعاون اور اتر کنڑا ضلع انچارج وزیر لکشمن ساودی نے افسران کو ہدایت دی ہے کہ عوام کے مسائل موقع پر سن کر ان کے حل کے مقصد سے شروع کیے گئے ’پرجا سیوا‘ آندولن کے تحت موصول ہونے والی درخواستوں کو زیادہ سے زیادہ 15 دن کے اندر نمٹایا جائے۔
وہ ہفتہ کو کمٹہ تعلقہ کے دیوگی میں واقع ہالکّی کمیونٹی ہال میں منعقدہ تعلقہ سطح کے پرجا سیوا آندولن اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں اور افسران کو اس جذبے کے ساتھ کام کرنا چاہیے کہ وہ عوام کے خادم ہیں۔ انتظامیہ کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے مقصد سے وزراء اور اعلیٰ افسران ضلع کے ہوبلی سطح کے علاقوں میں پہنچ کر عوام کی شکایات سن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی خواہش کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔
وزیر نے کہا کہ پرجا سیوا پروگرام کے دوران عوام سے موصول ہونے والی درخواستوں اور شکایات کو 15 دن کے اندر حل کیا جانا چاہیے۔ جو درخواستیں قانونی دائرہ کار میں حل نہیں کی جا سکتیں، ان کے بارے میں مناسب وجہ بتاتے ہوئے تحریری جواب دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی بہانے درخواستوں کو زیر التوا رکھ کر وقت ضائع کرنے کو حکومت برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ تعلقہ اور ہوبلی سطح پر موصول ہونے والی درخواستوں کی پیش رفت کا ضلع سطح کے اجلاسوں کے علاوہ ہر تین ماہ میں منعقد ہونے والے کے ڈی پی اجلاس میں خود جائزہ لیا جائے گا۔
لکشمن ساودی نے کہا کہ اتر کنڑا ضلع کے عوام باشعور ہیں اور اپنے مطالبات باوقار انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کے مسائل کا فوری جواب دیتے ہوئے حل فراہم کرنا افسران کی ذمہ داری ہے۔
کمٹہ کے رکن اسمبلی دینکر کے شٹی نے کہا کہ تعلقہ سطح پر تحصیلدار کی قیادت میں پہلے ہی دو آندولن کامیابی سے منعقد کیے جا چکے ہیں اور اب ضلع سطح پر مسائل کے حل کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضلع کے جنگلاتی علاقوں میں کئی برسوں سے مقیم غریب خاندانوں کو حقوق کے دستاویزات نہ ملنے کی وجہ سے مکانات کی تعمیر میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جی پی ایس سروے مکمل ہونے کے باوجود جن خاندانوں کو مکان یا مویشیوں کے لیے شیڈ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں مل رہی، ان کا مسئلہ کابینہ میں زیر بحث لا کر 3 سے 5 گنٹے زمین پر مکان تعمیر کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
دینکر کے شٹی نے کمٹہ، بھٹکل، ہوناور، انکولہ اور کاروار تعلقہ جات کے لیے الگ نارتھ ویسٹرن کرناٹک روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن سب ڈویژن قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال ڈویژنل دفتر سرسی میں ہونے کی وجہ سے اس علاقے کے عوام کو دشواری ہوتی ہے۔ الگ سب ڈویژن قائم ہونے سے گزشتہ دو برس سے جاری بسوں کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ انہوں نے گوکرن سڑک کو کشادہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
اجلاس میں مختلف محکموں سے متعلق عوام کی جانب سے مجموعی طور پر 412 درخواستیں موصول ہوئیں۔ محکمہ جنگلات اور محکمہ مال کی مختلف اسکیموں کے مستحقین میں سہولیات اور جاب کارڈ بھی تقسیم کیے گئے۔
قومی شاہراہ سے متعلق مسائل کو مقررہ مدت میں حل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیر نے ضلع ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں اس منصوبے کے سلسلے میں الگ اجلاس منعقد کرنے کی بھی ہدایت دی۔
اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا، ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو افسر ڈاکٹر دلیش ششی، ڈپٹی کنزرویٹر آف فاریسٹ یوگیش سی کے، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد ملا، سب ڈویژنل افسر شروَن کمار، ایڈیشنل ایس پی رانو گپتا، تعلقہ گارنٹی اسکیموں کے نفاذ اتھارٹی کے صدر اشوک گوڈا، سابق رکن اسمبلی شاردا شٹی، تحصیلدار کرشنا کامکر سمیت مختلف محکموں کے افسران موجود تھے۔