منگلورو ، 20/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)جمعہ کو مینگلور میں پہلی بار منعقدہ ریاست کے کابینی اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے ہفتہ کی صبح منگلورو ماہی گیری بندرگاہ کا اچانک دورہ کرتے ہوئے ماہی گیروں، مچھلی کے تاجروں اور متعلقہ حکام سے براہِ راست ملاقات کی اور بندرگاہ کی موجودہ صورتحال، ماہی گیروں کو درپیش مسائل اور ترقیاتی ضروریات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کشتی کے ذریعے بندرگاہ کے مختلف حصوں کا معائنہ بھی کیا۔ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ ضلع نگران وزیر یو ٹی قادر اور دیگر مقامی رہنما و عہدیدار موجود تھے۔ اس موقع پر ماہی گیروں کے نمائندوں نے بندرگاہ میں کشتیوں کے لنگرانداز ہونے کی سہولت، ڈریجنگ اور دیگر بنیادی مسائل سے انہیں واقف کرایا۔
ماہی گیروں کے نمائندوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 200 کشتیوں کے لیے جیٹی کی سہولت موجود ہے، تاہم فالگنی ندی، نیتراوتی ندی اور بحیرۂ عرب کے سنگم کے قریب نئی جیٹیوں کی تعمیر سے مزید کشتیوں کو ٹھہرانے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے طویل عرصے سے زیرِ التوا ڈریجنگ کی ضرورت ہے۔ نمائندوں کے مطابق ندیوں اور سمندری دہانے کے بعض حصوں میں گاد جمع ہونے سے کشتیوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے۔
حکام نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ بندرگاہ کے بعض حصوں میں ریت اور گاد جمع ہونے کی وجہ سے گہرائی کم ہوئی ہے۔ گہرے راستوں کی نشاندہی کے لیے مناسب نشانیاں نصب کرنے سے کشتیوں کی آمدورفت کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔
دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ ان کی آمد کے موقع پر بندرگاہ میں معمول کی مچھلی کی تجارت روک دی گئی تھی۔ انہوں نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تجارت بند ہونے سے ماہی گیروں اور تاجروں کے روزگار پر اثر پڑتا ہے اور معمول کی سرگرمیاں بلاوجہ متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔
بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیوکمار نے کہا کہ بندرگاہ کی سرگرمیاں کس وجہ سے روکی گئیں، اس بارے میں ڈپٹی کمشنر اور پولیس کمشنر سے رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے میں کسی افسر کی ذمہ داری ثابت ہوئی تو کارروائی کی جائے گی، جبکہ بے ضابطگیوں کو چھپانے کے لیے سرگرمیاں روکنے کی کوشش ثابت ہونے پر بھی مناسب اقدام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ماہی گیروں، تاجروں اور مچھلی کے کاروبار سے وابستہ افراد کی حقیقی صورتحال کو براہِ راست سمجھنا ہے اور اس کے لیے غیر ضروری حفاظتی انتظامات کے بجائے زمینی حقائق جاننا ضروری ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں کاروبار کے لیے آتے ہیں، اس لیے انہیں بنیادی سہولتیں فراہم کرنا اور آمدورفت کو آسان بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے بندرگاہ کے اطراف سڑکوں کی رکاوٹ اور مبینہ غیر قانونی احاطہ بندی کا بھی نوٹس لیا۔
ان کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ان کی حیثیت سے قطع نظر کارروائی کی جائے گی۔ اگر کسی جگہ نجی ملکیت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو متعلقہ دستاویزات کی جانچ کے بعد قانونی طور پر ضروری قدم اٹھایا جائے گا اور ترقیاتی کاموں کے لیے مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
چھوٹے ماہی گیروں کی کشتیوں کو کھڑا کرنے سے متعلق مسائل کے بارے میں شیوکمار نے کہا کہ ضلع نگران وزیر اور متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد اس سلسلے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماہی گیر ایک بڑا برادری گروپ ہے اور مختلف طبقات کے لوگ باہمی ہم آہنگی کے ساتھ اس شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ماہی گیری کو خطے کی معاشی سرگرمیوں کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے اس شعبے کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ماہی گیری کے شعبے سے متعلق ایک علیحدہ یونیورسٹی کے قیام پر غور کر رہی ہے اور موجودہ تقریباً 40 تا 50 نشستوں کو بڑھا کر 200 کرنے کی سمت میں بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ تعلیم، سمندری نقل و حمل اور نیلی معیشت کو فروغ دینے سے متعلق حکومت کی پالیسی کا بھی انہوں نے ذکر کیا۔
شیوکمار نے کہا کہ حکومت نے مجموعی طور پر تقریباً 32 ہزار کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جن میں سے 16 ہزار کروڑ روپے دیہی علاقوں میں سڑکوں، پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مَنگلورو اور کاروار سمیت ساحلی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں سے متعلق جامع رپورٹ تیار کی جائے گی اور سمندر سے وابستہ ماہی گیر خاندانوں کو ضروری تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر بعض ماہی گیر یا متعلقہ افراد اپنی مشکلات براہِ راست بیان نہ کرسکیں تو ان سے متعلق معلومات خفیہ طور پر حاصل کی جائیں گی تاکہ کسی غیر قانونی دباؤ یا استحصال کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا جاسکے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ تجارت اور کاروباری سرگرمیاں قانونی اور منصفانہ انداز میں جاری رہیں اور ماہی گیر برادری کی معاشی ترقی ہو۔
سمندری دہانے پر طویل عرصے سے گاد جمع ہونے اور اس کے نتیجے میں کشتیوں کو درپیش خطرات کے بارے میں سوال پر شیوکمار نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے علم میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاد نکالنے اور اسے ٹھکانے لگانے کے مختلف طریقوں پر تجاویز موصول ہوئی ہیں اور اس سلسلے میں مرکزی تکنیکی کمیٹی کی رائے بھی حاصل کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے گی کہ ڈریجنگ کا کام ٹھیکے یا لیز کے ذریعے کرایا جائے یا حکومت خود مشینری اور کشتیاں حاصل کرکے یہ کام انجام دے۔ ان کے مطابق ماضی میں حکومت کی جانب سے گاد نکالنے کا انتظام موجود تھا، تاہم فی الحال وہ نظام برقرار نہیں ہے۔
ساحلی خطے کی ترقی سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ساحل صرف ریاست کا اثاثہ نہیں بلکہ ملک کی معیشت اور وسائل کا بھی اہم حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت منگلورو اور پورے ساحلی خطے کی ترقی کے لیے نئی پالیسیوں پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے، بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے اور قانونی دائرے میں عوامی و نجی شراکت داری کے ذریعے مناسب مقامات پر ضروری سہولتیں تیار کرنے کی بات بھی کہی۔
اپوزیشن کی جانب سے ان کے مَنگلورو دورے کو مچھلی کھانے سے جوڑے جانے کے سوال پر شیوکمار نے کہا کہ وہ کئی برسوں سے مچھلی نہیں کھاتے اور ان کے مطابق ان کا دورہ ساحلی خطے کی ترقی اور مسائل کے جائزے سے متعلق ہے۔
تُلو کو کرناٹک کے جنوبی ساحلی اضلاع میں دوسری اضافی انتظامی زبان کا درجہ دیے جانے کے بارے میں شیوکمار نے کہا کہ تُلو اس خطے کے لوگوں کے لیے فخر کی علامت ہے اور اس سے متعلق مطالبہ طویل عرصے سے موجود تھا۔ حکومت نے مَنگلورو میں منعقدہ خصوصی کابینہ اجلاس میں اس سلسلے میں فیصلہ کیا۔
کستوری رنگن رپورٹ کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے پر خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے اور اس سے قبل وہ متاثرہ علاقوں کے عوام کی رائے جاننے کے لیے مختلف مقامات کا دورہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی مرکز کی جانب سے جاری متعلقہ اعلامیے کے بارے میں حکومت کے آئندہ موقف کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کے مطابق حکومت کے لیے مقامی لوگوں کی روزی روٹی اور مفادات اہم ہیں اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جو اقدامات ممکن ہوں گے، وہ کیے جائیں گے۔ کرناٹک حکومت نے کستوری رنگن رپورٹ کے نفاذ کے معاملے پر عوامی مشاورت اور خصوصی اسمبلی اجلاس کے تناظر میں اپنا موقف واضح کیا ہے۔ حکومتی ضمانتی اسکیموں اور کابینہ کے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل سے متعلق سوال پر شیوکمار نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے وعدوں کے مطابق کام کرے گی اور یہی اس کی طاقت ہے۔