شیموگہ ، 20/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) مغربی گھاٹ سے متعلق کستوری رنگن رپورٹ کے نفاذ کے معاملے پر شیموگہ ضلع کے تیرتھ ہلی میں ہفتہ کو منعقدہ عوامی مکالمے میں مقامی باشندوں، کسانوں، ماہرین اور عوامی نمائندوں کی جانب سے رپورٹ کے نفاذ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی زیر قیادت منعقدہ اس پروگرام میں شرکا نے مطالبہ کیا کہ مَلناڈ خطے کے کسانوں اور رہائشیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے رپورٹ کے نفاذ سے قبل تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے۔
شیموگہ سپاری کاشت کار تنظیم کے صدر رمیش ہیگڈے نے کہا کہ کرناٹک جنگلات قانون 1963، جنگلی حیات تحفظ قانون 1972 اور 1980 کے متعلقہ قوانین پہلے ہی نافذ ہیں، جبکہ ریونیو اراضی سے متعلق متعدد قوانین کے باعث مَلناڈ کے باشندوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق کستوری رنگن رپورٹ نافذ ہونے کی صورت میں مقامی آبادی اور کسانوں کے روزگار سے متعلق مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں جائیداد کے حقوق کو متاثر نہ ہونے کی بات کہی گئی ہے، تاہم بگَر حُکُم اور دیگر زمروں کے تحت زمین رکھنے والے افراد کے بارے میں صورتِ حال واضح نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ایسے تمام معاملات پر واضح موقف سامنے آنا چاہیے۔
ریاستی وزیر مدھو بنگارپا نے کہا کہ حکومت نے بگَر حُکُم اور ’’کاشت کرنے والے کو زمین‘‘ جیسے اقدامات کے ذریعے لوگوں کے زمین سے متعلق حقوق کے تحفظ کی کوشش کی ہے، تاہم اب زمین سے محرومی کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے مرکز سے اس معاملے میں مناسب فیصلہ کرنے کی اپیل کی۔
رکن پارلیمان بی۔ وائی۔ راگھویندر نے کہا کہ مَلناڈ کے لوگوں نے جنگلات کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ کی مخالفت کے ساتھ ساتھ مَلناڈ کے کسانوں اور زمین رکھنے والے خاندانوں سے متعلق مکمل معلومات مرکز کو فراہم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے سروے نمبر، رہائشی مقامات اور دیگر متعلقہ تفصیلات سرکاری ریکارڈ کے ساتھ پیش کرنے کی تجویز دی۔
سابق رکن اسمبلی کِمّنے رتن اکر نے کہا کہ ریاست کے تمام ارکان پارلیمان کو کستوری رنگن رپورٹ کے معاملے پر مَلناڈ کے عوام کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس مسئلے پر تفصیلی غور و خوض کی ضرورت ہے۔
زرعی ماہر کمّارڈی پرکاش نے تین روزہ خصوصی اسمبلی اجلاس میں کستوری رنگن رپورٹ پر تفصیلی بحث کے فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغربی گھاٹ سے وابستہ چھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ایک ساتھ بٹھا کر مشترکہ موقف تشکیل دینے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کسانوں کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔
کرناٹک حکومت نے 21 سے 23 ستمبر تک خصوصی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں کستوری رنگن رپورٹ اور ریاست کی خشک سالی سمیت متعلقہ امور پر بحث متوقع ہے۔
کسان رہنما راجندر کمّالگیرے نے رپورٹ کی تیاری اور اس کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات کے تحفظ کے ساتھ مقامی آبادی کے مفادات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت کے ساتھ تعاون کا اظہار کرتے ہوئے مرکز تک مَلناڈ کے عوام کے خدشات پہنچانے کی اپیل کی۔
رکن اسمبلی آرگا گیانندر نے بھی رپورٹ کے نفاذ کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ماضی میں مرکزی حکومت کے متعلقہ وزیر کے سامنے بھی مَلناڈ کے دیہات پر اس کے ممکنہ اثرات کا مسئلہ اٹھانے کا دعویٰ کیا۔
مَلناڈ ترقیاتی اتھارٹی کے صدر منجوناتھ گوڈا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار کے مَلناڈ کے دورے اور عوام سے براہِ راست مکالمے سے مقامی لوگوں کے خدشات کو حکومت کے سامنے رکھنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے بارے میں کئی معاملات پر عوامی سطح پر بحث جاری ہے، اس لیے اس کے نکات اور ممکنہ اثرات کو مکمل طور پر سمجھنا ضروری ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ کے عوام کے درمیان گھل مل کر مسائل سننے کو بھی سراہا اور کہا کہ اس سے ان کے بارے میں مقامی لوگوں کے تاثرات میں تبدیلی آئی ہے۔
رکن اسمبلی بیلور گوپال کرشنا نے کہا کہ مَلناڈ کے علاقے کو جنگلی بھینس، ہاتھی، بندر، جڑ کی بیماری اور پتوں پر داغ کی بیماری جیسے مختلف مسائل کا سامنا ہے، اور اب کستوری رنگن رپورٹ بھی عوامی تشویش کا موضوع بن گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے حلقے کے 457 دیہات رپورٹ سے متعلق خدشات کی زد میں ہیں اور اس لیے تمام فریقوں کو مل کر عوام کی تشویش دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کستوری رنگن رپورٹ کے بارے میں کرناٹک حکومت پہلے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔ حالیہ سرکاری موقف کے مطابق ریاست رپورٹ کے نفاذ کی مخالفت کر رہی ہے، جبکہ 21 سے 23 ستمبر کے خصوصی اجلاس میں اس معاملے پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔