ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک کابینہ کا بڑا فیصلہ: تُلو زبان کو اُڈپی اور دکشن کنڑا میں دوسری اضافی انتظامی زبان کا درجہ

کرناٹک کابینہ کا بڑا فیصلہ: تُلو زبان کو اُڈپی اور دکشن کنڑا میں دوسری اضافی انتظامی زبان کا درجہ

Sat, 19 Sep 2026 12:19:54    S O News
کرناٹک کابینہ کا بڑا فیصلہ: تُلو زبان کو اُڈپی اور دکشن کنڑا میں دوسری اضافی انتظامی زبان کا درجہ

منگلورو ، 19/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی ) کرناٹک حکومت نے ریاست میں تُلو زبان کو دوسری اضافی انتظامی زبان کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی صدارت میں منگلورو میں منعقدہ ریاستی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر تقریباً 32,611 کروڑ روپے مالیت کے مختلف منصوبوں اور تجاویز کو منظوری دی گئی، جن میں دیہی ترقی، بنیادی ڈھانچے، سیاحت، ماہی گیری اور صحت کے شعبوں سے متعلق منصوبے شامل ہیں۔

کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بتایا کہ منظور شدہ رقم میں تقریباً 16,000 کروڑ روپے دیہی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ باقی رقم منگلورو، اُڈپی اور دیگر ساحلی علاقوں سے متعلق ترقیاتی اقدامات پر خرچ کی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اُڈپی اور دکشن کنڑا اضلاع میں تُلو کو دوسری انتظامی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جارہا تھا اور حکومت نے عوام کے جذبات اور مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تُلو کو اُڈپی اور دکشن کنڑا اضلاع تک محدود رکھتے ہوئے ریاست کی اضافی انتظامی زبان کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

اس فیصلے کے سلسلے میں سابق وزیر بی رماناتھ رائے کی جانب سے کیے گئے مطالبے کا بھی انہوں نے ذکر کیا اور وزیر یو ٹی قادر، رکن اسمبلی اشوک کمار رائے سمیت دیگر عوامی نمائندوں کی کوششوں کا حوالہ دیا۔

دکشن کنڑا ضلع کا نام تبدیل کرکے منگلورو ضلع رکھنے کے امکان پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے میں عوام کی رائے حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مسودہ اعلامیہ جاری کرکے ایک ماہ کا وقت دیا جائے گا اور عوامی رائے اور تجاویز حاصل کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

کابینہ نے ساحلی اور ملناڈ کرناٹک سیاحتی پالیسی 2026 کو بھی منظوری دی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق نئی پالیسی سابقہ پالیسیوں سے مختلف ہوگی اور اس کے تحت سرمایہ کاروں کو زیادہ سہولتیں، قرضوں کی ادائیگی کے لیے اضافی وقت اور دیگر مراعات فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساحلی اور ملناڈ علاقوں میں سیاحتی منصوبوں کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے طور پر فروغ دینے کی کوشش کی جائے گی، جس سے اس خطے میں سیاحت سے متعلق سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

وزیر اعلیٰ نے ماہی گیری کے شعبے میں ماہی گیری اور نیلی معیشت کی یونیورسٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ ماہی گیری کالج میں طلبہ کی نشستوں کی تعداد 60 سے بڑھا کر 200 کی جائے گی۔

صحت کے شعبے سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی کنڑ خطے میں کِڈوائی اور جئے دیو اسپتالوں کی سہولتوں سے متعلق مطالبات بھی سامنے آئے ہیں۔ پتور میں طبی کالج کے قیام کے لیے 549 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔

بنگلورو سے باہر پہلی مرتبہ منگلورو میں کابینہ اجلاس منعقد کیے جانے کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت آئندہ 15 ماہ کے دوران 10 سے 12 مقامات پر کابینہ اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق جہاں ضرورت اور صلاحیت موجود ہوگی، وہاں کابینہ اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ’’مکمل کرناٹک، خوشحال کرناٹک‘‘ کی سمت میں کام کرنا ہے اور ریاست کے مختلف علاقوں کی متوازن ترقی پر توجہ دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے دکشن کنڑ اکو مذہبی، تعلیمی اور اقتصادی اعتبار سے اہم ضلع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خطہ ملک کو کئی بڑے قومی بینک دینے کے علاوہ بندرگاہ، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساحلی اضلاع کے لیے منظور کیے گئے ترقیاتی اقدامات کو ریاست کے دیگر حصوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔

انہوں نے جنوبی کنڑ کے عوام کی جانب سے کیے گئے استقبال اور تعاون پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کی ترقی کے لیے پہلی مرتبہ یہاں کابینہ اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی، ارکان پارلیمنٹ اور قانون ساز کونسل کے ارکان نے بھی ضلع کی ترقی کے لیے تجاویز اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ کستوری رنگن رپورٹ سے متعلق متاثرہ علاقوں کے عوام سے رائے حاصل کرنے کے لیے ملاقاتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیبری میں اجلاس کے بعد شیو موگہ اور چکمگلورو اضلاع میں بھی عوامی رائے حاصل کی جائے گی۔ کستوری رنگن رپورٹ سے متعلق کرناٹک حکومت کے موقف اور متاثرہ علاقوں کے عوامی خدشات پر بھی ان اجلاسوں میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تُلو زبان کے بارے میں ساحلی علاقے کے عوام کے جذبات کو طویل عرصے سے محسوس کیا جارہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پتور کے رکن اسمبلی اشوک کمار رائے نے اسمبلی رکن بننے کے بعد ایوان میں جو ابتدائی سوالات اٹھائے، ان میں تُلو زبان سے متعلق سوال بھی شامل تھا۔ انہوں نے وزیر یو ٹی قادر اور دیگر نمائندوں کی جانب سے تُلو زبان کے مطالبے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

منگلورو میں منعقدہ کابینہ اجلاس کو ریاستی حکومت کی جانب سے بنگلورو سے باہر فیصلہ سازی اور علاقائی ترقی پر توجہ دینے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ساحلی علاقوں کی ترقی، سیاحت، دیہی بنیادی ڈھانچے، ماہی گیری، صحت اور زبان سے متعلق متعدد فیصلے کیے گئے۔


Share: